مسلم نوجوان قوم پر بوجھ نہیں، اثاثہ بنیں/ سید سعادت اللہ حسینی

نومنتخب امیر جماعت اسلامی ہند کی پہلی پریس کانفرنس

Asia Times Desk

نو منتخب امیر جماعت نے تیز رفتاری سے کام کرنےکا  اشارہ دیا ؛ کہا ، ہم اپنےعمل سے اسلام کا تعارف کرائیں

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز / اشرف علی بستوی کی رپورٹ )  سات اپریل 2019 کو جماعت اسلامی ہند کے نئے امیر جماعت کے انتخاب کے ساتھ ہی جماعت کی آئندہ چار سالہ میقات کا آغاز ہوگیا ہے ۔ نو منتخب امیر جماعت اسلامی ہند محترم سید سعادت اللہ حسینی نے 8 اپریل کی صبح ساڑھے نو بجے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد مرکزجماعت میں ایک خصوصی پریس کانفرنس کو خطاب کیا ۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں اور خصوصا مسلم نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ” مسلم نوجوان خود کو تعلیم سے آراستہ کریں ،حالات سے باخبر رہیں اور قوم پر بوجھ نہیں ، اثاثہ بنیں “۔ محترم نے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتی فرقہ واریت کا مقابلہ  اسلام کے پیغام محبت سے کیا جانا چاہئے ، ہمیں اپنے عمل سے دنیا کو یہ بتانا چاہئے کہ اسلام امن اور خیر کا سر چشمہ ہے ۔

اس سے قبل سابق امیر جماعت اسلامی ہند محترم مولانا سید جلال الدین عمری نے نو منتخب امیر جماعت کے لیے خیر مقدمی کلمات پیش کیے اور اپنی دعاوں سے نوازا ۔ مولانا محترم نے کہا کہ امارت کی تبدیلی اب لازم ہوگئی تھی ، اس بارے میں جب مجھ سے معلوم کیا گیا میں نے پرزور انداز میں یہ بات کہی اور سعادت صاحب کا نام پیش کیا ، مجھے سعادت اللہ حسنی صاحب کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے کہ جماعت کا یہ قافلہ محترم کی قیادت میں مضبوطی سے آگے بڑھے گا ۔

اس موقع پر نو منتخب امیرجماعت سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کے سامنے اپنی نئی ٹیم کا تعارف کرایا انہوں نے بتایا کہ جناب ٹی عارف علی کو سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے ، ان کے علاوہ جناب سید محمد جعفر صاحب ، انجینئر محمد سلیم صاحب  اورجناب ایس امین الحسن صاحب جماعت اسلامی ہند نائب امیر بنائے گئے ہیں ۔

نو منتخب امیر جماعت سے پہلا سوال سینئر جرنلسٹ اے یو آصف نے کیا ، پوچھا کہ آپ کی ترجیحات کیا ہوں گیں ؟

اس کے جواب میں محترم امیر جماعت نے بتایا کہ جماعت کا نظام شورائی ہے ہم جو بھی ترجیحات ، پالیسی اور پروگرام طے کرتے ہیں شوریٰ کے مشورے سے طے کرتے ہیں آئندہ چار سالہ میقات کے لیے ترجیحات ، پالیسی اور پروگرام ترتیب دینے کے لیے ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ اس کے علاوہ  ہم اپنے کام کی رفتار تیز کرنا چاہیں گے ،نوجوانوں کو تحریک میں بڑے پیمانے پر شامل کرنا چاہیں گے ،معاشرے میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینا چاہیں گے ، جن علاقوں میں جماعت ابھی کمزور ہے ان علاقوں پر خاص توجہ دی جائے گی ۔ مکمل پالیسی پروگرام اور ترجیحات شوریٰ کے مشورے کے بعد ہی طے ہوں گیں ۔

موصوف سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ آپ نے جس وقت جماعت اسلامی ہند کی امارت کی ذمہ داری سنبھالی ہے یہ ملک کے لیے بہت چیلنجوں والا وقت ہے اس مشکل دور میں مسلمانوں کی  حکمت عملی کیا ہو ؟

اس کے جواب میں امیر جماعت نے کہا کہ مسلمانوں کے کرنے کاکام یہ ہے کہ ہم ہندوستان میں بسنے والے تما م طبقات سے اپنے روابط بڑھائیں ،ان کے ساتھ بیٹھیں ،ان کے مسائل کے حل میں شریک ہوں۔ اس ملک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج تقسیم کی سیاست ہے جس کے نتیجے میں نفرت پھیل رہی ہے ، سماج بکھر رہا ہے ، مسئلے کاحل اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہمارے نوجوان اس کا نوٹس لیں اور نفرت کے جواب میں محبت کی فضا ہموارکریں ،اسلام اور مسلمانوں کا صحیح تعارف عالم انسانیت  کے سامنے آئے ۔

 مختلف مذہبی گروپوں سے گفتگو کی راہ نکالیں اور خدمت سے لوگوں کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کریں ۔ جناب نے انتہائی اہم نقطے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہم معاشرے پر بوجھ نہ بنیں بلکہ اس کو دینے والے بنیں اور اپنے عمل سے اسلام کے پیغام کو عام کریں ۔ ہم اس ملک کے شہری ہیں اور ملک کے سبھی شہری ایک ہیں اگر کسی کو کسی سے کوئی شکایت ہے تو اس کا ازالہ مذاکرات سے ہونا چاہئے ۔

موصوف سے ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ جماعت کے سابق امراء اور قائدین جماعت کے بارے میں تفصیلات کی عدم فراہمی تشویش کا باعث ہے ؟ اس کے جواب میں موصوف نے کہا کہ ہم آپ کی اس تجویز پر غور کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت نے کہا کہ پارلیامانی انتخابات میں ہمیں جذباتی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر ترقیاتی اور تعمیری ایشوز کی بنیاد پر ووٹ ڈالنا چاہئے،کہا کہ جماعت نے ہمیشہ فرقہ پرست قوتوں کو شکست دینے کے لیے ایسے افراد اور جماعتوں کی تائید کی ہے جو ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں ۔

مرکز جماعت میں جس وقت یہ پریس کانفرنس جاری تھی عین اسی وقت  بی جے پی کے دفتر میں بی جے پی کے انتخابی منشور کے اجرا کی تقریب جاری تھی ۔  صحافی حضرات نے اس موقع پرسوشل میڈیا سے حاصل ابتدائی اطلاع کی بنیاد پرسوال کیا کہ بی جے پی کے  انتخابی منشور پر کیا کہیں گے؟  جو اب سے کچھ دیر قبل جاری ہوا ہے جس میں  بی جے پی نے ایک بار پھر متنازعہ ایشوز رام مندر کی تعمیر دفعہ 370 ، دفعہ 35 اے اور یکساں سول کوڈ کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا ہے؟ 

جماعت اسلامی کا امیر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے 

امیر جماعت نے کہا کہ ابھی منشور ہمارے سامنے نہیں ہے مطالعے کے بعد ہی اس پر کوئی حتمی تبصرہ کیا جا سکتا ہے البتہ جن ایشوز کی بات کی جا رہی ہے ان پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے ۔  ہم یکساں سول کوڈ کو ملک کے لیے بہت نقصان دہ سمجھتے ہیں یہ ہمارے آئین کی روح کے  خلاف ہے ۔ اس ملک کو متحد رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہاں پرسنل لا کو تحفظ حاصل رہے ، یہ بات ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کہتے رہیں گے ، ہم بی جے پی کے اس غیر آئینی مطالبے کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اسی طرح کشمیر کے تعلق سے بھی ہمارا موقف بہت واضح ہے اور اگر بی جے پی کے منشور میں اس کے خلاف کوئی بات کہی گئی ہے ہم اس کی بھی مخالفت کریں گے ، اس کے  نقصانات ملک کے سامنے لائیں گے

نو منتخب امیر جماعت کے بارے میں 

طلبہ تنظیم ایس آئی او سے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں امیر محترم نے کہا کہ ایس آئی او ایک نیم آزاد تنظیم ہے امیر جماعت اس کے سرپرست اعلیٰ ہوتے ہیں ،ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی پالیسی اور ان کے فیصلے طے شدہ مقاصد کے تحت ہونے چاہئے ،اگر کوئی کوتاہی نظر آتی ہے تو انہیں متوجہ کرتے ہیں ، ورنہ ہم زیادہ پسند یہی کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے آزادانہ طور پر لیں ، وہ اپنا ایجنڈا خود طے کرتے ہیں پالیسی پروگرام بناتے ہیں بہتر ہوگا کہ یہ سوال ایس آئی او کی قیادت سے کیا جائے ۔ ہم  تو بس ان کی رہنمائی کرتے مقاصد سے خدا نخواستہ مقصد سے انحراف کی صورت میں اصلاحی اقدامات اٹھانا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے ۔

محترم سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی ہند اس وقت اتنا محتاط کیوں ہے کیا کسی خوف کا شکار ہے ؟

اس کے جواب میں امیر جماعت نے کہا کہ جماعت مستقل سیاسی محا ذپر کام کر رہی ہے ۔ ہم نے پہلے سیکولر سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی ان کے مابین گفت و شنید کا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی  ، رائے دہندگان میں بیداری لانے کی ہم مستقل کوشش کر رہے ہیں ، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اصل ترقیاتی ایشوز پر بحث ہو رہی بات رائے دہندگان کی رہنمائی کی تو ہم اس سلسلے میں آخری مرحلے میں ہی رائے دہندگان کے لیے اعلان کرتے ہیں ۔ پہلے  پارٹیوں کے انتخابی منشور کا مطالعہ کرتے ہیں ، امیدواروں کا جائزہ لیتے ہیں ان کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ، رائےعامہ کا اندازہ لگاتے ہیں تب اپنی حتمی رائے دیتے ہیں ، یہ کام آخری مرحلے کی ووٹنگ تک جاری رہے گا ۔

ایک سوال یہ بھی آیا کہ جماعت اسلامی ہند نے گزشتہ 70 برس میں کیا نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے ؟

اس کے جواب میں امیر جماعت نے کہا کہ یہ تجزیہ طلب سوال ہے ، بینادی طور پر جماعت نے متعدد محاذ پر کام کیا ہے ۔ کئی معاملات میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے ۔ جماعت اسلامی ہند نے اس ملک میں سیاست میں اخلاقی اقدار کی آواز بلند کی ، بین المذاہب مذاکرات کی بات کی ، اس کے لیے پہل کی ۔  مسلمانوں کا اعتماد بحال کیا ، ان میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا شعور پیدا کیا ان کو اسلام سے وابستہ کیا ، دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جائے اس کے لیے راہیں ہموار کیں ۔ اسلامی معاشیات اور اسلامک بینکنگ کی جانب متوجہ کیا اس طرح دیگر میدانوں میں جماعت نے کام کیا ہے ، کچھ میں ہم بہت کامیاب رہے ہیں اور کچھ میں ہمیں ابھی اور کام کرنے کی ضروت ہے ۔ اس موقع پر اسٹیج پر ان کے ساتھ تینوں نائب امراء کے علاوہ سابق امیر جماعت مولانا سید جلال الدین عمری ، سابق نائب امیر جناب نصرت علی  بھی موجود تھے ۔ پریس کانفرنس میں کثیر تعداد میں پرنٹ الیکٹرانک اور ویب میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی ۔

ویڈیو رپورٹ 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *