آئی ا و ایس کی سہ روزہ انٹر نیشنل کانفرنس کا افتتاح آج ؛ سابق چیف جسٹس جگدیش کیہرکا ہوگاخصوصی خطاب

ملک وبیرن ملک کے درجنوں نامور دانشواران،اسکالرس اور علماءپیش کریں گے اپنا مقالہ 

admin

نئی دہلی ۔15فروری
(نامہ نگار)
معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس )کے سہ روزہ انٹر نیشنل سمینار کا آج سے آغاز ہورہاہے ،سمینار کا مرکز ی عنوان ہے ” ہندوستان کے موجودہ سیاق مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کی جانب :بذریعہ تاریخ ایک بہتر مستقبل کی تخلیق“ آج بروزجمعہ16 فروری کو شام تین بجے کانسٹی ٹیوشن کلب میں افتتاحی نشست ہوگی جس میں سپریم کورٹ آف انڈیاکے سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیر،سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان ۔انٹرنیشل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھوٹس امریکہ کے جنرل سکریٹری پروفیسر عمر حسن کسولے ،انٹرنیشنل اسلامک چیرٹیبل کویت کی جنرل سکریٹری محترمہ عروب السید ہاشم الرفاعی ،سابق چیف جسٹس ای احمد ی ، معروف فقیہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا خطاب ہوگا۔اس کے علاوہ پروگرام کے دیگر سیشن میں معروف قانون داں پروفیسر فیضان مصطفی ، آریہ سماج کے بانی سوامی اگنی ویش، انسٹی ٹیوٹ آف ہارمنی اینڈ پیس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم ڈی تھومس۔ اہیما وشوا بھارتی کے بانی ڈاکٹر لوکیشن منی ،اسلامی وزارات برائے سعودی عرب کے سپروائزر ڈاکٹر عبد اللہ الہیدان۔ محترمہ سید النساءسیدساﺅتھ افریقہ ۔آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا عبد اللہ مغیثی،معروف سکھ رہنما بابا بلجیت سنگھ۔بدھ اپساک سنگھ کے رہنما ڈاکٹر راہل داس ۔ فیضان مصطفے سینئر ایڈوکیٹ سری لنکا۔ڈاکٹر ندیر ایم غزالہ لبنان۔ ایس وینکٹ نارائن۔ڈاکٹر طاہر محمود ۔ نیوکالج چننئی کے پرنسپل میجر زاہد حسین،ڈاکٹر ظفر اسلام خان ،پروفیسر ڈی اے گنگا دھاربنارس ہندو یونیورسیٹی سمیت مختلف مذاہب ،یونیورسٹیز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں انٹر نیشنل اسکالرس ودانشوران کی شرکت ہوگی ۔ علاوہ ازیں ترکی ،سعودی عرب ،کویت ،افریقہ ،برطانیہ ،بنگلہ دیش،مصر ،امریکہ ،سری لنکا ،لبنا ن سمیت متعدد ممالک کے اسکالرس،علماءودانشوارن تکنیکی اجلاسوں میں اپنا مقالہ پیش کریں گے ۔
آئی او ایس کے دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے سمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیزاپنے کئی اہم کاموں کے ساتھ ان دنوں تاریخ کے ذریعہ بہتر مستقبل کی تخلیق کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے پر عمل پیرا ہے ۔ ہندوستان کی تاریخ پر مشتمل کئی کتابیں آئی اوایس کی جانب سے شائع کی گئی ہے اور اب 30 سال مکمل ہونے پر
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے زیرہ اہتمام 30 سالہ تقریبات کے پیش نظر ملک کے متعدد شہروں میں سمینار کا انعقادکیا گیاہے ، کولکاتا،جودھپور ،چنئی اور دہلی میںاسی موضوع پر چار سمینار کا انعقاد کیاجاچکاہے۔ اس سلسلے کا پانچواں اور آخری سمینا ر16 تا18 فروری 2018بروز جمعہ ،سنیچر ،اتوار کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ہونے جارہاہے جس میں ملک وبیرون ملک کے نامور مورخین ،اسکالرس ،علماء،ماہرین قانون داںاور دانشوران مقالہ پیش کریں گے ۔انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سمینار کا مرکز ی عنوان ہے ” ہندوستان کے موجودہ سیاق مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کی جانب :ایک بہتر مستقبل کی تخلیق“ افتتاحی اور اختتامی سیشن کے علاوہ یہ اجلاس کل 14 نششتوں پر مشتمل ہے۔
جس کے ذیلی عناوین ہیں:دستور ہند کی ہندروشنی اقلیتوں کیلئے مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کے تصورات پر مبنی فکری بنیایں۔ آفاقی خاندان کی تشکیل میں اعلی تعلیم کا مقام وکردار :قومی تناظر میں ۔اقوام متحدہ او ردیگر اداروں کی فکر مندی کی روشنی میں اقلیتوں کیلئے مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کے تصورات پر مبنی فکری بنیادیں۔آفاقی خاندان کی تشکیل میں اعلی تعلیم کا مقام وکردار :عالمی تناظر میں ۔ مختلف جہتوں میں تبدیلی کے انداز وعناصر :عوامی صحت ۔بین الاقوامی تعلقات کی شکلوں میں پر اثر انداز ہونے والی مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کی قدروں کا کردار ۔جہتوں میں تبدیلی کے انداز وعناصر :ٹیکنالوجی و ترقیاتی نمونے۔ بین الاقوامی تعلقات کی شکلوں پر اثر انداز ہونے والی مساوات،انصاف اور بھائی چارے کی قدروں کا کردار : بین الاقوامی تعلقات میں غالب رجحانات۔ مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کے حوالے سے آج کی سمٹتی دنیا میں قومی وبین الاقوامی قانون کا کردار:قانونی نظام ۔ مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کے حوالے سے آج کی سمٹتی دنیا میں قومی وبین الاقوامی قانون کا کردار: گلوبلائزیشن کے عہد میں بین الاقوامی قانون ۔ معاشی ترقی اور غربت کا خاتمہ : مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کی قدروں کا کردار اور بین الاقوامی اقرار وعہد ۔ مساوات ،انصاف اور بھائی چارہ کی قدروں کے فروغ میں قومی وعلاقائی ذرائع ابلاغ کا کردار وعمل ۔ مساوات انصاف اور بھائی چارے کی قدروں کے فروغ میں عالمی ذرائع ابلاغ کا کردار وعمل ۔
ڈاکٹر عالم نے کہاکہ ہندوستان کے ماجود ہ ماحول کو پرامن بنانے اور اقلیتوں کو لاحق خطرا ت سے محفوظ رکھنے کیلئے ایسے اقدامات ضروری ہیں ۔اس سمینار میں سبھی مذاہب اور علاقے کے دانشوران وعلماءکی شرکت ہورہی ہے ،امید ہے ایک بہتر نتیجہ سامنے آئے گا ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *