پارلیمانی انتخابات 2019کے بعد مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ /جماعت اسلامی ہند

Asia Times Desk

پارلیمانی انتخابات 2019کے بعد مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ

نئی دہلی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر محمد سلیم انجینئر نے پارلیمانی انتخابات کے معد ملک بھر میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا کو جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مثبت اور پر امیدبیان کے باوجود ملک میں دلت اور اقلیتی طبقہ کے خلاف جرائم میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز جر ا ئم میں سلسلے وار اضافہ کی چند مثالیں اس طرح ہیں۔ 22جون کو مدھیہ پردیش کے سیونی میں گؤ رکشکوں نے ایک مسلم جوڑے اور ان کے ہندو دوستوں کو مبینہ طور پر گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں جبراََ جے شری رام کہنے کو کہا۔ دوسرا واقعہ گرو گرام، ہریانہ کا ہے۔ 25مئی کو محمد برکت جب تراویح کی نماز پرھ کر واپس آ رہا تھا، تو کچھ بدمعاشوں نے اس کے ساتھ مار پیٹ کی، اسے اپنی ٹوپی اتارنے اور جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔ 25مئی ہی کو رائے پور کے گوکل نگر میں ایک مسلمان کی ڈیری کی دکان میں نام نہاد گؤ رکشکوں نے توڑ پھوڑ کی اور دکان کے مالک عثمان قریشی اور کار کنان پر حملہ کیا۔ ان لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ ڈیری کی آڑ میں گؤ کشی کی جاتی ہے اور گوشت کا کاروبار ہوتا ہے۔ 26مئی کو بیگو سرائے میں پھیری والے محمد قاسم کو صرف اس لیے گولی کا نشانہ بنایا گیا وہ مسلمان تھا۔

راجیو یادو نے اس پریہ کہتے ہوئے گولی چلائی کہ قاسم کو پاکستان میں رہنا چاہیے۔ 30مئی کو آندھرا پردیش کے سنگم پلی گاؤں میں ا ا و نچی ذات کے ایک 30سالہ دلت بکی سری نواس کو آم توڑنے کے جرم میں چھڑی سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا اور بعد میں اسے خود کشی کا روپ دینے کی کوشش کی۔ سیونی واقعہ کو ابھی ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ 31مئی کو مدھیہ پردیش کے راج گڑھ میں سمیر اللہ کو موبائل فون کے دکان مالک نے کوکا کولا کی خالی بوتل اور بٹ سے مار مار کر ادھ مرا اس لیے کر دیا، کیونکہ اس نے موبائل فون کے باکس کا مطالبہ کر دیا تھا۔ سمیر اللہ کے سر اور جسم کے دوسرے اعضاء پر گہری چوٹ آئی ہے اور وہ شدید طور پر زخمی ہے۔ 29مئی کو بریلی کے ایک مندر کے احاطہ میں چار افراد کو مبینہ طور پر گوشت کھانے کے الزام میں بری طرح مارا پیٹا گیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ چار افراد مندر کے احاطے میں لنچ لے رہے ہیں اور انہیں ایک گروہ بے رحمی سے پیٹ رہا ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے ایسے واقعات ہوں گے جو اخبارات میں جگہ نہ پا سکے ہونگے۔ یہ حالات اور واقعات جمہوری ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ محمد سلیم انجینئر نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کا بیان بھی ان سماج اور ملک دشمن عناصر پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کا مطالبہ ہے کہ اس صورت حال کو فوری قابو میں کیا جائے اور مجرموں کو گرفتار کر کے بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ہے۔ اور حکومت کی جانب سے یہ پعغام جائے کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر چاہے کسی بھی طبقے سے ہوں، کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملک میں دستور اور قانون کی بالا دستی ہر قہمت پر قائم کی جائے گی۔ موصوف نے کہا کہ قانون کی حکمرانی قائم کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے بغیر ملک ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *