بات اس  پر کیجیے کہ میں نے اپنے دور میں اسلامک کلچرل سینٹر کو کیا دیا ، ہمارا اگلا ہدف توسیع کا ہے / سراج الدین قریشی

مثبت انتخابی مہم سے بھی الیکشن جیتا جا سکتا ہے  یہ ثابت کرنے کی پہل  کون پہل کرے

Asia Times Desk

نئی دہلی:(ایشیا ٹائمز) پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخاب کے ساتھ قومی راجدھانی دہلی میں ایک اور اہم  انتخابی مہم جاری ہے ، یہ لودھی روڈ واقع  انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر ہے جس کے صدر نائب صدر بورڈ ٹرسٹیز اور ایکزیکیوٹیوممبران کاچناو آنے والی 6 جنوری کو ہوگا ۔

تیس نومبر کی شام  بٹلہ ہاوس جامعہ نگر میں سلیبریشن ہال میں موجودہ صدر سراج الدین قریشی نے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا ، اس موقع پر مقررین نے سراج الدین قریشی پینل کے حق میں ووٹ ڈالنے کی پرزور اپیل کی ، ان کے طویل صدارتی دور کی اہم کامیابیوں کا ذکر آیا ،

مقررین نے کہا کہ مد مقابل صدارتی امیدوارکے تئیں ہمارے دلوں میں احترام ہے لیکن ان کے اطراف جو لوگ جمع ہوگئے ہیں ان سے ضرور سوال کیا جاناچاہئے کہ وہ اپنا کیا وزن رکھتے ہیں ، دیکھنے میں تو یہ آیا ہے کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کو مختلف اوقات میں اہم سیاسی ذمہ دار یاں ملیں لیکن انہوں مسلم اقلیتوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔  ہم  قطعی نہیں چاہتے کہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کا وقار مجروح ہو ،

آپ کو بتادیں کہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے قیام کا خیال ایک پروگرام کے موقع پر سابق وزیر اعظم اندراگاندھی کے سامنے لایا گیا تھا جسے انہوں نے پسند کیا اور پھر ایک سوسائٹی کا رجسٹریشن  اپریل 1981 میں کیا گیا ، حکیم عبدالحمید پہلے صدر ہوئے ،ان کے علاوہ  6 اور لوگ اولین ٹیم کا حصہ بنے ۔  24 اگست 1984 کو سابق وزیر اعظم اندراگندھی نے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور 12 جون 2006 کو سونیا گاندھی نے اس عمارت کا افتتاح کیا ۔

اس موقع پر سراج الدین قریشی نے سراج الدین قریشی نے ایشیا ٹائمز سے گفتگو میں  کہا  کہ میں نے اسلامک سینٹر کی توسیع و ترقی کے لیے کوئی کوتاہی نہیں کی ، اسے عالمی معیار کا سینٹر بنا نے کی پوری کوشش کی ، اسے ملی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا یا ہے اب ہمارا اگلا ہدف اس کی توسیع کا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے سینٹر کے لیے کام کیا ہے ، یہاں ممبران کی اتنی بڑی تعداد جمع ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ مجھے میرے کام سے جانتے ہیں اور میرا ساتھ دے رہے ہیں ۔

انہوں نے اپنے خلاف کسی بھی طرح کی منفی مہم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ ایک شخص کتنے عرصے سے ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اس نے سینٹر کو دیا کیا ہے ، بات اس پر ہونی چاہئے ، ممبران اچھی طرح  جانتے ہیں کہ سراج االدین قریشی نے سینٹر کی شناخت کو بلندیوں تک لے جانے میں اپنی پوری توانائی صرف کی ہے ،اسی لیے مجھے پورا یقین ہے کہ ہم آنے والی 7 جنوری کو انشا اللہ کامیابی سے ہم کنار ہوں گے ۔

واضح ہو کہ اس پینل میں سراج الدین قریشی صدر ، سابق بیورو کریٹ ایس ایم خان نائب صدر کے علاوہ 7 بورڈ ٹرسٹیز ہوں گے  ،ممبر آف  بورڈ ٹرسٹیز کے لیے ابرار احمد آئی آر ایس ، ابو ذر حسین خان ، احمد رضا ،جمشید زیدی ۔نثار احمد ، محمد شمیم ، شرافت اللہ اور  ایگزیکیٹیو ممبر کے لیے چار نام  بدرالدین خان ،بہار یو برقی ، شہانہ بیگم ،سکندر حیات کے نام شامل ہیں ۔

انتخابات کے لیے ابھی کافی وقت ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ اس درمیان سراج الدین قریشی اور ان کی ٹیم اپنی کار گزاریوں سے ممبران  کو کس قدر مطمئن کر پاتی ہے ؟

قارئین کو یہ بتادیں کہ یہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کا الیکشن ہے لیکن اس درمیان ہم سب نے جس طرح کی غیر معیاری زبان کا استعمال دیکھا ہے یہ  مناسب نہیں ہے ، دونوں صدارتی امیدواروں کو چاہئے کہ وہ اپنے گروپوں کو پابند کریں کہ الیکشن کو طنز و تشنیع کا ذریعہ بنانے اور ذاتیات پر تبصرہ کے  بجائے اپنا اپنا واضح ترقیاتی ایجنڈہ پیش کریں۔ سبھی حلقے  انتخابی ضابطہ اخلاق کا خود کو پابند بنائیں ۔ تاکہ ایک مثالی انتخاب قرار دیا جا سکے۔ مثبت انتخابی مہم سے بھی الیکشن جیتا جا سکتا ہے  یہ ثابت کرنے کے لیے کون پہل کرے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *