مسائل اور وسائل کی شکایت کرنے والے ‘شیخ صالح بن عبدالعزیز الراجحی’ کی زندگی سے سبق لیں

اشرف علی بستوی : چیف ایڈیٹر ایشیا ٹائمز، نئی دہلی

Asia Times Desk

 تین روز قبل میری ملاقات دہلی میں  آل انڈیا جمعیت اہل حدیث کونسل کے بانی  مولانا محمد رضوان ریاضی سے برادر زبیر خان سعیدی کے ہمراہ  رہنما پبلیکیشن شاہین باغ میں واقع ان کے دفتر میں ہوئی ۔ اس موقع پر اس نوجوان عالم دین کی  گراں قدر سماجی، تعلیمی  و  دینی خدمات کا علم ہوا ۔

موصوف سے  ہندوستانی مسلمانوں کے سماجی ۔ تعلیمی اور سیاسی حالات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ رضوان ریاضی کی تعلیمی و سماجی سرگرمیاں یقینا قابل قدر ہیں ،  بہار کے انتہائی پسماندہ علاقے  بیتیا  میں تعلیم کی شمع روشن کرنے کی بڑی کوشش کی ہے ۔

لگ بھگ دو گھنٹے تک ساتھ رہنے کے بعد ہم گھر کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کو آواز دی اور ایک کتاب لانے کو کہا ۔ انہوں نے مجھے  شیخ صالح بن عبدالعزیز الراجحی  کے حیات و کارنامے کا نسخہ پیش کیا ۔

رات کو بستر پرجانے سے قبل عادت کے مطابق مطالعے کے لیے اس روز اسی کتاب کو ہاتھ میں اٹھا لیا اور فہرست پرطائرانہ  نظر ڈالنے کے بعد مطالعہ شروع کیا پھر تو وقت کا پتہ تک نہ چلا ایک کے بعد ایک عنوان پڑھتا رہا ، کافی حصہ پڑھ ڈالا ۔

میں نے پایا کہ ان کی زندگی کا ہر ورق روشنی اور راہنمائی سے بھر پور ہے ۔ ان کی زندگی کی جدوجہد اور انہیں حاصل ہونے والی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ اگر یقیں محکم ،عمل پیہم اور انسانیت سے محبت کرنے والا دل ہو تو دنیا کی بڑی سے بڑی مشکل کو عبور کیا جا سکتا ہے ۔ مطالعے سے معلوم ہوا کہ شیخ نے انسانی زندگیوں کو آسان بنانے اور لوگوں کو مالک حقیقی سے قریب تر کرنے کا بڑا کام کیا ہے ۔

 زندگی کے طویل سفر میں گرنا اور گر کر سنبھلنے کا ہنر شیخ الراجحی کی زندگی سے سیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ کتاب ہر اس شخص کو ضرور پڑھنا چاہئے جو ہمت مرداں مدد خدا میں یقین رکھتا ہو جو یہ جذبہ رکھتا ہو کہ  اس زمین میں اللہ نے اسے اپنا خلیفہ بناکر بھیجا ہے اور اس کی ذمہ داری ساری انسانیت کا بھلا ئی کرنا ہے ۔

یوں توانہوں نے زندگی کے ہرموڑ پراپنا رول ادا کیا لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی اسلامک بینکنگ نظام کے قیام کی کامیاب کوشش ہے ۔ اسی نہج پر دنیا بھر میں معیشت کو اسلامی بنیادوں پر لانے کی کوشش ہونی چاہئے ۔

 تیرہ سال  کی عمر میں ہی جب اس بچے کو گھریلو دشواریوں کا احساس ہوجاتا ہے تو پھر  یہ بچہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان عمل میں جس عزم کا اظہار کرتا ہے لائق تقلید ہے ۔

 مولانا رضوان ریاضی نے ان کے حیات و کارنامے کوہندوستانی نوجوانوں کے سامنے پیش کر کے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ خود ان کی  متحرک زندگی میں شیخ راجحی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ ہمارے درمیان ایسے باحوصلہ نوجوانوں کا استقبال ہونا چاہئے ۔

Advt

ہماری نوجوان نسل کے اصل ہیرو شیخ راجحی ہیں ۔ مسائل اور محدود وسائل کی شکایت کرنے والے ہندوستانی نوجوانوں کو شیخ راجحی کی جہد مسلسل سے سبق لیتے ہوئے ان کی جواں مردی ، حوصلہ ، جفاکشی اور دیانت داری سے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کرنا چاہئے ۔

 اللہ سے دعاہے کہ یا باری تعالیٰ شیخ صالح بن عبدالعزیز الراجحی کی خدمات کو قبول فرما اور انہیں اس کا بہتر بدل عطا فرما ۔ اور ان کے وارثین کو بھی اسی کام کو آگے بڑھانے والا بنا ، جو لوگ بھی دنیا میں انسانیت کی بھلائی کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما ۔ آخر میں ایک بار پھر برادر رضوان ریاضی کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے شیخ الراجحی کی زندگی کو جاننے سمجھنے کا موقع دیا ۔

ایشیا ٹائمز پر  رضوان ریاضی کا یہ انٹر ویو دیکھیں 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *