ہڑتال اور یکطرفہ ٹریفک کے دوران بانہال قاضی گنڈ ریل سروس کو چالو رکھنے کا مطالبہ 

جموں سے آنے والے مسافرو ں کو تیس کلو میٹر کے سفر کےلئے 200روپے اداکرنے پڑتے ہیں

Asia Times Desk

 سرینگر/ ( نسار رسول )  دوران ہڑتال اور یکطرفہ ٹریفک کے وقت قاضی گنڈ بانہال ٹرین سروس کو چالو رکھنے کامطالبہ کرتے ہوئے لوگوںنے کہا ہے کہ ہڑتال اور یک طرفہ ٹریفک کے دوران جو لوگ جموں سے آتے ہیں یا قاضی گنڈ سے بانہار جانا چاہتے ہیں ان کو نجی ٹرانسپورٹ والے دو دو ہاتھوں لوٹتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ، اننت ناگ، پلوامہ ، کولگام اور دیگر علاقوں کے لوگوںنے مطالبہ کیا ہے کہ دوران ہڑتال جب بانہال ، قاضی گنڈ بڈگام ، سرینگر بارہمولہ ریل سروس بند ہوتی ہے اور یک طرفہ ٹریفک کے دن بانہال قاضی گنڈ ٹرین بند ہوتی ہے کو چالو رکھا جائے .
لوگوں نے کہا ہے کہ بانہال قاضی گنڈ ٹرین سروس کا بند رہنے کی وجہ سے جو مسافر جموں سے قاضی گنڈ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں تک جانے والے ہوتے ہیں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ محض 30کلو میٹر مسافت طے کرنے کےلئے انہیں یا تو نجی ٹرانسپورٹروں کو فی سواری 200روپے اداکرنے پڑتے ہیں یا رات وہیں گزارنی پڑتی ہے ۔ اس حوالے سے کئی اہم شخصیات جن میں ایڈوکیٹ عبدالرحمان تانترے اور دوسرے اشخاص نے بتایا کہ ہڑتال کے دوران جہاں وادی میں ریل سروس بند رکھی جاتی ہے بانہال قاضی گنڈ کو ریل سروس کو چالو رکھا جائے تاکہ جو لوگ جموں سے آتے ہیں انہیں اپنی منزلوں کی طرف جانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے ۔ واضح رہے کہ وادی میں ہڑتال کے دوران تمام ٹرانسپورٹ بند رہتا ہے اور حالات مخدوش ہونے کے نتیجے میں ریل حکا م ریل سروس کو احتیاطی طور پر بند رکھتے ہیں جبکہ سرینگر جموں شاہراہ پر یک طرفہ ٹریفک چالو رہنے کے دوران بانہال قاضی گنڈ ٹرین سروس کو بند رکھا جاتا ہے اس حوالے سے لوگوںنے کہا ہے کہ صرف بانہال اور قاضی گنڈ کے دوران ہی ریل سروس کو چالو رکھا جائے کیوں کہ اس ٹریفک پر عوامی مظاہروں کا کوئی خطرہ نہیں رہتا اور یہ ٹریک بلکل محفوظ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *