مسلم لیڈرشپ گزشتہ چاربرس میں کوئی خاکہ کیوں نہیں تیارکر سکی ؟

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

مئی 2014 میں مرکز میں این ڈی اے حکومت آنے کے بعد سے ہر سال مئی کا مہینہ اپوزیشن کے لیے مرکزی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور حکومتی حلقوں کے لیے اپنی حصول یابیوں کو گنوانے میں گزرتاہے۔ مسلمانوں کے سیاسی و سماجی حلقے بھی مرکزی حکومت کی  چارسالہ کار کردگی پر مذاکروں ، مباحثوں اور تجزیوں میں گزارتے   ہیں . اس درمیان مودی حکومت ہاتھی کی چال جاری ہے. حکومت کو اپوزیشن کے اعتراضات سے کوئی لینا دینا نہیں ، اپنے طے شدہ ایجینڈے پر قدم بڑھائے جا رہی ہے،

تعلیم کا بھگوا کرن ، ہندوستان کی تاریخ وثقافت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، ہندوتو وادی نظریے کی توسیع کے لیے جارحانہ طرز عمل اپنانا اس کے ایجینڈے میں سر فہرست ہے۔ مودی حکومت کا یہ عمل غیر متوقع اور حیران کن نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ  سبھی جانتے    ہیں کہ یہ حکومت ایک خاص نظریے کی پیروکار ہے۔اپنے طے شدہ ایک ایک ایجینڈے پر قدم بہ قدم بڑھ رہی ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے یہ تو اول روز سے ہی عیاں تھا کہ یہ حکومت کس طرح کی طرز حکمرانی میں یقین رکھتی ہے۔

آسام  میں آج  جو کچھ ہو رہا    ہے یہ کام سونو وال کا نہیں ہے بلکہ اس کا خاکہ 2014 کے عام انتخابات میں  خودوزیر اعظم نریندر مودی نے پیش کیا تھا انہوں نے آسام میں ایک انتخابی ریلی میں جس منصوبے کا اعلان کیا تھا ، سونو وال اسی کو  آگے بڑھا رہے ہیں۔

اہل علم و دانش کا وہ طبقہ جو 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے فورا بعد ممکنہ چینلنجوں کو مذاکروں مباحثوں اور تجزیوں کے ذریعے پیش کیا تھا حالات سے نمٹنے کے لیے کچھ عملی تدابیر اپنانے کی بات کی تھی۔ ان کے لیے . یہ وقت مودی حکومت کا احتساب لینے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کا بھی ہے ، وہ یہ دیکھیں کہ انہوں نے اپنے مذاکروں مباحثوں اور تجزیوں میں جن عملی اقدامات کی بات کی تھی  اس میں گزشتہ چار برس میں کیا  کوئی عملی پیش رفت ہوئی؟

باخبر قارئین اپنے ذہن پر زور ڈالیں ، اس وقت کے تجزیوں ، تبصروں کے عناوین کچھ اس طرح کے تھے ، ووٹر زمانہ چال قیامت کی چل گیا ، بادمخالف سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، بدلے ہوئے حالات میں مسلمانوں  کا لا ئحہ عمل کیا ہو ، ملک میں سیاسی تغیر کا تاریخی پس منظر ، حکمت عملی کی تشکیل ، ماضی کے نقوش مستقبل کے خطوط ، تصویر وطن نئی راہوں کی جستجو ، تندیء باد مخا لف سے نہ گبھرا اے عقاب ، اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے۔ طلاطم ہائے دریاہی سے ہے گوہر کی سیرابی ، موجودہ سیاسی تغیر کا تاریخی پس منظر ، عہد حاظر کا چیلنج وغیرہ وغیرہ.

یہ تبصرے لوک سبھا انتخابات کے خلاف توقع نتائج آنے کے فورا بعد سے شروع ہوئے تھے ، وقت کے ساتھ یہ سلسلہ مزید دراز ہو تا گیا ، بلکہ اس میں مزید وسعت آئی تحریروں سے پاور پوائنٹ پرزینٹیشن ، گروپ ڈ سکشن، سمیناروں کا دور بھی شروع ہوا۔ اخبارات و رسائل کے خصوصی شماروں نے ” لائحہ عمل نمبر” شائع کیے ۔ آج جب ہم مودی حکومت کے وعدوں اور دعوں کا تجزیہ کرنے بیٹھے ہیں تو ہمیں اپنے دعوں اور ارادوں کا بھی ایماندارنہ جائزہ لینا چاہیے .کیا ہم نے ان تجزیوں اور مذاکروں سے کوئی رہنمائی حاصل کی ؟گزشتہ چاربرس میں ہم کہاں آکھڑے ہوئے ہیں ؟

اپنی سیاسی بے وزنی دور کرنے کی ہماری کوششیں کیوں بار آور نہیں ہو رہی ہیں ؟ اس درمیان ایک منتخب حکومت سے اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنے جائز مطالبات حل کرانے کی ہم نے کیا کوشش کی ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ چاربرس میں ہندوستان کی مسلم تنظیموں کے قائدین پر مشتمل ایسا کوئی  ڈیلی گیشن ملکی و ملی ایشوز پر حکومت سے گفت و شنید کے لیے آگے نہیں جا سکا ؟

ہمیں یہ  بھی دیکھنا چاہیے کہ چاربرس قبل ہم نے جس ایجینڈے پر آگے بڑھنے کا عہد کیا تھا اس پر کتنا آگے بڑھ سکے ہیں ،اس راہ میں کیا دشواریاں  آئیں اور آئندہ  ٢٠١٩کی ہماری حکمت عملی کیا ہو گی ؟ تعلیمی اور معاشی میدان میں مسلمانوں کی پیش قدمی کے بغیر مثبت تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

یہ سوال ابھی جواب طلب ہی ہے کہ مسلم لیڈرشپ مرکزی حکومت سے مسلم مسائل پر گفتگو کے لیے گزشتہ  چاربرس میں کوئی خاکہ  کیوں  نہیں تیارکر سکی ؟ مودی حکومت کے ابھی    ایک برس ہیں ابھی بھی وقت ہے ہمارے درمیان موجود سنجیدہ لیڈرشپ ملک و ملت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آگے آئے ایک روڈ میپ تیار کرے اپنے کرنے کے کام اورمیدان کیا ہیں اور حکومت سے وابستہ امور کیا ہیں ؟

پروگرام کے ساتھ میدان میں آئیں ہے ؟   مسلم مسائل پر  بات کرنے جب آپ پی ایم او جائیں تو یہ تصور کریں کہ آپ ‘ہندوستان’ کے وزیر اعظم سے ملاقات کرنے آئے ہیں۔اس سے آپ کی جھجھک دور ہوگی ، لہجہ پر اعتماد ہوگا ، بات کرنے میں ذرا آسانی ہوگی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *