اسرائیلی وزیر اعظم کا ہندوستان دورہ : اور یہ سرد مہری ، آخراس کی وجہ کیا ہے ؟

ہندوستانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر اس دورے کو ابھی اپڈیٹ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری ہوا ہے

Ashraf Ali Bastavi

  نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز اسپیشل ) حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے باخبر قارئین کے ذہن میں جولائی 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے سے متعلق ہر چھوٹی بڑی تفصیلات ضرور تازہ ہوں گی ۔ دونوں جانب کے میڈیا نے دورے سے بہت پہلے ماحول سازی شروع کر دی تھی ۔

اسی دورے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم منصب بنیامن نیتن یاہو کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کر لیا تھا ۔ اب یہی چار روزہ دورہ 14 جنوری 2018 سے شروع  ہونے والا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میڈیا میں کوئی جوش نظر نہیں آرہا ہے دونوں جانب سرد مہری کا سماں ہے ۔ کم و بیش اسرائیلی میڈیا کی بھی یہی صورت حال ہے ،

ہندوستان میں اسرائیل کے سفارت خانے کی ویب سائٹ پر بھی اس دورے سے متعلق کوئی تازہ اپڈیٹ نہیں ہے ۔ البتہ دورے سے متعلق  معاصر انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں ‘ششر گپتا ‘کی ایک خصوصی رپورٹ 7 جنوری کو شائع ہوئی ہے ، لیکن اس کے علاوہ کہیں کوئی ہلچل نظر نہیں آتی ، ہندوستانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر بھی اس دورے کو ابھی اپڈیٹ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری ہوا 

جن لوگوں کے سامنے نریندر مودی کے اسرائیل دورے کی ہر پل کی تفصیلات ہیں انہیں یہ سوال ضرور پریشان کر رہا ہوگا کہ آخراس سرد مہری کی وجہ کیا ہے ؟ سیاسی مبصرین بہتر جانتے ہیں کہ  ہندوستان کی برسر اقتدار جماعت کی اسرائیل انتطامیہ سے ذہنی قربت کا سفر برسوں پر محیط ہے ،

 یہ سفارتی تعلقات سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔ جس کا بخوبی اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے اسرائیل دورے کے دوران جا بجا کیا اور اسرائیل کو فطری شراکت دار اور دوست قرار دیا، دل کھول کر تجارتی اور اسٹرٹیجک معاہدے کیے ، یہ اور بات ہے کہ رفائل اسلحہ معاہدہ کنہی وجوہ سے ہندوستان کو منسوخ کرنا پڑ گیا .

ایک ہفتے قبل ہی یہ حیرت انگیز خبر یہ آئی کہ اسرائیل کی سرکاری اسلحی ساز کمپنی رفائل نے بتایا ہے کہ ٹنیک شکن میزائیل خریدنے کا جو سودہ ہندوستان سے ہوا تھا اسے ہندوستان نے رد کر دیا ہے ۔ ہندوستان نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ہندوستان دورے سے محض ایک ہفتے قبل کیا ہے ۔ یقینا ہندوستان کا یہ قدم چونکانے والا ہے۔

دوسرا بڑا واقعہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں پیش آیا جہاں ہندوستان نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اعلان کیے جانے کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف ووٹ کیا تھا ۔ حالانکہ حکومت ہند نے امریکی صدر کے اعلان کے فوری بعد جو بیان جاری کیا تھا اس میں  زبان کی مہارت اور سفارتی لہجے کا بھر پور خیال رکھا گیا تھا ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی رشتوں کو ترجیح دی تھی،

۔ اس درمیان متذکرہ بالا  دو بڑے واقعات ہوئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ  دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رشتے میں فی الحال وہ جوش سرد پڑ گیا ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ دورہ نئے سرے سے رشتوں میں وہ گرمی لانے والا ثابت ہوگا؟

جب دونوں وزرائے اعظم 14 جنوری کو ملیں گے تو موضوع گفتگو کی فہرست میں رفائل اسلحہ سودے کی منسوخی اور اقوام متحدہ میں ہندوستان کا امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ دینا کس مقام پر ہوگا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *