اردو چینل ممبئی کے ایڈیٹر ڈاکٹر قمر صدیقی نے ایشیا ٹائمز کو دیا انٹر ویو؛ مشاعروں کو اردو زبان اور مسلم قوم کے ساتھ بڑا دھوکہ قرار دیا

یہ بھی پوچا اردو اکیڈمی اور این سی پی یو ایل جواب دے اس کے پاس' اردو ڈیجیٹل 'کا کیا بجٹ ہے؟

admin

نئی دہلی  : (ایشیا ٹائمز) گزشتہ 20 برس سے ممبئی سے شائع ہونے والا سہ ماہی ادبی رسالہ ‘اردو چینل’ کے اعزازی ایڈیٹر و ممبئی یونیورسٹی میں شعبہ اردومیں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قمر صدیقی نے ایشیا ٹائمز کے ایڈیٹر اشرف علی بستوی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ہندوستانی عوام خصوصا اردو حلقوں سے اپیل کی ہے  کہ ‘ مشاعرہ اردو زبان اور قوم کے ساتھ دھوکہ ہے اسے فورا بند ہونا چاہیے’  ۔ ڈاکٹرقمرصدیقی گزشتہ ہفتے دہلی تشریف لائے تھے ، ہوٹل ریور ویو میں قیام کے دوران انہوں نے ایشیا ٹائمز سے ملاقات میں اردو حلقوں کو کئی اہم امور کی جانب متوجہ کیا زبان کی ترویج و اشاعت کے تعلق سے کیے گئے اہم سوالات کے مدلل جوابات دیے ۔ اگر آپ اردوکی حقیقی ترقی کے طرف دار ہیں تو ضرور ان کے دلائل سے اتفاق کریں گے ان کے جوابات سے آپ کو کچھ اچھا کرنے کا حوصلہ ملے گا ۔ اگر آپ اردو کی ترویج و اشاعت کے برسہا برس سے جاری روایتی طریقوں مشاعروں ، کانفرنسوں اور سمیناروں  کے انعقاد کو اردو کی اصل خدمت سمجھتے ہیں تو یقینا آپ کو ڈاکٹر قمر صدیقی کے جوابات سے تھوڑی  حیرانی ضرور ہوگی ۔  لیکن پھر بھی آپ کو اس بے لاگ انٹرویو کو ایک بار ضرور پڑھنا اور دیکھنا چاہیے۔

ویڈیو انٹر ویو دیکھیں 

ایشیا ٹائمز : ہندوستان میں اردو کا مستقبل کیا ہے ؟

ڈاکٹر قمر صدیقی : اردو کے مستقبل کے تعلق سے اگر ہم گفتگو کریں تو ہمیں پہلے ایک نظر ماضی پر ضرور ڈالنا چاہیے  ۔ اگر آپ آزادی کے فورا بعد کا منظر نامہ دیکھیں اس وقت اردو کی صورت حال انتہائی تشویش ناک تھی ،اردو کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا تھا ،لیکن بعد ہم سب نے دیکھا کہ اردو کی ترقی بھی ہوئی اردو اخبارات و رسائل بھی نکلے ،اردو کے تعلیمی اداروں کو فروغ حاصل ہوا۔

اس وقت عالمی سطح پر انگریزی کا جو دباو ہے وہ صرف اردو پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہندی سمیت ہندوستان کی  سبھی زبانوں پر ہے ۔ البتہ شمالی ہندوستان کے مسئلے کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں جنوبی ہند کی طرح سرکاری سطح پر اسکولوں کی تعداد ہے ہی نہیں ۔ صرف مہاراشٹرا میں اردو میدیم اسکولوں اور اساتذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ لیکن شمالی ہندوستان میں غیر سرکاری سطح پر جو کام مدارس میں ہورہا وہ قابل ذکر ہے ،اتر پردیش میں ایسے بیسیوں بڑے مدارس  ہیں جو ایک طرح سے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں جن کا زریعہ تعلیم اردو ہے ۔

ایشیا ٹائمز : ہندوستان میں اردو زبان کے سامنے کیا مسائل درپیش ہیں ؟  

ڈاکٹر قمر صدیقی : اردو کا بنیادی مسئلہ ہندوستان میں اردو قارئین کا بکھراو ہے ، ہندوستان کی مراٹھی،  بنگالی تیلگو اور دیگر زبانوں کی طرح اس کی اپنی کوئی ریاست نہیں ہے، ہندی کا ایک بیلٹ ہے۔ ملک بھر میں پھیلے اردو قارئین کو اردو زبان کی کتابیں رسالے پہونچانا پہلے بڑا مسئلہ تھا لیکن آج ڈیجیٹل انقلاب نے یہ کمی پوری کر دی ہے اگر آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو پڑھنے کے قابل ہے، لوگوں کی ضرورت ہے تو اسے بہت برق رفتاری سے پوری اردو دنیا میں پہونچا سکتے ہیں ۔

ایشیا ٹائمز: ہندوستان میں اردو ڈیجیٹل کی ابتک کی کوششوں پر آپ کی کیا نظر ہے ؟  

ڈاکٹر قمر صدیقی : اور اس وقت ہندوستان بھر میں کئی ایسے لوگ ہیں جو اردو ڈیجیٹل پر بہت اچھا کام کر رہے ہیں ، اردو کی آن لائن ریڈرشپ پیدا ہو رہی ہے ، مثال کے طور پر میرا رسالہ لگ بھگ 800 کاپی شائع ہوتا ہے اور لوگوں تک پہونچتا ہے لیکن ہمارا ویب پورٹل اردو چینل ڈاٹ ان پر روزانہ وزٹر تقریبا 2500 ہیں اب اگر آپ تین ماہ میں ایک رسالہ سات سو کی تعداد میں شائع کرتے ہیں اور ایک دن میں ڈھائی ہزار  لوگ پڑھ رہے ہیں ۔ لیکن ابھی بھی ہم بہت بڑی تعداد تک نہیں پہونچ پا رہے ہیں ۔اردو کا ایسا ادب جس کی طرف لوگ راغب ہوں تو روزانہ 10 سے 12 ہزارہ ہزار لوگ پڑھنے آپ کے پورٹل پر آسکتے ہیں اور اس سے ایک کمرشیل پہلو بھی نکل سکتا ہے اگر سلیقے سے کام کیا جائے تو اس میں امکانات بہت ہیں ۔ پرنٹ میڈیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے دنیا ہر زمانے میں بدلتی رہی ہے ہم روک نہیں سکتے ۔کتاب کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی اس لیے آپ کو اپنے ڈرائنگ روم میں کتاب رکھنی ہی پڑے گی عین ممکن ہے کتابیں بہت مہنگی ہوجائیں سامان تعیش کے طور پر رہیں لیکن کتاب رہے گی ۔

ایشیا ٹائمز : طویل عرصے سے اردو کی خدمت میں مصروف اردو اکیڈمیاں ، این سی پی یو ایل سمیت دیگر سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی اردو ڈیجیٹل کے فروغ پر کوئی پہل نظر کیوں نہیں آتی    ؟

ڈاکٹر قمر صدیقی : دیکھیے ، اکیڈمیوں کے معاملے میں نے بہت پہلے آپ سے کہا تھا جس پر لوگ ناراض ہوگئے تھے  لیکن میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں ، کوئی بتائے یہ زمانہ ڈیجیٹل کا ہے بشمول اردو اکیڈمی اور این سی پی یو ایل اس کے پاس اردو ڈیجیٹل کا کیا بجٹ ہے ۔ کم سے کم ہندوستان میں دس پندرہ لوگ اردو ڈیجیٹل پر دل جمعی سے اچھا کام کررہے ہیں ۔ دہلی میں آپ ہیں مہاراشٹر میں ہم ہیں ، حیدرآباد ، بہار ،اترپردیش میں کچھ لوگ ہیں لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔  لیکن ان اداروں سے ایسی کتابوں کو خریدا جا رہا ہے جن کا خریدا جانا اور نہ خریدا جانا دونوں برابر ہے،  ایسی کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی اعانت کی جارہی ہے جن کا شائع نہ کیا جانا اردو پر بڑا احسان ہوگا ۔ ایسے لوگ جو اپنی محنت صرف کر رہے ہیں اپنا وقت لگا رہے ہیں،اپنا پیسہ خرچ کر رہے ہیں ، ایسے لوگوں کے لیے  اکیڈ میوں اور اردو کونسل کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ میں نے اس سلسلے میں کئی اداروں سے  سے رابطہ کیا اور پوچھا ، لیکن کوئی جواب نہیں ملا ۔ اردو ڈیجیٹل پر کام وہ لوگ کر رہے ہیں جس کام کو اکیڈمیوں کو کرنا چاہیے تھا ، یہ ان کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے ۔

ایشیا ٹائمز: اردو کے مشاعروں کے حوالے سے آپ نے بہت سخت موقف اپنا رکھا کیوں؟

ڈاکٹر قمر صدیقی : آپ دیکھیے نا ، لاکھوں روپئے اکیڈمیاں مشاعروں پر خرچ کر رہی ہیں ۔ ہمارے یہاں خود مہارشٹر اردو اکیڈمی کا 12 سے 15 لاکھ  روپئے مشاعرے کا بجٹ ہے ۔ اگر وہ مشاعرہ نہ ہو تو اردو کا کیا نقصان ہوجائے گا ؟ مشاعرہ تو ایک طرح کا دھوکہ ہے ، یہ مسلم کیمیونٹی کے ساتھ دھوکہ ہے  آپ کی کمیونٹی کا جذباتی استصال کیا جاتاہے ۔اردو کے نام پر آپ کے پیسوں کو برباد کیا جارہا ہے اور ایک طرح سے اردو زبان کے خلاف سازش کی جارہی ہے ۔ جس طرح کا مشاعرہ اس وقت ہو رہا ہے اسے فورا بند کر دیا جائے تو اردو کا بڑا کام ہوجائے گا۔  ایسا مشاعرہ جس میں ایک شاعر آتا ہے اور 20 سال تک ایک ہی کلام ہر بار سنا کر لاکھوں وصول کر تا رہتا ہے ۔ اب تو ایک سے ڈیڑھ لاکھ  روپئے ایک شاعر ایک مشاعرہ پڑھنے کا لیتا ہے۔ اور شاعری کے نام پر تک بندی پیش کرتا ہے ، اپ کا جذباتی استصال کرتا ہے، نعرے پیش کرتا ہے ۔ مشاعرے کو اردو معاشرے فورا نکال دینا چاہیے۔  یہ بہت ضروری کام اردو والے جتنی جلدی کرلیں ، اردو کا بڑا کام ہوجائے گا ۔

ایشیا ٹائمز : آپ اردو کے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اس قدر خلاف کیوں ہیں ؟

ڈاکٹر قمر صدیقی : انصاف اور ہمدردی ایک ساتھ نہیں چل سکتی ، ایک بار پھر وہی بات دہرانا چاہوں گا کہ اس ملک میں کم ازکم دس ایسے لوگ ہیں جو اردو ڈیجیٹلائزیشن پر بہت سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں ۔ان کی شناخت کر سکتے ہیں ان کے لیے کسی کے یہاں ہمدردی کا جذبہ کیوں بیدار نہیں ہوتا ۔اگر کوئی کتاب لکھ دیتا ہے تو آپ کے دل میں اس کے لیے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے ، اور ایسی کتابوں کو کتاب کا نام دیا جانا چاہیے یا نہیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے ، ایک شخص یہاں وہاں سے دس مضامین کو جمع کرتا ہے اور دو تین تین صفحات کی اپنی گفتگو شامل کرلی اور کتاب ترتیب دے دیتا ہے۔ اور ہماری اکیڈمیاں اور ادارے ان کی مالی مدد کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ یہ سب بند ہونا چاہیے اورجو لوگ نئے زمانے کی ضرورت پوری کر رہے ہیں ان کے ساتھ آپ کو آنا چاہیے  ۔ میں اکیڈمیوں کے خلاف اسی لیے ہوں کہ نہ جانے کس زمانے کے پیٹرن پر یہ کام کرتی ہیں ۔ ہمیشہ نئے طریقے سے کام کرنے والوں کے ساتھ ان کا معاملہ نہیں بنتا ۔

ایشیا ٹائمز : اردو چینل کو آئندہ دنوں میں کہاں دیکھنا چاہیں گے خاص طور سے ڈیجیٹل دنیا میں؟

ڈاکٹر قمر صدیقی : اردو چینل کا پرنٹ ایڈیشن بدستور جاری رہے گا ہماری خصوصی توجہ عالمی ادب کے تراجم زبان ادب اور تہذ یب و ثقافت کے رشتوں پر ہے جو ہم نے گزشتہ سات ماہ میں کیا ہے اس کا ڈیجیٹلا ئزیشن کرنا ہے۔  دنیا میں اس طرح کا کوئی ایساکام نہیں ہو رہا ہے کہ اپنے لٹریچر کو سوشل میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر فروغ دیا جائے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں تک پہونچایا جائے۔ اس کام میں ہم مزید تیزی لائیں گے اور اس کا دائرہ وسیع کریں گے اور آنے والے دنوں میں اس کو اردو کا بڑا ڈیٹا بیس بنائیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *