بابری مسجد تنازعہ پر ثالثی کمیٹی کی رپورٹ

معصوم مرادآبادی

Asia Times Desk

ایودھیا ثالثی کمیٹی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کرکے سپریم کورٹ نے اُن لوگوں کی آرزوؤں پر پانی پھیر دیا ہے، جو اس مسئلے سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل کئے گئے ثالثی پینل نے اپنی عبوری رپورٹ ایک ایسے مرحلے میں پیش کی ہے، جب ملک کے اندر انتخابی ماحول ہے اور ہر طرف زبانی جنگ جاری ہے۔ عام انتخابات کے دومرحلے ابھی باقی ہیں اور سب کی نگاہیں 23مئی کی تاریخ پر لگی ہوئی ہیں جب سترہویں لوک سبھا کے نتائج منظرعام پر آئیں گے۔ آپ کو یادہوگا کہ گزشتہ 8مارچ کو سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ جج جسٹس خلیفۃ اللہ کی قیادت میں ایک تین رکنی ثالثی پینل تشکیل دے کر اسے ایودھیا تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کا کام سونپا تھا۔

اس پینل کو فریقین کے ساتھ بیٹھ کر یہ طے کرنا تھا کہ اس انتہائی پیچیدہ مقدمے کوبات چیت کے ذریعہ کیسے حل کیاجاسکتا ہے۔ لیکن اس پینل کو اپنا کام کرنے کے لئے دوماہ کی جو مہلت دی گئی تھی، وہ ناکافی رہی اس لئے پینل نے سپریم کورٹ کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے مزید مہلت کا مطالبہ کیا جسے قبول کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس کی مدت کار 15اگست تک بڑھادی ہے۔ اس بحث سے قطع نظرکہ یہ پینل اس عرصے میں فریقین کو گفتگو کی میز پر بٹھا کر ایک انتہائی پیچیدہ تنازعہ کا حل نکال پائے گا یا نہیں، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اس وقت پورے ملک کی نگاہیں اس پینل کی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔

کیونکہ ہر امن پسند ہندوستانی یہی چاہتا ہے کہ کسی طرح اس انتہائی سنگین اور پیچیدہ تنازعہ کا کوئی حل نکل آئے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس پینل کو ثالثی کا کام سپرد کرتے ہوئے کئی اہم ہدایات دی تھیں اور کہاگیا تھا کہ ثالثی کی کارروائی بند کمرے میں ہو گی اور میڈیا کو اس کی کوئی بھنک نہیں لگنا چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا کے لوگ اس معاملے میں تاک جھانک کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ابھی تک ان کے کچھ ہاتھ نہیں آیا ہے۔ ثالثی پینل نے اپنی دوماہ کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ 6مئی کو سپریم کورٹ کی رجسٹری کو جو عبوری رپورٹ سونپی ہے، وہ بھی پوری طرح مہر بند تھی اور اس کی کوئی تفصیل منظرعام پر نہیں آسکی ہے۔

دوماہ قبل جب سپریم کورٹ نے جسٹس خلیفۃ اللہ کی قیادت میں تین رکنی پینل تشکیل دیا تھا تو اس میں ’روحانی گرو‘ شری شری روی شنکر کی شمولیت پر خاصا واویلا مچا تھا۔ شری شری روی شنکر کے بارے میں سبھی کو معلوم ہے کہ وہ ایودھیا تنازعہ کو ایک فریق کے حق میں حل کرنے کی مسلسل جانبدارانہ کوششیں کرتے رہے ہیں اور انہوں نے بابری مسجد کی اراضی سے دستبرداری کے لئے بعض نام نہاد مسلمانوں کو تیار بھی کرلیا تھا ۔لیکن انہیں ابھی تک اپنی کوششوں میں کامیابی نہیں ملی ہے۔ شری شری روی شنکر کی کوششوں کا اتنا تو اثر ہوا کہ بعض نام نہاد مسلمان بابری مسجد کی اراضی کو طشتری میں سجا کر پیش کرنے پر آمادہ ہوگئے لیکن عام مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی قیمت انہیں اس طرح چکانی پڑی کہ وہ خود اپنی ملت میں بیگانے ہوکر رہ گئے۔ لیکن شری شری روی شنکر نے ہار نہیںمانی اور وہ اپنے مشن پر گامزن رہے۔

یہی وجہ تھی کہ اس پینل میں شری شری روی شنکر کی شمولیت پر اعتراض درج کرایاگیا اور ان کی جگہ کسی غیر جانبدار شخص کو اس پینل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیاگیا لیکن سپریم کورٹ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور اس نے اپنے تشکیل کردہ پینل کو ہی حتمی شکل دی۔ اس پینل میں شامل تیسرے شخص سینئر وکیل سری رام پنچو ہیں جن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ کئی معاملات میں کامیاب ثالثی کراچکے ہیں۔ جسٹس خلیفۃ اللہ نے اپنے دو ساتھیوں کی مدد سے اب تک ثالثی کی کوششوں میں کیا کامیابی حاصل کی ہے، یہ بات ابھی صیغۂ راز میں ہے کیونکہ اس پینل کی کارروائی کو افشاء کرنے پر سپریم کورٹ نے پابندی عائد کررکھی ہے۔ پینل کی کارروائی کی ویڈیو گرافی بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے لئے کرائی جارہی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دیا گیا یہ پینل صحیح سمت میں گامزن ہوگا چونکہ سپریم کورٹ کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اس معاملے میں اب تک عدالت کی خاصی انرجی اور وقت برباد ہوچکا ہے اور یہ تنازعہ سلجھنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ اس تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی پہلے بھی کئی کوششیں ہوچکی ہیں ۔لیکن ہر مرتبہ ان کوششوں کو ان ہی طاقتوں نے سبوتاژ کیا ہے ،جو اس مسئلے سے سیاسی فائدہ حاصل کرناچاہتی ہیں۔ اس مسئلے کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی سب سے سنجیدہ کوشش 1990کی دہائی کے آغاز میں آنجہانی وزیراعظم چندرشیکھر کے دور حکومت میں ہوئی تھی۔ لیکن وشوہندو پریشد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ سنجیدہ کوشش بھی ناکام رہی۔ دنیا جانتی ہے کہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم وشوہندو پریشد نے اس مسئلے کا سب سے زیادہ سیاسی استحصال کیا ہے اور اسی نے ایک خاص سیاسی ایجنڈے کے تحت اس معاملے پر خونریز تحریک شروع کی تھی۔

ہم آپ کو یاددلادیں کہ اس وقت سپریم کورٹ کے روبروحق ملکیت کا مقدمہ فیصل کرنے کے لئے 14اپیلیں زیر غور ہیں۔ یہ اپیلیں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 30ستمبر 2010 کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لئے دائر کی گئی ہیں جس میں ہائی کورٹ نے بابری مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک عجیب وغریب صورت حال پیدا کردی تھی۔ ایودھیا کی پونے تین ایکڑ اراضی کو نرموہی اکھاڑہ، سنی سینٹرل وقف بورڈ اور رام للا براجمان کے درمیان مساوی طورپر تقسیم کردیاگیا تھا۔ اس فیصلے کو کسی بھی فریق نے تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جس پر حکم امتناعی جاری کردیاگیا۔

اس دوران مرکزی حکومت نے پچھلے دنوں اس تنازعہ میں ایک اور پیچ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے ایودھیا کی 67ایکڑ ’غیر متنازع‘زمین کا اصل مالک رام جنم بھومی نیاس کو قرار دیتے ہوئے اسے واپس کرنے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ لیکن مرکزی حکومت کی اس عرضی کی خود مقدمے کے ایک فریق نرموہی اکھاڑہ نے ہی مخالفت کردی۔دراصل 67ایکڑ زمین رام جنم بھومی نیاس کو ’واپس‘ کرنے کے پیچھے منصوبہ یہ تھا کہ اس زمین سے رام مندر کی تعمیر کا آغاز کردیاجائے اور ان ووٹروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے جو رام مندر کی تعمیر نہ ہونے سے بی جے پی سے سخت ناراض ہیں۔ لیکن حکمراں جماعت کی یہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی چونکہ سپریم کورٹ نے اس عرضی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

تازہ ترین پیش رفت کے مطابق سپریم کورٹ میں سرمائی چھٹیوں کا آغاز ہونے سے ایک روز قبل پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس ایس اے بوبڑے ، جسٹس چندر چوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں، معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہاکہ اسے جسٹس خلیفۃ اللہ کی ثالثی کمیٹی کی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور اس کمیٹی نے اپنی کارروائی مکمل کرنے کے لئے 15اگست تک کی مزید مہلت مانگی ہے۔ آئینی بینچ نے اس موقع پر موجود متعلقہ فریقوں کے وکیلوں سے کہاکہ ’’اگر ثالثی کرنے والی کمیٹی نتائج کے بارے میں پُر امید ہے اور 15اگست تک کا وقت چاہتی ہے تو اتنا وقت دینے میں کیا نقصان ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ موضوع برسوں سے زیر التوا ہے ۔

ہمیں اسے وقت کیوں نہیں دینا چاہئے۔ واضح رہے کہ ہندو فریق نے ثالثی کی مدت کو گھٹاکر اگست کی بجائے جون تک کرنے کی درخواست کی جبکہ مسلم فریق کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون نے کہاکہ اگر کمیٹی مزید وقت چاہتی ہے تو اسے وقت دیاجائے۔ اس موقع پر نرموہی اکھاڑہ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ کام فیض آباد کی بجائے لکھنؤ یا دہلی میں انجام دیاجائے اور اب تک فریقوں سے کمیٹی الگ الگ بات کررہی ہے اور فریقین کو آپس میں نہیں بٹھایاجارہا ہے تاہم عدالت نے ان باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔اس موقع پر یوپی حکومت کی جانب سے تقریباً 14ہزار صفحات کا جو ترجمہ داخل کیاگیا ہے، اس پر مسلم فریق نے اعتراض درج کراتے ہوئے کہاکہ یہ ترجمہ انتہائی ناقص اور کمزور ہے۔

اس پر عدالت نے کہاکہ فریقین کو ترجمے کے جن حصوں پر اعتراض ہے وہ عدالت کے روبرو پیش کریں تاکہ اس پر غور کیاجاسکے۔ اس معاملے میں فریقین کے وکیلوں نے ثالثی کے عمل پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہاکہ اس عمل میں وہ پورا تعاون کررہے ہیں۔ دستوری بینچ نے یہ بھی کہاکہ ہم نے جسٹس خلیفۃ اللہ کی 7مئی کی رپورٹ کا مطالعہ کیا ہے اور اس پر غور بھی کیا ہے۔ اس رپورٹ میں ثالثی کی کارروائی کی پیش رفت کی جانکاری دی گئی ہے تاہم عدالت نے رپورٹ کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا اور یہ بھی کہاکہ کسی کو بھی ثالثی کے راستے میں نہیں آنے دیاجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *