دوسری اصناف کی روشنی میں داستان کا محاکمہ غلط ہے: پروفیسر قاضی جمال حسین

قومی سمینار ’’اردو کا داستانی ادب‘‘ کا دوسرا دن

Asia Times Desk

زندہ ادبی معاشرہ مرعوبیت کا شکار نہیں ہوتا: پروفیسر معین الدین جینا بڑے

نئی دہلی : داستان میں مشرقی تصور حیات و کائنات پوری قوت کے ساتھ ظہور پذیر ہوا ہے۔ناول کو داستان کی ارتقائی شکل قرار دینا درست نہیں۔ داستان ایک نئی دنیا خلق کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر قاضی جمال حسین نے پہلے اجلاس کے صدارتی کلمات میں کیا۔ اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے کہا کہ زندہ ادبی معاشرہ مرعوبیت کا شکار نہیں ہوتا۔وہ قدر شناسی اور قدر پیمائی کا حق ادا کرتا ہے۔اگر ہم طلبا کو داستان پڑھنے پر آمادہ کر پائیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

دوسرے اجلاس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خالد محمود نے داستان کو ام الاصناف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام اصناف کی خصوصیات سمٹ آئی ہیں۔ داستانوں کا مطالعہ اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ کلاسیکی ادبیات کے مطالعہ کے بغیر نہ تو اچھی اور معیاری زبان وجود میں آسکتی ہے اور نہ شعر و ادب ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر نسیم احمد نے کلاسیکی متون کو از سر نو مرتب کرنے پر زور دیا تاکہ نئی نسل کو نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ متن میسر ہوسکے۔پہلے اجلاس میں پروفیسر عتیق اللہ نے ’’داستان کی تنقید اور شمس الرحمن فارقی‘‘، پروفیسر چندر شیکھر نے ’’عجائب القصص کا فارسی متن اور شاہ عالم کازمانہ، پروفیسر ظفرا حمد صدیقی نے ’’حکائی ادب: چند گذارشات‘‘، پروفیسر شہناز انجم’نے ’فورٹ ولیم کالج کے قصے (بیتال پچیسی کے خصوصے حوالے سے)اور پروفیسر کوثر مظہری نے ’’داستان کی فاروقی شعریات‘‘ کے عنوان سے مقالے پیش کیے۔

دوسرے اجلاس میں پروفیسر حسین الحق نے ’’داستانوں کے زوال کا مسئلہ‘‘، پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے ’’عمرو عیار: داستان امیر حمزہ کا ایک عجیب وغریب کردار‘‘، ڈاکٹر علی جاوید نے ’’اردو میں داستانوں کی اہمیت و معنویت‘‘، ڈاکٹر مشیر احمد نے ’’رانی کیتکی کی کہانی ایک مطالعہ‘‘ اور ڈاکٹر زاہد ندیم احسن نے ’’تخلیقی عمل، اسطور اور داستان ‘‘ کے عنوان سے مقالے پیش کیے۔ پہلے اور دوسرے اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عمران احمد عندلیب اور ڈاکٹر خالد مبشر نے انجام دیے۔دونوں اجلاس کے مقالوں پر پروفیسر انیس اشفاق ، پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، پروفیسر وہاج الدین علوی، ڈاکٹر سرور الہدیٰ، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر محمد مقیم ،خان محمد رضوان اور شاہ فہد نے بحث ومباحثے میں حصہ لیا۔

 اس موقع پر محمد خلیل سائنس داں،ایم آر قاسمی،حقانی القاسمی،پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، اشرف بستوی، سلام الدین خان، تنویر حسین، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر ابوالکلام عارف، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر سلطانہ واحدی، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر نعمان قیصر، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر شاہدہ فاطمہ، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر فیضان شاہد، ڈاکٹر نوشاد منظر، سلمان فیصل، ضیا المصطفیٰ، ثمرین، مہر فاطمہ، محبوب الٰہی، امتیاز احمدعلیمی، محمد عارف، عرفان احمد، صدف پرویز، سفینہ،  غزالہ فاطمہ، اور امیتاز حسین کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرس اور طلبا و طالبات موجود تھے۔تصویر میں دائیں سے بائیں: 1: پروفیسر انیس اشفاق، ڈاکٹر خالد مبشر، پروفیسر نسیم احمد، پروفیسر خالد محمود، ڈاکٹر مشیر احمد2: پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر معین الدین جینا بڑے، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، پروفیسر شہناز انجم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *