بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کا کویی شوق نیں تھا جند خد غرض ممران کی وجہ ایسا ہوا : محبوبہ مفتی

Asia Times Desk

(سری نگر: (نسار رسول
جموں/ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہ ہے کہ وہ مرحوم مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دینے کے حق میں نہیں تھیں کیوں کہ مرکز ریاست کو پائور پروجیکٹ واپس کرنے جیسے معاملات میں اخلاص کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا، لیکن پارٹی کے چند لیڈران کی ایماء پر میں نے بھی گٹھ جوڑ کرنے کی حامی بھر لی۔صوبہ جموں، بالخصوص خطہ چناب کے لیڈران تیزی سے پی ڈی پی سے مستعفی ہونے کے سلسلہ کو سنجیدگی سے نہ لینے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے لیڈروں کی کوئی عوامی ساکھ نہیں تھی بلکہ وہ پیرا شوٹ سے پارٹی میں داخل ہوئے تھے اور ایسے ہی نکل بھی گئے۔ خطہ چناب کے کشتواڑ، اندروال، بھدرواہ، ڈوڈہ، بانہال اور رام بن سے آئے ہوئے پارٹی کارکنان کے وفود سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کئی لیڈر پی ڈی پی چھوڑ جائیں لیکن توقع ہے کہ اس سے زیادہ تعداد میں سینئر سیاسی لیڈر پارٹی میں شامل ہوں گے۔

تاہم انہوں نے ممکنہ طور پر پارٹی سے کنارہ کشی کرنے والے اور نئے آنے والے لیڈران کے ناموں کا خلاصہ نہیں کیا ۔حال ہی میں پارٹی چھوڑ کر جانے والے لیڈران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لیڈران کی زمینی سطح پر کوئی وقعت نہیں ہے ،وہ حادثاتی طور پر پی ڈی پی میں شامل ہوئے تھے اور ایسے چلے بھی گئے۔ جموں خطہ میں پی ڈی پی کو مضبوط کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کارکنان کو بتایا کہ نیشنل کانفرنس کی طرف سے یہ غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ کشمیر وادی میں ان کے حق میں زبردست لہر چل رہی ہے ۔ایسی’ گمراہ کن افواہوں‘ پر یقین نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکن ہے کہ کشمیر کے لوگ بی جے پی کے ساتھ الحاق کرنے کے لئے پی ڈی پی سے خفا ہو ں لیکن وہ اینٹی پی ڈی پی ہر گز نہیں ہیں۔ محبوبہ مفتی نے یاد دلایا کہ انہوں نے رسانہ عصمت دری و قتل معاملہ میں سٹینڈ لیا ، اگر وہ بی جے پی کے دبائو میں آ گئی ہوتیں تو یہ معاملہ کبھی بھی منطقی انجام تک نہ پہنچتا۔

انہوں نے جموں کے تمام کارکنان سے اپیل کی کہ وہ خطہ میں لگن او ر جانفشانی سے محنت کریں تا کہ مجوزہ پارلیمانی و اسمبلی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کی جا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *