جماعت اسلامی ہند کی نئی قیادت کا پیغام اورعزائم

محمد صبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

ملک کی سب سے منظم جماعت اورتحریک اسلامی “جماعت اسلامی ہند”نے ایک اور چار سالہ میقاتی (23۔2019 )پالیسی پروگرام کا آغاز کردیا ۔نئے عزائم کےساتھ اس کا اعلان خود امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے 13 جولائی 2019 کومین اسٹریم میڈیا کےسامنےپریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا ۔جماعت کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ میقاتی پالیسی وپروگرام دنیا اورقومی میڈیاکےسامنےپیش کیا گیا اورقیادت نے اس سے متعلق میڈیا کےسوالوں کا جواب دیا ۔ نئے امیر جماعت کے انتخاب کےبعد کہا بھی جارہا تھاکہ وہ انقلابی تبدیلی لائیں گے ۔ جماعت کی سب سے طاقت ور اورفیصلہ ساز باڈی 157 رکنی مجلس نمائندگان نے اسی انقلابی تبدیلی کےلئے قیادت کےانتخاب سےمتعلق دنیا کی مسلم تنظیموں اور اسلامی تحریکوں کے روایتی طریق کار سے ہٹ کر انتخاب کیا ۔

محمد صبغۃ اللہ ندوی

ملک کی پانچ اہم شخصیات مولانا ابواللیث ندوی مرحوم ،مولانا محمد یوسف مرحوم ، مولانا سراج الحسن صاحب ، ڈاکٹر عبدالحق انصاری مرحوم اور مولانا سید جلال الدین عمری صاحب کی قیادت میں 78 برسوں کا کامیاب سفر کرنے والی جماعت نے نئی میقات میں نئی نوجوان قیادت ، نئی امیداورنئے عزائم کےساتھ آگے بڑھنےکا فیصلہ کیاتو اس کےلئے اس کی نظر اپنی طلباتنظیم ایس آئی اوسے تربیت یافتہ اوراس کی قیادت کرنےوالی نوجوان اورباصلاحیت سید سعادت اللہ حسینی پر نظر پڑی ۔ اپنے شورائی نظام کی وجہ سے عالمی اسلامی تحریکوں میں منفرد مقام رکھنےوالی جماعت اسلامی ہند میں صرف قیادت کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ نائب امراء جماعت اورقیم جماعت بھی بدل گئے ۔نئے منتخب نائب امراء جناب محمد جعفر صاحب ، انجینئر محمد سلیم اورایس امین الحسن اورقیم جماعت ( سکریٹری جنرل )ٹی عارف علی بھی طلباء تنظیم سے تربیت یافتہ ہیں ۔ جماعت کےموجودہ چوٹی کے تمام قائدین کا تعلق طلباء تنظیم سے رہا ہے ۔ بہت بڑی بات ہےکہ  جماعت کواپنےقیام کے78 برس بعد اپنی طلباء تنظیم سے  قیادت کے لئے افراد ملنے لگے اورجوطلباء تنظیم پہلےجماعت کےلئے افراد سازی کا کام کرتی تھی اب قیادت فراہم کررہی ہے ۔

جماعت اسلامی کا شروع سے مزاج ہے کہ ہر فیصلہ اورہر کام مشن کےطور پر کرتی اور انجام تک پہنچانےکی کوشش کرتی ہے اسی لئےاپنے ارادوں میں کامیاب رہتی ہے ۔کوئی سوچ سکتا تھا کہ 70 افراد کی ٹیم اور70 روپئے کےسرمایہ سے جس جماعت نے 26 اگست 1941 کو مشن شروع کیا تھا اس کےارکان کی تعداد گیارہ ہزارہوگئی ،لاکھوں لوگ اس کےمشن سے مستفید ہورہے ہیں ۔اس کےماتحت چلنے والے اداروں کی طویل فہرست بن گئی جن سے ہزاروں افراد وابستہ ہوکر دعوت وتبلیغ اورخدمت خلق کےجذبے کےتحت مشن کو آگے بڑھانےکا کام کررہے ہیں ۔ارکان جو جماعت کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں ، سماج میں اپنی ذمےداری الگ نبھارہے ہیں اوراداروں سے وابستہ افراد اداروں کےذریعہ اپنا کام الگ کررہے ہیں ۔سب کو رہنمائی جماعت کی قیادت اورپالیسی وپروگرام سے ملتی ہے ۔مجلس نمائندگان سے نئی قیادت کےانتخاب کےبعد جماعت کے مقامی اورحلقوں کےذمےداران اورمرکزی سکریٹریز کا  انتخاب ہوااورشوری کی میٹنگ میں تبادلہ خیال کےبعد اب پالیسی وپروگرام  کااعلان بھی کردیا گیا ۔ موٹے طور پر جماعت کے چار سالہ میقاتی پروگرام کو بیان کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کےازالے ، اس کےحقیقی اورآفاقی پیغام لوگوں تک پہنچانے،ملکی سماج کی اصلاح ،انسانیت، اعلی اخلاق اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کےفروغ ، سماجی برائیوں کےخاتمے ،مسلمانوں کےتحفظ اورسلامتی وترقی ،کشیدگی کےماحول کو ختم کرنےاورعالمی اقدار کو محفوظ رکھنے،ملک میں امن وانصاف کےقیام ، غریبی ،بے روزگاری ، ناخواندگی اوربھکمری کےخاتمے، قدرتی آفات اورمصیبت کےاوقات میں امداد کی فراہمی کےلئےجماعت  کام کرےگی جیساکہ امیرجماعت نے پریس کلب آف انڈیا میں بتایا کہ جماعت کا مقصد موجودہ صورت حال (قومی وعالمی سطح ) پر اورمعاصر چیلنج کےتناظر میں اسلامی نظریات کو فروغ دینا اورتحقیقاتی سرگرمیاں انجام دینا ہے ۔مناسب ، سستی اوراقدارپر مبنی تعلیم کو فروغ دینےاورمسلمانوں ودیگر پسماندہ طبقات کی تعلیمی ترقی کےسلسلے میں حکومت کا تعاون کرےگی ۔ان کاموں اوراپنےپروگراموں کو روبہ عمل لانےکےلئے نوجوانوں ، بچوں اورخواتین کی حوصلہ افزائی کرےگی کیونکہ یہ تینوں طبقات مذکورہ مشن کی تکمیل میں کافی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اوران کےذریعہ وہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں جس کا خواب جماعت اسلامی کی نئی قیادت نےدیکھا ہے ۔

نئے امیر جماعت نےمرکزجماعت میں منعقدہ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی تبدیلی ، کام کی اسپرٹ بڑھانےاورنئے عزائم کا اظہار کیا تھا اورکیوں نہ کریں جب قائد کی ذمےداری بہت زیادہ ہوتی ہے خصوصانئے قائد سے کچھ زیادہ امید کی جاتی ہے تو چیلنج بھی بڑھ جاتاہے۔اسی لئے نئی قیادت نے جماعت کی چہاردیواری سے نکل کر پریس کلب آف انڈیا میں اپنے عزائم کا اظہارکیا تاکہ پوری دنیا کو  پھر سے معلوم ہوجائے کہ جماعت کا نصب العین اورمقاصد کیا  ہیں اوروہ کیا کرنا چاہتی ہے ۔جماعت اسلامی میں ایک توعلاقائیت کےلئے جگہ نہیں ہوتی ، قیادت میں بھی سب نےدیکھا کہ علاقائی سطح پر پورے ملک  کا احاطہ کیا گیا ،ارکان وذمےداران اوردفاتر واداروں کےکارکنان بھی ملک کےہر علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کےدرمیان صرف اخوت اسلامی کا رشتہ ہوتاہے اورپیش نظر اقامت دین ،دعوت وتبلیغ ،ملک وملت وسماج کی خدمت اوررضائے الہی کا حصول ہوتاہے اوروہ خود کو تحریک کےدست بازوسمجھتے ہیں چاہے کسی کام پر مامور ہوں ۔دوسری بات یہ ہےکہ مقامی جماعت سے حلقےتک اورحلقے سے مجلس نمائندگان ومجلس شوری تک اور تمام اداروں میں ہرسطح پر نوجوانوں اوربزرگوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے جس سے نہ باہمی تعاون کےجذبے میں کمی آتی ہے اورنہ کام کے اسپرٹ میں، ہرکام خوش اسلوبی سے ہوتا رہتا ہے۔تیسری بات یہ ہےکہ شورائی نظام کی وجہ سے جماعت کاہر فیصلہ کافی غوروخوض اور بحث ومباحثے کےبعد کیا جاتاہے اس لئے غلطی کا امکان کم رہتاہے، اس کےنفاذ  اوراس پر کام کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔نئی میقات کےلئے جماعت نےجو پروگرام بنائے ہیں جن کا اعلان اورعزائم کا اظہار بھی کردیا گیا ، ان پر بھی ایک مشن کےطور پر  کام ہوگا ۔ یہی نئےامیر جماعت اسلامی ہندسید سعادت اللہ حسینی کا پیغام اورعزم ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *