جواں ہو عزم تو منزل سلام کرتی ہے : ایک شخص کی جہد مسلسل نے ناممکن کو ممکن بنا دیا

اتر پردیش میں ضلع بجنور کا 'کنجری سرائے' اب 'پھول بستی ' میں اور 'بھٹیاری سرائے ' 'گلشن نگر' میں تبدیل ہوچکا ہے

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز) اگر آپ صحیح معنوں میں ہندوستانی معاشرے کو تعلیمی پسماندگی کے دلدل سے باہر نکالنا چاہتے ہیں، سماج میں تعلیمی بیداری لانے کے لیے تحریک چلانے  کے عزم کے ساتھ  کچھ کر گذرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ تو آپ کو ‘محمد داود ملتانی’ کی کاوشوں کو ضرور جاننا چاہیے کہ وہ کس بے سر و سامانی کے عالم میں 1971 سے اتر پردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ قصبے میں تعلیم  بالغان و بالغات کے سینٹر کے ذریعے انتہائی مشکل و نامساعد حالات میں پسماندہ ترین مسلم و غیر مسلم آبادیوں کے درمیان کام کر رہے ہیں  ایسی بستیوں میں شاید ہم اور آپ کچھ دیر کے لیے کھڑے نہ ہو سکیں ۔  انہوں نے اپنے عزم و حوصلے اور جہد مسلسل کے ذریعے  گزشتہ 25 برس میں  ناممکن کو ممکن بنا دیا ، ضلع بجنور کا ‘کنجری سرائے’ اب ‘پھول بستی ‘ میں اور ‘بھٹیاری سرائے ‘اب  ‘گلشن نگر  میں تبدیل ہوچکا ہے ۔

‘ایشیا ٹائمز ‘نے  گزشتہ دنوں ان کے دہلی قیام کے دوران  ‘محمد داود ملتانی ‘ سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہوں نے انتاہائی پسماندہ  معاشرے میں  تعلیم کی شمع کیسے روشن کی ، کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور موجودہ  وقت میں کیا دشواریاں درپیش ہیں ؟

سوال : آپ نے معاشرے میں تعلیمی بیداری لانے کا یہ کام کب شروع کیا تھا ؟

جواب : میں لوہری سرائے کا رہنے والا ہوں ، ہم نے  تعلیمی بیداری  کی یہ مہم  1971  میں اتر پردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ قصبے میں  شروع کی  تھی ۔ یہاں غیر مسلم آبادی کنجروں (دلتوں ) کی بستی میں کام کر رہے ہیں  تعلیم بالغات کے سینٹر کے ذریعے  بڑی بچیوں کو تعلیم دے رہے ہیں   اس کے علاوہ یہاں بچوں سے متعلق کئی اصلاحی  پروگرام چلاتے ہیں ۔  یہاں کے مرد و خواتین بچے سبھی ہم سے بہت مانوس ہیں، بڑی بڑی بچیاں ہمارے مرکز میں تعلیم حاصل کرتی ہیں ۔ گزشتہ دنوں ہم نے بچوں کے دانت صاف کرنے کا پروگرام چلایا ہم بچوں کے دانت اپنے ہاتھوں سے  صاف کیے بچوں میں دانت صاف رکھنے کا شوق پیدا کرنے کے لیے ان کے درمیان انعامی مقابلہ کراتے ہیں انہیں چھوٹے چھوٹے انعام دیتے ہیں تاکہ ان میں صاف ستھرا رہنے کا ذوق پیدا ہو ۔

سوال : آپ کا طریقہ کار کیا  ہے ، کن لوگوں کے درمیان کام  کر رہے ہیں ؟

جواب : پہلے ہم نے یہ کام  ایک غیر مسلم  دلت آبادی ‘کنجری سرائے’ میں شروع کیا تھا  ہم ان کی بچیوں کو  ایک جگہ  سینٹر قائم کرکے پڑھاتے تھے ، اب وہ سبھی بچیاں شادی بیاہ کے بعد  اپنے گھروں کو چلی گئیں اس لیے  اب ہم نے ان کے گھروں کو ہی سینٹر میں تبدیل کر دیا ہے یہاں دو سینٹر ہیں ۔ ہماری اس کوشش کا کنجری سرائے  کے  لوگوں پر مثبت اثر پڑا اب والدین خود اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے پر تیار ہو گئے ہیں ان کے بچے اب مھجے پا پا  کہہ کر پکارتے ہیں ، میرے پاس آتے ہیں مجھ سے  ٹافی مانگتے ہیں چپل جوتے بھی طلب کرتے ہیں ، ہم انہیں دلواتے ہیں ۔ کبھی کبھی ہم ایسا کرتے ہیں کہ جب ان کے بال زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو انہیں ایک پرچی دیکرنائی کے یہاں بھیج دیتے ہیں ۔  ہم بعد میں دوکان داروں کے پیسے ادا کر دیتے ہیں، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ دوسری آبادی پسماندہ مسلمانوں کی ہے اسے  ‘بھٹیاری سرائے’ کہتے ہیں ہم نے یہاں کام کیا اب اس بستی کانام ‘گلشن سرائے’ ہو گیا ہے اس کا افتتاح ہم نے شہر کے  چیر مین سے کرایا  تھا ۔ اس وقت چالیس  خواتین کی دو شفٹ چل رہی ہے۔

سوال : بچوں کی تربیت کے لیے کیا نظم ہے ؟

 جواب : بچوں میں اچھی عادت  ڈالنے کے لیے  ہم نے ایک کام یہ شروع کیا ہے کہ محلے کی ہی ایک سلیقے مند خاتون کی خدمات لی ہیں وہ بچوں سے اچھی بات چیت کر لیتی ہیں ان کو ہم نے  بچوں سے بات کر نے کے لیے مختص کیا ہے وہ اپنے پاس بلائیں انہیں اچھی باتیں سکھائیں اور ٹافی دے دیا کریں ۔ ہم نے بچوں  کے لیے ایک اور کیمپین چلا رکھا ہے بچوں سے ان کے والدین کا نام پوچھنا پھر انہیں بتانا کہ آپ کے والد کا نام جناب فلاں صاحب ہے ، اس سے  بڑی تبدیلی آئی ہے ۔ 

سوال : اس سفر میں کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ؟

جواب : ہم جب ہندو آبادی میں کام کرنے نکلتے ہیں تو وہ لوگ خاصے چوکنے ہوجاتے ہیں انہین یہ خوف ستانے لگتا ہے کہ کہیں یہ لوگ ہمیں مسلمان نہ بنالیں ، ہم نے ہمیشہ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی ہے ۔ ہم ان کے درمیان اٹھتے بیٹھے ہیں ساتھ کھاتے پیتے ہیں وہ بچیاں جو شادی بیاہ کر کے اپنے گھروں کو چلی گئی ہیں جب آتی ہیں تو ہم سے ایسے ملتی ہیں جیسے اپنے  باپ سے مل رہی ہوں اور جب ان کے یہاں کسی  بچے کی پیدائش ہو شادی بیاہ کا موقع ہو اور ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم انہیں تحفہ دیتے ہیں ہم نے اپنی کاوشوں سے  کنجری سرائے کو  پھول بستی می تبدیل کر دیا ہے ۔ اس پروگرام کا افتتاح شہر کے چیرمین سے کرایا اور پروگرام کی صدرارت  ڈاکٹر بھار دواج نے کی جو آر ایس ایس سے وابستہ ہیں ۔

سوال : پروجیکٹ کے لیے  وسائل کی فراہمی کا مستقل ذریعہ  کیا ہے ،ماہانہ اخراجات کیا ہیں ، مسقبل میں بھی یہ  انسانوں کی خدمت کا یہ کام جاری رہے  اس کے لیے کیا  منصوبہ بندی  کر رہے ہیں ؟

جواب : پہلے ہمارے ضلع بجنور میں 35 مراکز چلتے تھے اب تک ہم نے بہت سے گاوں کی اوور ہالنگ کر دی ہے ۔ 1971ہمارے طلبہ قدیم ہی ہمارے سب سے بڑے مدد گار ہیں ۔ 1971 میں  ہم نے جن نوجوانوں کو نائٹ اسکول میں پڑھایا تھا وہی نوجوان آج ہمیں اس پروجیکٹ میں مدد کرتے ہیں ،  ہمارا ماہانہ خرچ صرف پندرہ ہزار روپیہ ہے ، ہم اپنی لیڈی ٹیچرس کو اور دینا چاہتے ہیں  لیکن محدود وسائل کی وجہ سے  ہم ان  کو بھر پور اجرت نہیں دے پا رہے ہیں ۔ ہم اپنے ہم خیال لوگوں کی نشاندہی  کر رہے ہیں ، ہمیں انسان دوست لوگوں کی تلاش ہے  جو  معاشرے کی خدمت  کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ کام مسلسل جاری رہ سکے ، لوگ آئیں اور انسانوں کی خدمت کے جذ بے سے کام  کریں اس سمت میں کام ہو رہا ہے ۔  

ایم ڈی ملتا نی سے  اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے 

09927721564

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *