مولاناآزاد کی شخصیت کو تعلیم کے شعبے تک محدود کرنا نا انصافی

پہلے وزیرتعلیم مسلمان اور ہندستان ہی نہیں بلکہ انسانیت کے رہ نما تھے:شمیم احمد

admin

کولکاتا: اس  استدلال کے ساتھ کہ مولانا آزاد مسلمانوں اور ہندوستان کے نہےں بلکہ انسانےت کے رہنما تھے ۔ہےومن رائٹس پروٹےکشن اےسوسی اےشن کے صدر شمےم احمد نے کہا کہ گرچہ مولانا آزاد کے ےوم پےدائش کو یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے مگر مےرے خےال سے ےہ مولانا آزاد کی شخصیت کو ایک شعبے تک محدود کرنا ہے ۔کےوں کہ مولانا آزاد اےک ہمہ جہت شخصےت کے مالک تھے اور ان کی نظر زندگی کے تمام شعبوں پر تھی اور مولانا کی پوری زندگی انسانیت کی فلاح و بہود، غلامی سے نجات اور احترام انسانیت سے عبارت ہے ۔
ہیومن رائٹس پروٹیکشن کے زیر اہتمام مولانا آزاد کے ےوم پےدائش پرمنعقد اےک تقرےب سے خطاب کرتے ہوئے قائد اردو شمےم احمد نے کہا کہ ہندوستان اس وقت جس دور اور حالات سے گزررہا ہے اےسے مےں مولانا آزاد کی شخصیت اور ان کے علمی کارنامے کو از سرنو پڑھنے اور ا ن کے پےغام کوعام کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تحرےک آزادی مےں مولانا آزاد واحد اےسے لےڈر ہےں جنہوں نے پوری شدو مد کے ساتھ نہ صرف تقسےم ہند کی مخالفت کی بلکہ ہندو مسلم اتحاد کی پرزور وکالت کی ۔شمےم احمد نے کہا کہ مولانا آزاد نے نگاہ بصےرت سے دےکھ لےا تھا اگر ہندوستان سے ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد کا ماحول ختم ہوجائے گا تو ملک کی سالمےت خطرے مےں آجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم ایکتا کی بات مولاناآزاد کے لئے محض سیا سی جملہ نہیں تھا۔یہ انکا عقیدہ(مذہبی) بھی تھا۔
قائد اردو شمےم احمد نے کسی سےاسی جماعت اور لےڈ کا نام لےے بغےر کہا کہ آج جولوگ اپنے سےاسی مفادات کےلئے ہندو اور مسلمانوں کے درمےان تفرقہ پےدا کرنے کےلئے تارےخ کو مسخ کررہے ہےں اور تارےخی عمارتوں و شخصےتوں کے حوالے سے پروپےگنڈہ کررہے ہےں وہ در اصل قوم پرستی کی آڑ مےں ملک کو نقصان پہنچا رہے ہےں اور اےسے لوگ ملک کے دشمن ہےں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اےک سو سال سے نہےں بلکہ ہزاروں سال سے مختلف مذاہب و زبان و تہذےب و کلچر کا حامل ملک رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مولانا آزاد نے 1940مےں رام گڑھ مےں منعقد کانگرےس کے اجلاس مےں صدارتی خطبہ کے ذرےعہ جن باتوں کا اعادہ کےا تھا وہ نہ صرف تارےخ کی اےک اہم تقرےر ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے مولانا آزاد کی اس تقرےر کو ہر خاص و عام تک پہنچاےا جائے ۔مولانا آزاد نے اپنی اس تقرےر مےں آزاد ہندوستان کا اےک منشور پےش کےا تھا ۔
شمےم احمد نے اپنی تقرےر مےں اس بات کا گلہ بھی کےا کہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے اور بعد مےں ملک کے تعلےمی ڈھانچہ کو صراط مستقےم پر گامزن کرنے والے مولانا آزاد کو بعد کی حکومتوں نے فراموش کردےا اور مولانا کی خدمات کے مطابق ان کا حق تھا وہ بھی نہےں دےا گےا ۔انہوں نے کہا کہ ےہ بدنصےبی کی بات نہےں ہے کہ 2008مےں مےں کانگرےس حکومت نے مولانا آزاد کے ےوم پےدائش کو ےوم تعلےم کے طور پر منانے کا اعلان کےا ۔اس کا مطلب ہے کہ کانگرےس کو بھی مولانا آزاد کی خدمات کااعتراف کرنے مےں نصف صدی لگ گےا ۔شمےم احمد نے کہا کہ بی جے پی حکومت سے اس کا گلہ بھی نہےں کےا جاسکتاہے وہ مولاناآزاد کے ےوم پےدائش پر اہتمام کرے۔
اس تقرےب مےں ہےومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کی رےاستی صدر للی چکرورتی، سوامی پارس ناتھ گیر ی مہاراج اور دےگر شخصےتوں نے خطاب کے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *