امریکہ ہمیشہ اختلاف کو مخالفت سے تعبیر کرتا ہے

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

“یہاں تک پہونچنا آسان نہیں تھا ،قدیم روایات نے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ،لیکن ہم اس سے باہر نکلے اور آج یہاں ہیں “۔  ” آنے والے دنوں میں ہمارے رشتے بے حد شاندار ہوں گے ، بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں ،اس میں کوئی شک نہیں “۔  متذکرہ بالا دو الگ الگ بیانات دو قدیم دشمن ملک کے سربراہوں کے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی روایات کی صفوں کو توڑ کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیاہے ۔  پہلا بیان شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کا ہے جن کا چہرہ سامنے آتے ہی دنیا بھر کا میڈیا میزائیل حملے کے خوفناک مناظر اسکرین پر دکھانے لگتا ہے ،اور انہیں پوری دنیا کے لیے بڑا خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے ۔ جبکہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ ان کا یہ سخت موقف اپنے تحفظ کے لیے ضروری ہے ۔

اشتہار

دوسرا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جذبات پر مبنی ہے جو انہوں نے 12 جون کو شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے ساتھ سنگاپور میں اپنی پہلی ملاقات میں کیا ہے ، سنگاپورمیں دونوں رہنماوں نے لگ بھگ 50 منٹ کی ملاقات کی ہے جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے لیے خرخواہانہ جذبے کا اظہار کیاہے ۔

دوسرے دور میں وفد کے سطح کی بات چیت ہونی ہے امریکہ کی اولین ترجیح ہے کہ شمالی کوریا جوہری اسلحہ سازی کا عمل  مکمل طور پر ترک کردے ایسی صورت میں  شمالی کوریا کے لیے اس بات کی ضمانت طلب کرنا فطری ہے کہ اس کے خلاف عائد پابندیاں ختم کی جائیں ۔ اگر یہ ملاقات مثبت رہی تو نتیجے میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان 65 برس سے جاری دشمنی پر مبنی کشمکش ختم  ہو سکتی ہے ۔

اشتہار

شمالی کوریا گزشتہ 33 برس میں 150 میزائیل اور 6 نیوکلیائی تجربات کر چکا ہے جس میں  89 میزائیل 6 نیوکلیائی تجربہ کم جونگ ان نے گزشتہ 7 برس میں کیا ہے ۔ اس ملاقات کی خبر دیتے وقت ہندوستانی میڈیا کی توجہ دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کم اس بات پر زیادہ رہی کہ دونوں کے کتنے سیکنڈ تک ہاتھ ملایا اور چہرے پر نمایاں آثار کیا رہے ۔

 کہا گیا کہ ٹرمپ نے کم سے 12 سیکنڈ تک ہاتھ ملایا جس کا دورانیہ اوسط سے  تھوڑا کم تھا اور گرم جوشی بھی ذرا کم تھی ۔ کہا گیا کہ عام طور پر ٹرمپ دیر تک ہاتھ ملاتے ہیں گزشتہ دنوں انہوں نے جاپان کے وزیر اعظم شنجو ابے سے لگ بھگ 19 منٹ تک ہاتھ ملایا ۔ ہندوستانی میڈیا کے اس تبصرے سے میڈیا کے مزاج کو سمجھا جا سکتا ہے ۔

  یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ 6 ماہ میں کئی  بار میٹنگ منسوخ ہونے کے دہانے تک پہونچ گئی  24 مئی کو دونوں جانب سے سخت بیان بازیاں کی گئیں اور میٹنگ ختم ہونے کا اعلان بھی آگیا ۔ لیکن پھر دونوں جانب غور و خوض ہوا اور طرفین نے ملاقات کو ہی درست جانا ایک ساتھ بیٹھ کر تنازعات حل کرنے پر راضی ہوگئے ۔ امریکہ اور شمالی کوریا کا یہ تنازعہ 65 برس پرانا ہے اس لیے پہلی میٹنگ میں کسی بڑے نتیجے کی امید نہیں کی جانی چاہئے ، برف پگھلنے میں ذرا دیر لگے گی حالات سازگار ہونے میں وقت درکار ہے البتہ پہل کی ستائش ہونی چاہئے ۔

اشتہار

دونوں کے تعلقات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ دورہ مکمل ہونے کے بعد طے پائے سمجھوتوں پر عمل کی کیا صورت سامنے آتی ہے ۔ امریکہ کے نزدیک کلیدی نقطہ شمالی کوریا کا جوہری اسلحوں کو تلف کرنے پر رضامندی  سے  متعلق ہے۔

  اگر شمالی کوریا اس پر راضی ہوا تو گفتگوکا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا ،امریکہ چاہتا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی ملک کے پاس جوہری اسلحہ سازی ہو رہی ہے اور وہ ملک امریکہ کی دوست ممالک کی فہرست میں نہیں ہے تو پہلی فرصت میں تواسے جوہری اسلحہ سے پاک کرنا امریکہ کی اولین ترجیح ہوگی ۔

اشتہار

امریکہ کی شمالی کوریا سے ملاقات کرنے کی یہ کوشش اسی مقصد سے کی جارہی ہے ۔ دنیا کے جو ممالک امریکہ کی اس تجویز کو تسلیم کیا وہ اس کے دوست ہوئے اور جنہوں نے اسے ٹھکرادیا وہ عالمی خطرہ قرار دے دیے گئے ،انہیں سخت آزمائش کا شکار ہونا پڑا۔ یاد کیجیے 2001  میں امریکہ کے ورلڈ ٹرید سینٹر پر فضائی حملے کے بعد جارج بش نے کیا کہا  تھا ”  انہوں صاف طور پر دنیا کے سامنے  افغانستاں کے خلاف جنگ کی یہ تجویز رکھی اور کہا کہ اس جنگ میں جو ہمارے ساتھ ہے وہ امن کے  ساتھ اور جو اختلاف کرتا ہے وہ ہمارے خلاف ہے ۔ امریکہ نے ہمیشہ اپنے ساتھ اختلاف کو مخالفت سے تعبیر کرتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *