ہماری میڈیا ، ہماری میڈیا کی رٹ لگانے والوں کے نام 

محمد علم اللہ 

Asia Times Desk

معروف مفکر اور سماجی کارکن نوم چومسکی نے ملک ‘میکسیکو ‘کے ایک دورے سے واپس لوٹنے کے بعد 2009میں تحریر کئے گئے اپنے ایک سفرنامہ میں وہاں کی ایک چھوٹی سی کمیونٹی کے ذریعہ جاری کردہ ایک انگریزی اخبار ‘لاجورناڈا’کا ذکر کرتے ہوئے مذکورہ اخبار اور اس اخبار کے ذمہ داران اور اس کمیونٹی کی تعریف کرتے ہوئے اسے دنیا کے لئے ایک آئیڈیل قرار دیا تھا ۔ نوم چومسکی کی تحریر کا وہ حصہ یہاں دہرائے جانے کے قابل ہے۔
نوم چومسکی نے لکھا تھا کہ 1984میں جاری ہونے والا اس اخبار نے انتہائی کم مدت میں وہاں سے نکلنے والے اخبارات میں اول مقام حاصل کر لیا ،یہی نہیں بلکہ اس اخبار نے اپنی خبروں ، تبصروں اور تجزیوں سے وہاں کی حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور بسا اوقات تو ایسا ہوا کہ حکومت کو بھی اس اخبار اور اس کے ذمہ داران کی پالیسی کے موافق فیصلہ طے کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔
نوم چومسکی نے لکھا ہے کہ جب یہ اخبار اپنی 25 ویں سالگرہ تقریب منا رہا تھا تب تقریب کے دوران اس کے بانی سربراہ کارلوس پیان نے بتایا کہ اخبار کی شروعات کے وقت تقریباً 800 متوقع سرمایہ کار وارد ہوئے تھے اور انہوں نے ہزار پیسا (76 امریکی ڈالر) فی حصص کے طور پر شراکت کی۔ ان شراکت داروں میں اسی کمیونٹی کا ‘کارلوس سلم’ بھی موجود تھا جو آج دنیا کا تیسرا امیر ترین شخص ہے مگر اس وقت وہ ایک معمولی سا سرمایہ کار تھا۔ علاوہ ازیں میکسیکو کے دو مشہور مصور ‘رفینو تمایو’ اور ‘فرانسسکو ٹولیڈو’ نے اپنی بیش قیمت تصاویر کے ذریعے ‘لاجورناڈا ‘کے اصل سرمائے میں انمول اضافہ کیا۔اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اس اخبار کو خرید کر پڑھتا ہے ۔بڑی تعداد میں کمیونٹی کے لوگ اشتہارات دیتے ہیں ۔اس کا نتیجہ ہے کہ یہ اخبار اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور وقتا فوقتا کئی رفاہی کام بھی انجام دیتا رہتا ہے ۔چنانچہ 1989میں ‘میکسیکو’ میں جب وہاں زلزلہ آیا تو اس اخبار نے تقریبا 30ہزار زندگیوں کی بازآبادکاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نوم چومسکی نے لکھا ہے اس اخبار کو دیکھنے کے بعد مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنے اس خیال کو بدلنا پڑا کہ اخبار محض کارپوریٹ گھرانوں کے مرہون منت ہوتے ہیں ۔
اس اخبار کی بابت نوم چوسکی کی کن کن باتوں کا تذکرہ کیا جائے کہ انھوں نے تو اس پر پورا ایک مضمون تحریر کیا ہے جو بہر حال پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور ایک زندہ اور متحرک قوم یعنی اہل اسلام کو جھنجھوڑتا ہے کہ ان کی تو اولین ذمہ داریوں میں سے ایک یہی تھی کہ وہ حق اور سچ کو صحیح ڈھنگ سے لوگوں تک پہنچانے کے لئے زیادہ فعالیت کا مظاہرہ کر تے لیکن ان کا رویہ قابل افسوس ہے ۔
کیا مسلم قوم بھی ‘میکسیکو ‘ کی اس کمیونٹی کی طرح بیدار ہوگی ؟ اپنی آواز کو تقویت بخشنے کے لئے کچھ کرے گی ؟ اس پر یقینی طور سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن بہر حال یہ امید ضرور رکھی جا سکتی ہے کہ مسلمانان ہند ایک زندہ اور متحرک قوم ہونے کا ثبوت حقیقی معنوں میں پیش کریں گے اور عملی قدم اٹھاتے ہوئے ایک ایسی تحریک کا بھرپور ساتھ دیں گے جو ہندوستان میں عملی طور پر ان کے وجود کو منوا سکتی ہے،حکومتوں کے ذریعہ ان کے فیصلہ تبدیل کروا سکتی ہے اور ان کے مسائل کو دنیا کے سامنے مضبوطی کے ساتھ پیش کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *