ہندوستان میں ہے کوئی ایسا اخبار مالک جو اس سچ کا سامنا کرنے کو تیار ہو ؟

ابو انس کی رپورٹ

admin

ایشیا ٹائمز ڈیسک : بلا شبہ جون ماہ کی 14 تاریخ  اردو میڈیا کے لیے  تاریخی دن  تھا جب  خالص اردو  صحافیوں  کے ساتھ پریس کلب کے عہدے داران  نے بھر پور تبادلہ خیال کیا اس موقع پر اردو والوں نے اپنی دیرینہ روایات کے مطابق  جم کر شکوے شکایات پیش کیے اور پریس کلب نے انہیں جوڑنے  ان کی مشکلات کے حل کی یقین دہانی  کرائی ۔

اس موقع پر روزنامہ خبریں کے چیف اڈیٹر قاسم سید نے زور دار طریقے سے ورکنگ جرنلسٹوں  کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی حیرت ناک بات ہے کہ اردو اخبارت  کی بدحالی کا رونا رونے والے  اخبارات کے مالکان تو ہوائی اسفار کرتے ہیں اپنی ذاتی زندگی بھر پور طریقے سے گزارتے ہیں لیکن ان کے اخبارات میں کام کرنے والے جرنلسٹوں کے حا لات انتہائی قابل رحم ہوتے ہیں ، اس طرح کی  سوچ سے اردو والوں کو نکلنا ہوگا 

 ٹھیک یہی مسئلہ ہم نے آج سے کوئی چار سال قبل اپنے کچھ اردو صحافی دوستوں کے ساتھ ملکر  2011 میں حمید اللہ بھٹ کے دور میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے منعقد ‘ اردو صحافیوں کی صلاحیت سازی’ کے لیے پہلی ورک شاپ میں بھی اپنے سینئر صحافیوں کے ساتھ اٹھایا تھا اور ان سے یہی جاننے کی کوشش  کی تھی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اردو کے ورکنگ جرنلسٹ کی حالت قابل رحم ہوتی ہے اور ہمارے اخبار مالکان  عیش و آرام کا بھر پور لطف اٹھاتے ہیں ، وزرا کے ہمراہ  تمام غیر ملکی دور ے بھی انہی کے حصے میں آتے ہیں اور بے چارے ورکنگ  جرنلسٹ صرٖ ف کام کے بوجھ تلے  کراہ رہے  ہیں ۔

 ہم نے یہ بھی  سوال اٹھایا کہ پندرہ سو روپئے پانے والا اسٹرنگر آخر کس طرح  جائے حادثہ پر بر وقت پہونچ کر رپورٹنگ کرے گا ؟ لیکن اس کا  جواب کسی  اخبار مالک نے نہیں دیا ۔ بلکہ ہمارے اس سوال پر  ایک صاحب جو شمالی ہند میں کثیرالاشاعت اردو ہفت روزہ کے چیف اڈیٹر ہیں نے  برہمی کا اظہار  کرتے ہوئے سیشن درمیان میں ہی  چوڑ کر کر چل دیے  اور تو اور ہمارا یہ سوال  خود ہمارے ہی بعض  صحافی دوستوں کو پسند نہیں آیا  انہوں نے الٹے ہمیں ہی کوسنا شروع کر دیا  کہنے لگے بھائی تم اس قدر اخبار مالکان کو نشانہ بناتے ہو ہماری نو کریاں  لیکر رہو گے کیا؟ 

 ان کی اس پر سوز تقریر اور اپنے اس تجربے سے ہمیں ایک کارٹون یاد آگیا جو ہم نے  14 نومبر 2013 کو اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا تھا یہ کارٹون ان کی تقریر کی مکمل ترجمانی کررہا ہے  ۔ قارئین کے استفادے کے لیے  یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔  ہندوستان میں ہے کوئی ایسا اخبار مالک جو اس سچ کا سامنا کرنے کو تیار ہو ؟

 یہ  کارٹون ہندوستان کے تناظر میں توصد فیصد حالات کی ترجمانی کر رہا ہے لیکن پتہ نہیں ہمارے پڑوسی ممالک سمیت دیگر ممالک کی صورت حال کیا ہے ؟ وہاں ہمارے میڈیا دوست کن حالات سے دوچار ہیں۔ اگر ممکن ہوتو محفل کے احباب کچھ تجربات شیر کریں تو عالمی منظر نامہ سامنے آسکے گا اور اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکے گی ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *