ہندوستان کے لیے ‘چا بہار بندرگاہ’ کی اہمیت

اشرف علی بستوی 

Asia Times Desk

خطے میں چین کے بڑھتےاثرات پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی

ہند ایران تعلقات پربات ہو اورچا بہار بندرگاہ کا ذکر نہ آئے ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن چا بہاربندرگاہ پروجیکٹ کوبڑا دھچکا اس وقت لگا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری توانا ئی سمجھوتے سےالگ ہونے کا اعلان کردیا تھا ۔ چا بہار جنوب مشرقی ایران کے سیستان – بلوچستان صوبے میں واقع ہے ،اس بندرگاہ سے خلیج فارس کے باہر سے ہندوستان کے مغربی ساحل تک پہونچنا کافی آسان ہے ، اس سے نقل و حمل پر آنے والا خرچ تقریبا ایک تہائی تک کم ہوجائے گا ۔ ہند وستان اور ایران کے مابین چاہ بہار بندرگاہ کی توسیع کا  سمجھوتہ 2003 میں ہوا تھا، ہندوستان ایران اور افغانستان کے درمیان مئی  2016 میں  تینوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان  اس سمجھوتے پر سہ رخی گفتگو ہوئی تھی ۔

 ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے بعد سے ہندوستان نے اس پر تیزی سے کام شروع کیا تھا ۔ دراصل اس سمجھوتے کی وجہ سے ہی ہندوستان سے ایران کے رشتے مزید بہتر ہوئے تھے۔ لیکن اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  کی جانب سے سمجھوتے کوکالعدم قرارا دیے جانے کے بعد سے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ایران کے رشتوں پر منفی اثر پڑا ہے ۔ چا بہار بندر گاہ بھی اس کی زد میں آیا ہے ۔ ہندوستان نے چا بہار بندر گاہ میں پانچ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کی ہے،  یہ بندرگاہ ہندوستان کے لیے کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے ۔

ہندوستان کو چابہار بندر گاہ سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے ذریعے ہندوستان کے لیے افغا نستان اور وسطی ایشیا کے بازار تک رسائی آسان ہو جائے گی ۔ یہ ہندوستان کے لیے اسٹریٹجیک لحاظ سے بھی کافی اہم سمجھا جاتا ہے ۔ اسے باب ہرمز بھی کہا جاتا ہے ، اس کی خاص بات یہ ہے کہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کو باہم مربوط کرتا ہے ۔ سابق وزیر خارجہ شسما سوراج نے 2017 میں پہلی بار افغانستان کے لیے 11 لاکھ ٹن گیہوں اسی راستے روانہ کیا تھا ۔ یہاں سے ہر برس ایک لاکھ جہاز گزرتے ہیں ، یہ تیل کے کاروبار کے لیے بہت مناسب بندرگاہ ہے ۔ روزانہ تقریبا 17 ارب بیرل تیل یہاں سے ہوکر گزرتا ہے ۔ ہندوستان چابہار سے کئی طرح کے فائدے حاصل کرسکتاہے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہندوستان کو مشرق وسطی تک بہت ہی مختصر فاصلے کی تجارت حاصل ہو جائے گی جس سے عرب ممالک سے تجارتی تعلقات کے ذریعے ہندوستان اپنی معیشیت کو تیز کر سکے گا ۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آسیان ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی روابط میں بہت تیزی آ جائے گی ۔

ہندوستان کے تعلقات ایران اور افغانستان سے مضبوط ہوں گے ،ہندوستان ایران سے سستی توانائی حاصل کر سکے گا ، خطے میں چین کے بڑھتےاثرات پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی ، معلوم ہو کہ چین پاکستان میں گوادر بندرگاہ کے توسیعی منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ، پاکستان کا یہ بندرگاہ چا بہار کی طرح ہی اہمیت کا حامل ہے اور یہ چاہ بہار سے محض 100 کلومیٹر کی دوری پرہے ۔

چین اپنی سرمایہ کاری کے ذریعے اس کی توسیع وسیع کر رہا ہے  جسے چین اپنے مخصوص تجارتی و دفاعی مفادات کے تحت شروع کیے گئے سی پیک یعنی چین پاکستان اقتصادی کاریڈورمنصوبےکے تحت ترقی دے رہا ہے، شاید اس لیے پاکستان چابہار بندرگاہ کے منصوبے کو حریفانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ نیزہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چابہار معاہدہ ہندوستان، ایران اور افغانستان تینوں کے لیے سنہرےتجارتی مواقع کا ایک اہم باب بن کر ابھر رہا ہے۔ ہندوستان کو امید ہے کہ چابہار کی صورت میں اسے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ ہندوستان اسے شمال جنوب کی راہداری کہتاہے اس راستے سےہندوستان کو روس اور اس کے ساتھ یورپ تک رسائی حاصل ہو جائے گی ۔ ہندوستان کے سامنے چا بہار کی شکل میں ایک طرف اتنا بڑا موقع ہے تو دوسری جانب امریکہ کی ناراضگی کا خوف ہندوستان کو چاہئے کہ وہ اپنے ،ملکی مفاد میں دونوں کے درمیان متوازن سفارت کاری سے کام لے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *