میڈیا کے کیمرے کے ساتھ جاگتا اور سوتا عوام کا ضمیر

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

ذرا تصور کیجے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں 30 کروڑ سے زائد لوگ بھکمری کا شکا رہوں وہاں دوسروں کی نقالی میں خوش حالی کی وزارت قائم کرنے کا کیا مطلب ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں روزانہ  بھوک کی وجہ سے ایسی درجنوں اموات ہوتی ہیں لیکن حکومت اور معاشرہ تب متحرک ہوتا ہے جب جب اموات اخبارات کے صفحات پر جگہ پاتی ہیں ۔ پھر شروع ہوتا ہے بیانات اور سیاسی الزام تراشیوں کا سلسلہ .

اسی ہفتے مشرقی دہلی کے منڈاولی سے ایک ایسی ہی دردناک خبر آئی  کہ شدید بھوک سے تین بچیوں کی موت ہوگئی ہے بعد میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ۔ اب پولیس ٹیم پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کہتے ہیں کہ غربت اور بیماری نے بچوں کی جان لے لی ، چونکہ معاملہ دہلی کا تھا اور اس وقت پارلیامنٹ کا مانسون اجلاس جاری ہے اس لیے وہاں بھی یہ مسئلہ زیر بحث آیا  ، متاثرہ خاندان سے ملنے سماجی و سیاسی لیڈر پہونچ کر مالی امداد کررہے ہیں ۔

تقریبا  9 ماہ قبل جھار کھنڈ میں اسی طرح کا دل دوز واقعہ پیش آیا تھا جہاں بھوک سے بے تاب ایک بچی بھات بھات کہتی انتقال کر گئی تھی یہ واقعہ بھی میڈیا میں زیر بحث آیا اور پھر لوگ متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے متوجہ ہوئے تھے ۔ تیسرا واقعہ مرادآباد کا ہے یہاں اسی سال جنوری میں ایک کربناک حادثہ اس وقت پیش آیا  جب پورا ملک یوم جمہوریہ کی تقریبات کی تیاری کر رہا تھا ٹھیک انہی ایام میں ایک خاتون کی بھوک سے موت ہوگئی تھی ۔ خبر عام ہونے کے بعد معمول کے مطابق سرکاری عملہ حرکت میں آیا ، تحقیق کے احکامات صادر کر  دیے گئے اور پھر سیاسی وسماجی لیڈران کے دوروں کا سلسلہ شروع ہوا متاثرہ کے اہل خانہ کی مالی مدد کے لیے لوگ آگے آئے ۔

تینوں واقعات میں کچھ باتیں مشترک ہیں اول یہ کہ تینوں واقعات میں موت ہی بھوک کی اصل وجہ بنی ، تینوں خاندان انسانی آبادی میں قیام پذیر تھے۔ تینوں اپنے ارد گرد پڑوسی رکھتے تھے ۔ لیکن پھر بھی انہیں ایسے کربناک حالات سے گزرنا پڑا۔  آخر کیا وجہ ہے کہ موجودہ انسانی معاشرہ اس قدر بے حس ہو گیا ہے ، پہلے تو اپنے آس پاس کی کوئی خبر نہیں رکھتا اور بعد میں ایسے واقعات پیش آنے پر متاثرہ خاندان یا فرد کی بڑھ چڑھ مالی مدد کرنے کے لیے آگے آتا ہے ۔

جب تک عوام کا ضمیر میڈیا کے کیمرے کے ساتھ جاگتا اور سوتا رہے گا کسی بھی انسانی معاشرے میں ایسے درد ناک واقعات نہیں تھمنے والے ۔ 125 کروڑ آبادی والے ملک ہندوستان میں کیا اس دن صرف وہی تین بچیوں نے بھوک سے دم توڑا تھا ؟ نہیں ، ایسے سیکڑوں افراد روزانہ بھوک کی وجہ سے  لقمئہ اجل بن جاتے ہیں لیکن ماتم صرف ان کا ہی ہوپا تا ہے جو خبر بنتے ہیں ۔ 

میڈیا کر بھی کیا سکتا ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ اس طرح کے سبھی واقعات خبر بن سکیں۔  دراصل میڈیا میں آنے والے یہ اکا دکا واقعات انسداد غربت کا دعویٰ کرنے والی حکومتوں ، رفاہی سماجی تنظیموں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس کرانے کا کا م کرتے ہیں تاکہ آئندہ کوئی اور بھوک سے نہ مر نے پائے  لیکن افسوس کہ اس تعلق سے ابھی کوئی ایسا نظام ہندوستانی معاشرے میں نہیں بن سکا ہے جس سے ایسی اموات پر قابو پایا جاسکے ۔  جبکہ یہ ممکن ہے بس اس پر انسانی خدمت کے جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

کسی کو کہیں جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے آپ جہاں جس آبادی میں رہتے ہیں اپنی حیثیت کے مطابق وہیں پر کام شروع کردیں آپ کے لیے بہتر ہے کہ سب سے پہلے اپنے اپارٹمنٹ ، محلے ، پڑوس اور رشتہ داروں پر قریبی نظر رکھیں ۔ آپ کے لیے گھر کی خواتین کے ذریعے پڑوس کے گھروں کے حالات معلوم کرنا آسان ہوگا۔

سب کی ضرورتوں کو الگ الگ جاننے کی کوشش کریں، سب کی ضرورتیں الگ الگ ہو سکتی ہیں  کسی کو فوری طور پر راشن کی ضرورت ہوگی ، کسی خاندان کا کوئی فرد کسی مہلک بیماری سے پریشان  ہو سکتا ہے ،

کسی کے لیے بچوں کے تعلیمی اخراجات میں مشکل درپیش ہوگی ، کسی گھر میں کوئی بیٹی شادی کے انتظار میں بیٹھی ملے گی تو کوئی بوڑھے ماں باپ اپنے بچوں کی لاپروائی کے سبب پریشان ملیں گے۔  یہ سبھی کام ترجیحی بنیاد پر کرنے کے ہیں ۔

اگر آپ کے پاس اس طرح حقیقی ضرورت مندوں کا ڈیٹا ہوگا تو آپ ان کی خود بھی بہتر مدد کر سکیں گے ۔ آپ جو کرسکتے ہیں کیجیے اور دوسروں کو بھی اسی طرز پر کام کرنے کی ترغیب دیجیے ۔ معاشرے سے غربت کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *