اگنوکے سابق وائس چانسلر عبدالوحید خان نے ایشیا ٹائمز کو دیا انٹر ویو ، کہا : اہل علاقہ سے درخواست ہے کہ وہ ہماری اس فکر کو اپنی فکر بنالیں

عبدالوحید خان وہ نام ہے جس نے انتہائی پسماندہ سرزمین سے اٹھ کر دنیا کو انفارمیشن کی ترسیل کے رموز و نکات سکھائے

एशिया टाइम्स

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/اشرف علی بستوی ) ‘جواں ہوعزم تو منزل سلام کرتی ہے ‘ ،جی ہاں !  شعر کے اس  مصرع  کو صد فی صد سچ ثابت کر دکھا یا ایک کاشت کار کے بیٹے  عبدالوحید خان  نے ، دنیا کے11ممالک میں ایک سال سے زائد عرصہ گزارچکے اور  125 سے زائد ممالک کا سفر کرچکے عبد الوحید خان  کی پیدائش مشرقی اتر پردیش ، ضلع سنت کبیر نگر کے مردم خیز علاقے  تپہ اجیارکے گاوں ‘ اگیا ‘ میں ہوئی ۔ عبدالوحید خان (AW Khan) یہ وہ نام ہے جس نے بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے انتہائی پسماندہ سرزمین سے اٹھ کر دنیا کو انفارمیشن کی ترسیل کے رموز و نکات سکھائے ۔

ان کامکمل کریر نت نئے اداروں کی کھوج اور قیام پر محیط ہے ۔ انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن ان کا موضوع رہا ہے ۔  ہندوستان کی معروف یونیورسٹی اندرا گاندھی نیشنل اوپین یونیورسٹی (ٰIGNOU)  میں 1998 تا 2000  وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا اور ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات بھی ان کے حصے میں آئے ۔ عبدالوحید خان اس وقت کناڈا کے شہر ٹورنٹو میں سکونت پذیر ہیں۔

آج کل اپنے آبائی وطن میں ‘بنیاد انڈیا فاونڈیشن’ کی سرپرستی کر رہے ہیں ،اس فاونڈیشن نے بہت کم وقت میں علاقے میں معیاری تعلیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی ہے ۔ یہ فاونڈیشن  ٹیلینٹ سرچ ایگزام کے ذریعے بچوں کی صلاحیتوں کو پرکھتا ہے اور کامیاب طلبا کو ایوارڈس سے بھی نوازتا ہے، بچوں کے روشن مستقبل کی تعمیر و کریر گائڈینس میں معاونت کرتا ہے ۔

ایشیا ٹائمز کے مدیر اعزازی اشرف علی بستوی نے  گزشتہ دنوں  عبد الوحید خان سے گفتگو کی اوران سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہیں اپنی دھرتی کی طرف رخ کرنے کا خیال کب اور کیسے آیا ؟  وہ اس وقت علاقے کے لیے کن کن منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ؟  مستقبل میں مزید کن  منصوبوں پر کام کرنے کی تیاری ہے؟

 

سوال : انتہائی پسماندہ علاقے سے نکل کر اتنی بلندیوں پر پہونچنے کا ایک کاشت کار کے بیٹے کا سفر کیسا رہا ؟

جواب : یہ بس خدا کا فضل ہے کہ اس نے میری محنتوں کو قبول کیا اور بڑے انسانی معا شرے کی خدمت کا مجھے موقع ملا ، میرے والد کاشت کار تھے وہ چاہتے تھے کہ بیٹا ایگری کلچرل کی ڈگری حاصل کر کے  کاشتکاری کے روایتی طریقوں سے  الگ ہٹ کر اناج کی کی پیداوار بڑھانے کے لیےکچھ نئے طریقے متعارف کرائے ، آگرہ یونیورسٹی سے  ایگری کلچر سائنس میں ماسٹرس کرنے کے بعد  جب ایگری کلچرل یونیورسٹی  پنت نگر سے  وابستہ ہوا تو میں یہ سوچتا تھا کہ یونیورسٹی کی تجربہ گاہ کے لیے استعمال ہونے والے بیج عام کھیتوں میں اچھی  پیداوار کیوں نہیں دیتے ،جو کمی رہ جاتی ہے اس کو کسانوں تک کیسے پہونچایا جائے ، یعنی وہ قیمتی انفارمیشن لوگوں تک کیسے پہونچے اور انہیں اس کے استعمال کے طریقے کیسے بتائے جائیں ، میں اسی پر اپنی توجہ مرکوز کیے رہتا تھا ، بعد میں یہی میرا میدان عمل بن گیا ۔ علم کے حصول کی یہی پیاس مجھے  امریکہ تک لے گئی جہاں سے میں نے اپنی دوسری ماسٹر ڈگری ایگری کلچر جرنلزم میں یونیورسٹی آف ونسکانسن سے کی ۔ بعد میں  آل انڈیا ریڈیو میں بطور ڈائریکٹر جنرل کام کیا وہاں  ڈیولپمینٹ پروگرام کا خاکے پیش کیے ،  آج بھی وہاں انہی خطوط پر کام ہو رہا ہے ، اندراگاندھی نیشنل اوپین یونیورسٹی کے قیام کے اولین دور میں ہی یونیورسٹی سے بطور ڈائریکٹر کمیونکیشن وابستہ ہوگیا تھا ، بعد میں وائس چانسلر کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

buniyad  india.PNG

سوال : آپ کا کریر بڑا وسیع رہا ہے ، دنیا بھر میں کئی نئے ادارے آپ کے زیر نگرانی قائم ہوئے   یہ بتائیں کہ اب تک کن کن مقامات پر خدمت کا موقع ملا اس کی مختصر تفصیلات کیا ہیں ؟ 

 

جواب : خدا کا فضل ہے کہ مجھے دنیا بھر میں کئی مقامات پر اہم ذمہ داریوں پر کام کرنے کا موقع ملا عالمی ادارہ  (UNESCO) میں 10 برس تک بطور  Assistant Director-General for Communication and Informationوابستہ رہا ۔  سب سے پہلے پنت ایگریکلچرل یو نیورسٹی سے وابستہ ہوا ، بعد از  ڈائریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو کے عہدے پر کام کیا ، اس کے علاوہ کئی  اداروں کے لیے  کام کیا جس میں UNESCO, France, The Commonwealth of Learning (COL), Canada, UNFPA, UNDP, FAO, UNESCAP, Asian Development Bank, World Bank,  Asia Pacific Institute for Broadcasting Development and the Asian Productivity Organization بحرین میں ایک اہم ترین یونیورسٹی کا قیام  قابل ذکر ہیں ۔

 

سوال: آپ کو اپنے آبائی وطن کی طرف  رخ کرنے کا خیال کب اور کیسے آیا؟

جواب: جی  ہاں ! آپ کا یہ سوال بالکل بجا ہے ، ہر شخص کا فطری تعلق اس کے اپنے وطن سے ہوتا ہے ، چاہے وہ دنیا میں کسی بھی مقام پر پہونچ جائے اسے وطن کی مٹی ضرور  پکارتی رہتی ہے ، دنیا میں کسی بھی جگہ جا کر بس جانے سے اپنے آبائی وطن سے فطری تعلق ختم نہیں ہوتا ، آدمی چاہے جہاں بس جائے ، گھرکانام تو بس اپنے وطن ہی کو دیا جا سکتا ہے ، یہی وہ تعلق ہے جو مجھے یہاں کے لیے کچھ سوچنے پر ابھارتا رہا ہے ۔ میں اس سلسلے میں اکثر سوچتا رہا ہوں کہ اپنی مٹی کا قرض کیسے چکایا جائے ۔ چونکہ اطلاعات بہم پہونچانا میرا میدان عمل رہا ہے اس لیے میں نے نئی نسل میں کوالیٹی ایجیوکیشن کی ضرورت و اہمیت سے روشناس کرانے کی ایک کوشش شروع کی ہے اور انہیں ایسی اطلاعات پہونچانے کی کوشش کا آغاز کیا ہے جو انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان بنانے میں معاون ثابت ہوں  ۔ چنانچہ اسی کے تحت تین سال قبل اپنے آبائی وطن کی طرف رخ کیا اور علاقے میں معیاری تعلیم کے تئیں بیداری لانے کے مقصد سے بنیاد انڈیا فاونڈیشن نامی ایک تنظیم تشکیل دی علاقے سے وابستہ کئی دیگر اپنے ہم عصر ریاٹائرڈ آئی اے ایس افسران اور برسر کار بیوروکریٹس، ماہرین تعلیم ، سماجی کارکنان اور صحافت سے وابستہ افراد کو جمع کیا ۔

عبدالوحید خان بنیاد انڈیا کے پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے 

سوال : ابتک کی کوششوں کے نتائج کیا رہے تپہ اجیار میں کوالیٹی ایجوکیشن کی طرف راغب کر نے میں یہ فاونڈیشن کس حد تک کامیاب رہا ہے ؟

جواب : ہمیں خوشی ہے کہ دھیرے دھیرے یہ کام مہم کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔  ہم نے اپنے فعال نوجوانوں کی ٹیم کی مدد سے ہونہار بچوں میں مقابلہ جاتی مزاج پروان چڑھانے کی بھر پور کوشش کی  ، جس کے حوصلہ افزا نئائج آرہے ہیں۔  خوش آئند بات یہ ہے کہ  والد ین کی توجہ کوالٹی ایجوکیشن کی طرف ہوئی ہے ، اس تعلیمی تحریک نے تپہ اجیار میں تعلیم کی نئی شمع روشن کی ہے اب لوگ اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخلہ دلانے کی کوشش کرتے دیکھے جارہے ہیں جن اسکولوں کے بچوں نے  بنیاد انڈیا کے ٹیلینٹ سرچ ایگزام میں نمایاں کار کر دگی کی ہے ، ہمارا کام  حوصلہ افزائی کرنا ہے ہمارا یہ منصوبہ  بچوں میں اعتماد کو بڑھانے میں معاون و مدد گار ثابت ہو رہا ہے ۔ تبدیلی کا یہ عمل صبر آزما اور وقت طلب ضرور ہے لیکن اس کے اچھے نتائج آنے شروع ہو گئے ہیں ۔ اب والدین اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخلہ دلانے کی کوشش کر نے لگے ہیں جہاں معیاری تعلیم دی جاتی ہے ،  یہ بڑی کامیابی ہے۔ اس سے قبل علاقے میں کوالیٹی ایجوکشن کا ماحول بالکل نہیں تھا بلکہ کسی طرح دسویں یا بارہویں پاس ہی کو کامیابی تصور کیا جاتا تھا ، بعد میں یہ بچے  مسابقے کے اس دور میں آگے بڑھنے کے قابل نہیں ہوتے تھے ۔

اسی کے تحت گزشتہ ہفتے 25 دسمبر کو باغ نگر میں ایک انفارمیشن اینڈ کریر گائیڈینس سینٹر کا افتتاح کیا گیا ہے ، جس میں علاقے کے وابستہ آئی اے ایس  ہیرا لال سمیت کئی اہم  شخصیات نے شرکت کی اور بچوں اور ان کے سرپرستوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ دیگر مقامات پر اس طرٖح کے سینٹرس اور قائم کیے جائیں گے ۔

سوال : کیا اس سے قبل بھی آپ نے کبھی اپنے وطن  کی جانب توجہ دی تھی ؟

جواب : جی ہاں ،جب میں اگنو کا وائس چانسلر تھا اس وقت بھی میں نے اپنے یہاں بچیوں کے لیے ایک سینٹر قائم کیا تھا ، اودھ گرلس انٹر کالیج کڑجا میں اگنو کا ایک اسٹدی سینٹر دیا لیکن بدقسمتی سے یہ کام ٹھیک ڈھنگ سے جاری نہ رہ سکا ، جسے دیکھ کر مایوسی بھی ہوئی لیکن مجھے میرے والد کا وہ جملہ ہمیشہ یاد آتا ہے کہ میاں ، ‘جنگل میں مورناچا کس نے دیکھا’ مطلب یہ کہ اگر آپ دنیا بھر میں بہت کچھ کررہے ہیں اور اپنے مقام پر کچھ نہیں کیا تو اپنی مٹی کا قرض کیسے چکاو گے ” ۔ یہ بات مجھے ہمیشہ اپنے علاقے کے لیے کچھ کرنے پر ابھارتی رہی ہے ۔ اس وقت ہمارے پاس ایک اچھی ٹیم  تشکیل پا چکی پے جوبڑی ہی دیانت داری سے ذمہ داری انجام دے رہی ہے ۔ ہمیں پوری امید ہے کہ یہ کوشش حالات کو بدلنے میں اہم رول ادا کرے گی ۔ بس اہل علاقہ سے درخواست ہے کہ وہ ہماری اس فکر کو اپنی فکر بنالیں اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کی فکر کریں ،تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو زندگی کے  تمام شعبوں کو روشن کر دیتی ہے ، یہی تمام تر ترقیات کی ضامن ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *