محدث اعظمی مولانا حبیب الرحمن کی شخصیت پر پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کو آئی او ایس اسکالر شپ فراہم کرے گی 

مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی شخصیت پرآئی او ایس کا دورزہ سمینار اختتام پذیر ۔ ملک بھر کے درجنوں علماء،اسکالرس اور ماہرین حدیث نے مقالہ پیش کیا 

Asia Times Desk

نئی دہلی  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی حیات وخدمات پر آئی او ایس کے زیر اہتمام دورزہ سمینار کا آج اختتام ہوگیا ۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں میں منعقدہ دورزہ سمینار میں ملک بھر سے درجنوں علماءواسکالرس نے محدث اعظمی کی شخصیت ، ان کی خدمات ، افکار ونظریات اور دیگر موضوعات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ آئی او ایس کے زیر اہتمام متعدد ملکی اور بین الاقومی شخصیت پر سمینار کا انعقاد ہوچکاہے جس میں ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی ، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولانا مناظر احسن گیلانی سمیت کئی شخصیات سر فہرست ہیں ۔ حالیہ سمینار کے علاوہ آئی او ایس کا ایک اور سمینار بین الاقوامی شخصیت ڈاکٹر فواد سیزگین پر اسی سال دسمبر میں منعقد ہورہاہے ۔

انہوں نے بتایاکہ ان تمام پروگرامس کے پس پردہ آئی او ایس کا ایک مقصد اور منصوبہ ہے کہ کسی دین کی نشر واشاعت کیلئے اس سے وابستہ شخصیات کے علمی ورثے کو آگے بڑھانا ضروری ہے او راسی پر آئی او ایس کام کررہاہے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ شعبہ اسلامیات کے پروفیسر حضرات پی ایچ ڈی کے موضوعات میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی شخصیت کو شامل کریں ۔ آئی او ایس مذکورہ موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کو اسکالر شپ فراہم کرے گی ۔

حاضر ین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ احادیث کی روشنی میں موجودہ حالات پر اسٹڈی کرنے کیلئے کوئی پروجیکٹ تیار کیا جائے ہم اسے گے بڑھائیں گے اورعملی جامہ پہنائیں گے ۔ علاوہ ازیں آئی او ایس کی مطبوعات کا ملک کی 18 دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا ۔آئی او ایس کے چیرمین نے اس موقع پر اہل علم سے سے یہ بھی درخواست کی کہ موجودہ حالات میں اختلاف کو مخالفت میں تبدیل کرنے سے گریزکریں ۔ اختلاف بہت اہم ہے لیکن مخالفت بہت نقصان دہ ہے ۔

مہمان خصوصی پروفیسر اختر الواسع صدر مولانا آزاد یونیورسیٹی جودھپور نے کہاکہ مولانا حبیب الرحمن عظیم شخصیت کے مالک تھے جن پر مزید کام کی ضرورت ہے ۔ علم حدیث کے ساتھ انہیں شعروشاعری کا بھی ذوق تھا جس پر بالکل توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔

مولانا جلال الدین عمری سابق امیر جماعت اسلامی ہند نے مولانا حبیب الرحمن کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ علم حدیث میں ان کی خدمات غیر معمولی ہے اور آج کی نئی نسل کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کام کو مزید آگے بڑھائے ۔مولانا عتیق احمد بستوی نے استاذ حدیث دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو نے ایک سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ مولانا حبیب الرحمن کاکام بہت عظیم ہے لیکن اسے حرف آخر سمجھنے کے بجائے مزید کام کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے

۔ مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے کہاکہ مولانا حبیب الرحمن کی خصوصیات میں وجہ ترجیح بتانا سرفہرست ہے اور تحقیق کا اتنا بڑا کام انہوں نے اس وقت کیا جب انٹر نیت کی سہولت موجود نہیں تھی ۔ پروفیسر یاسین مظہر صدیقی نے مولانا حبیب الرحمن کو بیسوی صدی کا عظیم محدث قرار دیتے ہوئے بتایاکہ وہ زمانے کے حالات سے واقف تھے اور اسی کے مطابق انہوں نے حدیث پر کام کیا ۔محدث اعظمی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کاتاریخی سمینار کے انعقاد کیلئے شکریہ ادا کیا اور تمام شرکاءسے اپیل کی کہ وہ محدث اعظمی کی خدمات اور افکار ونظریات مزید لوگوں تک پہونچائیں ،اس پر کام کریں ۔

پروفیسر زیڈایم خان سکریٹری جنرل آئی او ایس نے اس موقع پر سات نکاتی تجاویز بھی پیش کی جسے سامین متفقہ طور پر قبول کیا ۔ تجاویز میں کہاگیا کہ موجودہ دورہ میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نے بڑے علماءاور بزرگوں کے بارے میں تحقیقات کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اسے آگے بڑھایاجائے ۔ ہندوستانی علماءکے فتاوی کے مجموعوں کی روشنی میں فقہ الاقلیات پر بڑے پیمانے پر کام کیاجائے ۔ علماءکرام کے اختصاصی موضوعات اور حیات وخدمات پر مبنی جامع فہرست اور کلینڈر مرتب کئے جائیں ۔

اپنے جلسوں میں عہد حاضر کے مسائل کو مذہبی افکار ونظریات سے مربوط کرکے پیش کرنے کی کوشش کی جائے ۔ دینی اور عصری علوم کو باہم مربوط کرکے پیش کرنے کی کوشش کی جائے ۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے غیر مطبوعہ مسودات کے اشاعت کی سنجیدہ کوشش کی جائے ۔

عربی زبان میں مولانا اعظمی کی مبسوط سوانح تیار کرائی جائے تاکہ عالم عرب ان کی خدمات سے واقف ہوسکے ۔

67جولائی 2019 کو ہونے والے دوروزہ سمینار میں افتتاحی اور اختتامی سیشن کے علاوہ کل 6 تکنیکی اجلاس ہوئے جس میں ملک بھر کے علماءواسکالرس نے محدث اعظمی کی زندگی اور خدمات کے مختلف پہلوﺅں پر اپنا تحقیقی اور فکری مقالہ پیش کیا۔ آخری اجلاس کی نظامت کا فریضہ مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی نے انجام دیا جبکہ پروفیسر افضل وانی وائس چیرمین آئی ا و ایس نے تمام مہمانوں اور شرکا ءکا شکریہ ادا کیا ۔
دورزہ سمینار میں مولانا سید محمد ولی رحمانی۔ مولانا عبد اللہ مغیثی ، مولانا عبد الحمید نعمانی ۔ مفتی ارشد فاروقی ۔ ۔ پروفیسر عبد الرحمن مومن ۔مولانا جنید قاسمی ۔ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی۔ڈاکٹر نجم السحر ۔ ڈاکٹر ندیم عنبر سمیت متعدد شخصیا ت نے شرکت کی اور اپنا مقالہ پیش کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *