‘کثرت میں وحدت’ ہماری طاقت ، صحت مند معاشرے کی تعمیر میں سب اپنا کردار نبھائیں / امیر جماعت اسلامی ہند

جماعت اسلامی ہند کی عید ملن تقریب

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز)  اس وقت ہندوستان کو تین بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی ، گروپ بندی اور سماجی نابرابری ۔ ملک کا ہر شہری خواہ اس کا تعلق سماج کے کسی بھی طبقے سے ہو خاص طور سے دانشور طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنےکے لیے آگے آئے ۔ ہمارا ملک دنیا بھرمیں اپنی الگ شناخت کثرت میں وحدت کے لیے مشہور ہے اور یہی ہماری طاقت ہے ۔ ہم سب کو معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار نبھانے کے لیے آگے آنا ہوگا ۔

اشتہار

ان خیالات کا اظہارامیر جماعت اسلامی ہند  سید سعاد ت اللہ حسینی نے 9 جون کو دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں جماعت اسلامی ہند کی جانب منعقد عید ملن تقریب میں کیا ۔ عید ملن کی اس پروقار تقریب میں ملی تنظیموں کے نمائندوں ، ہندو، مسلم ،سکھ ،عیسائی، بودھ اور جین مذ ہب کے مذہبی رہنماوں ،دانشوروں اور دہلی میں تعینات دوسرے ملکوں کے سفارت کاروں نے شرکت کی ۔

عید ملن کی تقریب میں شرکاء

 امیر جماعت نے اپنے پہلےعید ملن پیغام میں کہا کہ تشویش اس بات کی ہے کہ کچھ لوگ گائے تحفظ ،چوری اور دیگر جرائم کی مخالفت میں قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگے ہیں یہ رجحان ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔ یہ باتیں ہندوستانی سماج کو کمزور کرتی ہیں اوراس سے معاشرہ تقسیم ہوتا ہے اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں تیزی سے بدامنی پھیلتی ہے جا رہی ہے ۔ ہم سب کو اس کا نوٹس لینا ہوگا ۔

محترم امیر جماعت نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے ہمارے ملک میں سماجی نا برابری کی خلیج تیزی سے بڑھی ہے ،غریب دن بدن غریب تر ہوتے جا رہے ہیں،غریب کی جیب پر سرما یہ داروں کا قبضہ بڑھتا جا رہا ہے ، اس سچائی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔

 ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ مسائل کے حل کے لیے آگےآئیں۔ خاص طور سے نوجوان طبقہ آگے آئے۔ جماعت اسلامی ہند ملک کے ہر شہری سے اپیل کرتی ہے کہ ہم سب مل جل کر صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار نبھائیں ، یہی عید کا اصل پیغام ہے۔

آریہ سماج کے رہنما معروف سماجی کارکن سوامی اگنی ویش نے اس موقع پر کہا کہ یہ ملک یہاں بسنے والے ہر شہری کا ہے یہاں ہنوتوا اور ہندو راشٹر سے بالاتر ہوکر انسانیت کے لیے کام کرنا ہوگا ۔ کانگریس کے سینئر لیٖڈر منی شنکر ائیرنے کہا کہ ملک کا آئین ہر شہری کو برابری کا حق دیتا ہے۔ آئین سبھی ہندوستا نیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ‘ہم بھارت کے لوگ ‘ کہتا ہے ، آئین کےاسی نظریے کو بچانے اور اسے عام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری صرف مسلمانوں یا اقلیتوں کی نہیں ہم سب کی ہے ۔

اشتہار

عیسائی رہنما ڈاکٹر ٹھامس نے کہا کہ  ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اردگرد بنائی گئی خیالی دیواروں کو توڑکر انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کو گلے لگائیں ۔ برہما کماری نوئیڈا کی ڈائریکٹر برہما کماری منجو نے کہا کہ عید کی حقیقی خوشی یہ ہے کہ یہ تیس دن کے روزوں کے بعد آتی ہے ، روزوں کے دوران مسلم بھائی تمام طرح کی برائیوں سے توبہ کر لیتے ہیں ۔ آئیے ہم سب ہمیشہ کے لیے برائیوں سے توبہ کر لیں ۔

معروف دانشور سابق سفارت کار مچکند دوبے نے ‘کثرت میں وحدت’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہی ہماری اصل طاقت ہے ، ہمیں ہر حال میں کثرت میں وحدت ‘ کے نظریے کا تحفظ کرنا ہے ، اس نظریے کے خلاف کھڑے ہونے والے ذہنوں کی غلط فہمیوں کو مٹانا ہوگا ۔ سی پی آئی  لیڈر اتل کمارانجان نے کہا کہ ہندوستان ایک نایاب ملک ہے ،یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں ، ملی جلی آبادیوں میں رہتے ہیں ،ایک دوسرے کے تہوارسب مل کر مناتے ہیں ،ہمیں اسے برقرار رکھنا ہے ، ہم ذہنی تنگی کے بجائے سب کو گلے لگانے والے بنیں ۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر دلیپ پا نڈے نے کہا کہ عید ملن کی اس تقریب میں یہاں سبھی مذاہب کے لوگوں کی شرکت حقیقی ہندوستان کی تصویر پیش کررہی  ہے، ہمیں یہی پیغام لیکر معاشرے کے ہر فرد تک پہونچنا ہے ۔ بھیم آرمی کے صدر چندر شیکھر نے کہا کچھ طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ہم سب کو انسانیت کے نام پر ایک ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ۔ پروگرام میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغرامام مہدی سلفی جمعیت علما ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی ، مسلم پرسنل بورڈ کے رکن کمال فاروقی سمیت کثیر تعداد میں مختلف شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکےکی ںظامت سیکریٹری شعبہ دعوت جماعت اسلامی ہند محمد اقبال ملا نے کی اور نائب امیر جماعت اسلامی ہند محمد سلیم انجینئر نے اظہار تشکر پیش کیا ۔ پروگرام کا افتتاح قاری عبد المنان کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کا ہندی اور انگریزی میں ترجمہ پیش کیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *