تو کیا این ڈی اے کا جہاز ڈوبنے لگا ہے ؟

حلیف جماعتوں کو اب بی جے پی ڈوبتا جہاز لگ رہی ہے، اسی لئے کوئی بی جے پی کا ساتھ چھوڑ رہا ہے ،کوئی اسے نصیحت دے رہاہے تو کوئی اسے دھمکی دے رہا ہے

Asia Times Desk

ڈاکٹر یامین انصاری
۲۰۱۴ء کے عام انتخابات میں جوپارٹی ۵۴۳؍ رکنی پارلیمنٹ میں ۲۸۲؍ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی، جس پارٹی نے ۱۹۸۴ء کے بعد ۳۰؍ سال میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات میں تنہا اکثریت حاصل کی، جس پارٹی کے ساتھ۲۰۱۴ء میں ۲۹؍ جماعتیں تھیں اور ۲۰۱۸ء کے آغاز تک ان کی تعداد ۴۷؍ ہو گئی، جس پارٹی نے شمالی ہندوستان کے اتر پردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ دہلی، جھارکھنڈ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی کل ۲۲۵؍ سیٹوں میں سے ۱۹۰؍ سیٹوں پر قبضہ کیا ہو، اور کل ملا کر بی جے پی کی قیادت والے محاذ این ڈی اے نے ۳۳۶؍ سیٹیں جیتی ہوں،ایسی بھرپور اکثریت والی اور مضبوط ترین پارٹی کی حکومت کوپارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا ہوگا،یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ عدم اعتماد کی یہ تحریک بھی اپوزیشن کی کوئی جماعت نہیں، بلکہ تقریباً چارسال تک اس کے ساتھ رہنے والی پارٹی کے ذریعہ ہی لائی گئی۔حالانکہ اس عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی کا اندازہ تو پہلے ہی تھا، لیکن اس سے بی جے پی کو سبکی کا سامنا تو کرنا ہی پڑا ہے۔ گویا کہ نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے ابھی چار سال مکمل بھی نہیں ہوئے ہیں کہ اس نے ڈوبتے جہاز کا احساس کرا دیا ہے۔

مثل مشہور ہے کہ جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو لوگ جان بچا کر ادھر ادھر بھاگنے لگتے ہیں۔ اس وقت ایسا ہی کچھ منظر این ڈی اے میں ہے۔پانچویں سال میں پہنچنے سے پہلے ہی این ڈی اے کی ایک اہم اتحادی ۱۶؍ اراکین پارلیمنٹ والی تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دینے کے مسئلہ پر اس کے وزراء نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ شیو سینا کے بعد، ٹی ڈی پی دوسری بڑی جماعت ہے، جس نے این ڈی اے کو زوردار جھٹکا لگایا۔ اگرچہ ابھی شیو سینا این ڈی اے حکومت میں شامل ہے، لیکن اس نے اعلان کر دیاہے کہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں وہ بی جے پی سے الگ ہو کر انتخابی میدان میں اترے گی۔ اس نے تو ۲۰۱۹ء کے بارے میں پیشن گوئی بھی کر دی ہے کہ بی جے پی کو ۱۱۰؍ سیٹوں کا نقصان ہوگا۔

بی جے پی میں شمال مشرقی ریاستوں میں بڑھتے قدم کا جشن ابھی چل ہی رہا تھا کہ کچھ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتیجوں نے پارٹی لیڈران کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں ضرور کھینچ دی ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش اور اس میں بھی گورکھپور اور پھول پور کے نتائج نے تو جیسے بی جے پی کو بیک فٹ پر کھیلنے کو مجبور کر دیا ہے۔ ان دونوں سیٹوں کے نتیجوں نے نہ صرف پارٹی لیڈران کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں، بلکہ کارکنان کے اعتماد کو بھی متزلزل بھی کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی کی حلیف جماعتوں کو اب بی جے پی ڈوبتا جہاز نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بی جے پی کا ساتھ چھوڑ رہا ہے ،کوئی اسے نصیحت دے رہاہے تو کوئی اسے دھمکی بھی دے رہا ہے۔

غرضیکہ ضمنی انتخابات میں یکے بعد دیگرے بی جے پی کی شکست کے بعد، این ڈی اے میں ایک معنی خیز ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ابھی تک خاموش رہنے والی جماعتوں کا موقف بھی جارحانہ ہو رہاہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندستانی عوامی مورچہ پہلے ہی این ڈی اے علیحدگی کا اعلان کر چکی ہے۔اس کے بعدٹی ڈی پی نے اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو منقطع کر لیا۔بہار میں ضمنی انتخابات میں لالو یادو کے جیل میں ہونے کے باوجود آر جے ڈی نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے آر جے ڈی کی عوامی مقبولیت کا اندازہ دیگر جماعتوں کو بخوبی ہو گیا ہے۔

اسی لئے این ڈی اے کے حلیف نتیش کمار اور پاسوان کا لہجہ بھی بدل گیا ہے۔ نتیش کمار کو آر جے ڈی سے ناطہ توڑ کر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائے ہوئے بہت زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجودٹی ڈی پی کے بعد انھوں نے بھی خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا ایشو اٹھا دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی سرکار چاہے کسی بھی اتحاد کے سہارے چل رہی ہو، لیکن ان کا ارادہ اب بھی نہیں تبدیل ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ سے چاہتی ہے کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ ملے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج بھلے ہی آندھرا پردیش کے لئے یہ مطالبہ نیا ہو، لیکن بہار کے لئے ۱۰؍ سال پرانا مطالبہ ہے۔ انھوں نے بی جے پی کا نام تو نہیں لیا، لیکن کہا کہ بد عنوانی اور سماج کو توڑنے والی پالیسی سے وہ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں ووٹ کی نہیں لوگوں کی فکر کرتا ہوں۔ میں ہمیشہ سے سماجی ہم آہنگی کا حامی رہا ہوں۔ میرے ۱۲؍ سال کے کام اس کا ثبوت ہیں‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم لوگوں نے ۱۲؍ میں اقلیتوں کی فلاح کے لئے جو کام کئے ہیں، اس سے پہلے یہاں کبھی نہیں ہوئے۔ اقلیتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اچانک کچھ اسی طرح کا بیان رام ولاس پاسوان نے بھی دیا۔ انھوں نے تو کانگریس کی تعریف کرکے کچھ اشارے بھی دے دئے۔ انھوں نے کہا، ’این ڈی اے کو سماج کے تمام طبقات کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔کانگریس نے سماج ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے کئی دہائیوں تک حکومت کی ہے۔بی جے پی کی دلتوں اور اقلیتوں کے بارے میں جو رائے ہے اسے بدلنا چاہئے۔ کیا بی جے پی میں سیکولر رہنما نہیں ہیں؟‘‘

بہار میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے والے لوک جن شکتی پارٹی کے صدر اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کے بیٹے چراغ پاسوان نے بھی کہا ہے کہ بی جے پی کو اتحادیوں سے بات کرنی چاہئے اور اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ این ڈی اے میں یہ بکھراؤ کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی نئی جگہوں پر تو انتخابات جیت رہی ہے، لیکن وہ پہلے سے جیتی ہوئی سیٹیں کیوں نہیں بچاپا رہی ہے۔وہیں بہار کی ہی ایک اور جماعت آر ایل ایس پی کے اوپیندر کشواہا نے بھلے ہی کچھ نہیں کہا ہو، لیکن ان کی سرگرمیاں بہت کچھ اشارہ دے رہی ہیں۔ جنوری میں انہوں نے بہار میں ایک انسانی زنجیرکا اہتمام کیا تھا، جس میں آر جے ڈی کے بہت سے لیڈران شامل ہوئے تھے۔ان کی آرجے ڈی سے نزدیکیوں کی خبریں کافی گرم ہیں۔اسی طرح بی جے پی کی ایک اورقابل اعتبار حلیف جماعت شرومنی اکالی دل بھی کچھ کچھ اشارے دے رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے، شرومنی اکالی دل کے سینئر رہنما نریش گجرال نے شدید حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کسی بھی صورت میں بی جے پی آئندہ انتخابات میں ۲۷۲؍ سیٹیں نہیں جیت نہیں سکتی، یہ موجودہ حالات سے صاف نظر آ رہا ہے۔‘جموں و کشمیر کی اگر بات کریں تو محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے این ڈی اے کا حصہ بنے رہنے کے باوجود حال ہی میں محبوبہ مفتی نے اپنی حکومت سے جس طرح وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور بی جے پی لیڈر رام مادھو کے قریبی مانے جانے والے وزیر حزانہ حسیب درابو کو ہٹایا، وہ بتاتا ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کے رشتوں میں اب وہ بات نہیں، جو پہلے تھی۔ کیرلہ میں امید لگائے بیٹھی بی جے پی کو وہاں سے بھی جھٹکا لگا ہے۔ بی جے پی کی حلیف ’بھارت دھرم جن سینا‘ نامی پارٹی نے ۱۴؍ مارچ کو این ڈی اے الگ ہونے کا اعلان کر تے ہوئے صاف کیا کہ وہ چینگنوراسمبلی سیٹ پر آئندہ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی حمایت نہیں کرے گی۔

کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کے لئے آنے والے دن اور بھی مشکلوں بھرے ہو سکتے ہیں۔ بھلے ہی بی جے پی کے لیڈران ظاہر نہ کریں، لیکن نتیش کمار، رام ولاس پاسوان، چندرا بابو نائڈو، اُدھو ٹھاکرے،جیتن رام مانجھی، او پی راج بھر، اوپیندر کشواہا، دیپک دھولیکر، سکھبیر سنگھ بادل، محبوبہ مفتی وغیرہ کی پارٹیوں نے اشارہ دے دیا ہے کہ ۲۰۲۹ء تک مودی کے وزیر اعظم بنے رہنے کی امیدیں کہیں۲۰۱۹ء میں ہی دم نہ توڑ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *