سپریم کورٹ کا فیصلہ سوامی اور فریق مخالف کیلئے جھٹکا / محمود پراچہ

Asia Times Desk

  نئی دہلی : مسجد کی شرعی حیثیت پر آج سپریم کورٹ کا دیاگیا فیصلہ سبرامنیم سوامی اور ان جیسے لوگوں کیلئے جھٹکا ہے جنہوں نے اپنا موقف کمزور ہونے کی وجہ سے معاملہ کا رخ دوسری طرف موڑ نے کی کوشش کی تھی اور کہاتھاکہ یہ بنیادی حق صرف ہندﺅوں کو حاصل ہے کہ رام للا جہاں پید اہوئے وہیں پر عباد ت کی جائے گی جبکہ مسلمان کہیں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں مسجد میں نماز پڑھنا ان کیلئے ضروری نہیں ۔

ان خیالات کا اظہار معرو ف تجزیہ نگار اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمود پراچہ نے ملت ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ دوسرے فریق کو مکمل طور پر اندازہ ہے کہ بابری مسجد کے سلسلے میں ان کا موقف انتہائی کمزور ہے اور اپنا دعوی کو ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے اس لئے ان کے سبرامنیم سوامی نے ہوشیاری دکھاتے ہوئے معاملہ کا رخ دوسر ی طرف موڑنے کیلئے عدالت میں یہ عرضی دائر کی تھی اور 1994 کے اسماعیل فاروقی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھاکہ مسلمانوں کیلئے مسجد میں نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے وہ کہیں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں جبکہ آرٹیکل کی دفعہ 25 کے تحت یہ حق صرف ہندﺅوں کو حاصل ہے کہ وہ پوجا وہیں کرسکتے ہیں جہاں پر رام للا کا جنم ہواتھا ۔

ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج کے فیصلہ میں واضح کردیاہے کہ اسماعیل فاروقی کیس ایک خاص پس منظر میں تھا ،بقیہ مساجدسے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔جہاں تک بابری مسجد کا مقدمہ ہے تو وہ ملکیت اور ٹائٹل سوٹ کا ہے ، اسی کی بنیاد پر مقدمہ کی سماعت ہوگی ،ٹائٹل سوٹ میں عقیدہ اور مذہب کی بنیاد پر کسی طرح کی سنوائی نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر فیصلہ آئے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *