’آر ایس ایس اور اس کے ہمنواوں نے ہٹلر کی پالیسیوں کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے‘:ماہرین تاریخ

Ashraf Ali Bastavi

چنئی(یواین آئی) آر ایس ایس اوراس کی رہنمائی میں کام کرنے والی جماعتوں اور اداروں نے نازی ہٹلر کی پالیسیوں کو اپناوطیرہ بنالیا ہے اورفلم پدماوتی کے خلاف ہونے والے مظاہرے اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہے ‘ ایسے میں حقیقی تاریخ سے موجودہ اور نئی نسل کو روشناس کراناوقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار آج یہاں معروف مورخ پروفیسر رفاقت علی خان نے آئی او ایس کے دو روزہ قومی سمینار کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پروفیسر خان نے کہا کہ 1999-2004 کے دوران این ڈی اے کی حکومت میں ہی ریاست کے سیکولر کردارکو بدل کر رکھ دیا گیا اور جب آر ایس ایس کی حمایت والی جماعت مرکز میں بھاری اکثریت سے اقتدار میںآئی تو اس نے ملک کے سیکولر تعلیم کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا کام شروع کردیا ۔ مسلمانوں کے خلاف اکثریتی عوام کے ذہنوں میں نفرت پیدا کرنے کے لئے اساطیر ی کہانیوں کو حقیقی تاریخ کا روپ دے کر پیش کرنے کی بہت ساری اسکیموں پر زور شور سے عمل شرو ع کردیا گیا ہے۔ ’فلم پدماوتی کی نمائش کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہرے اسی طرح کے پروگراموں کا حصہ ہے‘۔حالانکہ یہ فلم ملک محمد جائسی کے کلاسیکی کارنامے پدماوت کی بنیاد پر بنائی گئی ہے او ر تاریخ اس کہانی کا پورا ساتھ نہیں دیتی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ تاریخ کے سابق پروفیسر خان نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا جماعتوں اور تنظیموں نے نازی ہٹلر کی سیاسی پالیسیوں کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔یہ عناصر سماج میں پھوٹ ڈالنے کے لئے تمام طرح کے حربے اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے تاریخ کو اپنے مخصوص انداز میں استعمال کررہی ہیں۔ پروفیسر خان کا کہنا تھا کہ تاریخ دونوں طرح سے کام کرتی ہے۔ تکثریت اور سرو دھرم سمبھاو کے علمبرداروں کوپھوٹ ڈالنے والے عناصر کے چیلنجز کا مقابلہ انہیں کے آلہ یعنی تاریخ کو استعمال کرکے کرنا ہوگا۔
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے چےئرمین ڈاکٹر منظور عالم نے کہا کہ آج اسلام اور مسلمانوں کی غلط تصویر پیش کرنے کے لئے تاریخ کو مسخ کرنے کی جو منظم کوششیں ہورہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کی اصل تاریخ اور اسلام کی تعلیمات سے بالخصوص اہل وطن کو روشناس کرانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام مخالف طاقتوں نے لوگوں کو اتنا گمراہ کردیا ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان کے دام فریب کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے اور اگر ہم نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا تو ہماری آنے والی نسلیں جس اذیت اور کرب سے دوچار ہوں گی اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے علماء ‘ دانشور وں‘ مورخین ‘ ماہرین سماجیات‘ ماہرین قانون وغیرہ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ویڈیو رپورٹ 

ڈاکٹر منظور عالم کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کمیونٹی یا قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ اس میں دانشور موجود نہ ہوں لیکن کوئی بھی دانشور اس وقت تک اپنے منصوبہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا تعلق بنیادی سطح پر لوگوں سے نہ ہو۔ تاہم یہ بڑا مسئلہ ہے اور اس پر
سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلم ایجوکیشن ایسوسی ایشن آف ساوتھ انڈیا کے نائب صدر محمد اشرف نے کہا آج بچوں کو جوتاریخ پڑھائی جارہی ہے وہ اصل سے بالکل مختلف ہے اور تاریخ میں تحریف سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری انسانیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔مدراس ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ ایم منیرالدین شریف کا کہنا تھا کہ آج ملک میں مسلم مخالف ماحول کا حال یہ ہے کہ کسی بھی ہائی کورٹ میں کوئی مسلم چیف جسٹس نہیں ہے۔ ملک ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے اور ہمیں کم سے کم اپنی آنے والی نسلوں کا خیال رکھتے ہوئے ٹھوس منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کرنا
ہوگا۔
نیوکالج چینئی کے پرنسپل میجر ڈاکٹر زاہد حسین نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ خیال رہے کہ آئی او ایس کی طرف سے’ہندوستان کے موجودہ سیاق میں مساوات ‘ انصاف اور بھائی چارے کی جانب: ایک بہتر مستقبل کی تخلیق بذریعہ تاریخ‘ کے موضوع پر منعقد یہ دو روزہ قومی سمینار اس کی تیسویں سالگرہ تقریبات کا حصہ تھا۔ اس میں ملک کے مختلف حصوں سے مورخین‘ دانشور وں ‘ ماہرین قانون اورماہرین تعلیم نے اظہار خیال کیا۔
اس موقع پر ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں مورخین اور دانشوروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کمپوزٹ کلچر کو فروغ دینے اور تخریب پسند عناصر کی طرف سے شروع کی گئی نفرت کی مہم پر روک لگانے کے لئے تاریخ کو ایماندارانہ طریقہ سے اس کے صحیح پس منظر میں غیر جانبدار انداز میں پیش کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔قرارداد میں جدوجہد آزادی کے ازسر نومطالعہ پر بھی زور دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اس جدوجہد میں بالخصوص عام آدمی اور خواتین کی شرکت پر توجہ مرکوزکی جائے۔

اس اسٹوری کو بھی دیکھیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *