ہند- امریکہ تعلقات اہم موڑ پر

فرینک اسلام

Asia Times Desk

وزیر اعظم نریندر مودی کا ہندوستان کا دوبارہ وزیراعظم بننا ہندوستان اور امریکہ سے تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟اگر وہ اپنی حکومت کے پہلے مرحلہ کی حکمت عملی پر گامزن رہتے ہیں توہندوستان اور امریکہ کے مابین رشتوں اور حالیہ اسٹریٹجک پارٹنر شپ جو کہ ابھی تشکیلی مرحلہ میں ہے کو مستحکم کرنے کے لئے کوشاں رہیں گے۔

بہت سارے عوامل ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ رشتوں میں ارتقاءکا یہ عمل کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ اور اس میں مودی کا قائدانہ انداز،ہندوستان کی معاشی ترقی کے لیے شریک کار اورامریکہ کے حمایتی ہونے کے لیے ایک مضبوط بنیادکی ضرورت اس میں شامل ہے۔

وزیر اعظم مودی اپنے پیش رووؤں کے برخلاف دوسرے ممالک سے تعلقات استوار کرنے اور ان کو حمایتی بنانے کے لیے پر عزم رہے ہیں۔ کارنیگی اینڈووؤنمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی ایشلے جے ٹیلس کے مطابق۔۔۔”مودی ہندوستان کے مقام و مرتبہ اور قوت میں اضافہ کے لیے ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت کی امید میں اقوام متحدہ (جاپان، اسرائیل ، جرمنی اور فرانس) تک کوشاں رہتے ہیں۔

سب سے بڑا چیلنج جو کہ ہندوستان کو عالمی اسٹیج پر بڑا کردار ادا کرنے سے روک رہا ہے وہ ملک میں معاشی مواقع، تعلیم ، حفظان صحت و آب وہوا کی تبدیلی کے میدانوں میں بامعنی ترقی کی ضرورت ہے۔

مودی نے ان تمام میدانوں میں اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا تھا لیکن ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے اور وہ ہندوستان اکیلے نہیں کرسکتا۔اس کے لیے امریکہ کے بشمول بین الاقوامی برادری سے خصوصی تعاون اور سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

ایسا نہیں کے کہ مودی کے دور حکومت میں خارجی شراکت اور داخلی ترقی کے درمیان کی کڑی ٹوٹ گئی ہے۔ الیکشن کا نتیجہ آنے کے کچھ ہی دن بعد ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی نے ہندوستان کے کامرس اورانڈسٹری کے وزیر کو ایک رپورٹ سونپی ہے جس میں ہندوستان کے محصولات کے نظام کو مزید مناسب اور متوقع بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ایمپاورڈ انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

امریکہ میں یویس چیمبرس آف کامرس کے تحت یوایس انڈیا بزنس کونسل جیسے گروپ بھی دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی کافی حمایت کررہے ہیں۔

کونسل کی صدر نیشا بسوال نے وزیر اعظم مودی کی صلاحیتوں ستائش کرتے ہوئے کہاکہ “ہندوستانی مارکیٹ کی وسیع تر ترقی کی صلاحیت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جانا ابھی باقی ہے۔”

اس کے علاوہ میرے جیسے ہند نڑاد امریکی ہیں جو اس ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے دونوں ممالک کو قریب لانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک مضبوط اور بہتر اسٹرٹجک شراکت کی دوسری شرائط پہلے سے پوری ہیں۔ اسٹیٹ فار ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشیاءکے پرنسپل ڈپٹی اسٹنٹ سکریٹری الائس ویلس کے مطابق سال 2018میں “جس طرح ہم نے دوسرے میدانوں میں مضبوط روابط بنائے اسی طرح امریکہ اور ہندوستان کے مابین بہتر تعلقات کے لیے یہ تاریخی سال تھا۔ “

ان سب کو اگر ملا کر دیکھیں تو شاید ایسا محسو س ہو کہ امریکہ کے ساتھ ایک بہتر اسٹرٹجک تعلقات کا معاہدہ ہوچکا ہے۔ لیکن بدقسمی سے ایسا ہونا اتنا آسان نہیں ہے۔ گرچہ اس میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن ہندوستان اور امریکہ کے رشتوں میں گزشتہ چند مہینوں میں کئی مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کی 3 اپریل کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ محصولات کی پالیسیوں پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ محصولات پر سب سے زیادہ کشیدگی اس وقت دیکھنے کو ملی جب 3مارچ کو صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ ہندوستان کی جی ایس پی کی اہلیت کو ختم کررہے ہیں اورمحض کچھ مخصوص ہندوستانی برآمدات کو بغیر کسی محصول کے امریکہ میں آنے کی اجازت دیں گے۔

جی ایس پی کا درجہ مکمل طور سے 5جون کو ختم ہوا جس کی وجہ سے ہندوستانی سامانوں پر امریکہ میں محصولات کا خرچ 300 ملین آیا اور اس کی وجہ سے باہمی تعلقات میں مزید سردمہری آگئی۔ جس کے جواب میں ہندوستان نے بھی 28 امریکی مصنوعات پر اتوار کو محصول عائد کردیا۔

ہندوستان اور امریکہ کے رشتوں میں الجھن کا ایک دوسرا عنصر امریکہ اور چین کے درمیان جاری اقتصادی جنگ بھی ہے۔ محصولات پر ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے والی یہ جنگ نے امریکہ کی طرف سے جو کاروبار اور سرمایہ کاری چین میں ہوتی تھی اس کا رخ ہندوستان کی طرف موڑ کر ہندوستان کے لیے کافی مواقع بھی پیدا کئے ہیں۔

ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات اس وقت ایک اہم موڑ پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چیلجنز کے باوجود ایسے مواقع بھی موجود ہیں جن سے مثبت نتائج کے لیے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ مودی کی دوبارہ جیت سے وہ اہم موڑ اب بالکل سامنے آکھڑا ہوا ہے۔

ضرورت اس بات کہ ہے شراکت کو مزید آگے بڑھانے کی غرض سے باہمی تعاون کے ایک نظام کی تشکیل کے لیے امریکہ اور انڈیا کے نمائندے ایک ساتھ آگے آئیں۔

باہمی تعاون میں صرف ایک رکاوٹ آسکتی ہے اور وہ امریکہ صدر ٹرمپ ہیں جو کہ تفصیلا ت میں کم جاتے ہیں اور ان کے کام کرنے کے انداز میں حکمت عملی کم اور ردعمل کی نفسیات زیادہ کارفرما ہوتی ہے۔

ایسا کوئی قدم امریکہ کی اسٹرٹجک شراکت داری کے لیے مہلک ہوگا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں اس شراکت داری کواس وقت تک جاری رکھنے کا بیڑہ سنبھالنا ہوگا جب تک کہ کوئی نیا فرد اس ذمہ داری کو سنبھال نہ لے۔

٭(فرینک ایف اسلام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک کامیاب ہند نڑاد تاجر، مخیر اور مصنف ہیں۔ ان سے ان کے ای میل کے ذریعہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ffislam@verizon.net(

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *