یہودی گھرانوں کی بہو بیٹیاں ایسے کرتی ہیں اپنے بچوں کی پرورش

Asia Times Desk

  ادارتی نوٹ :  سیدہ عنبرین عالم کے نام سے  یہ تحریر ہمیں سوشل میڈیا پر کئی روز سے گردش کرتی وئی موصول ہوئی ، اس کے  نکات ہمیں  قابل غور بامعنیٰ لگے لہذاٰ ہم نے مناسب جانا کہ  اسے اپنے قارئین  کے لیے پیش کریں ۔ 
 
ایک مسلم پاکستانی گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔
اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا کہ اسماء کے شوہر نے ایک طوفان برپا کردیا کہ میری امی کو غاصب کہہ رہی ہو! گھر کا ہر فرد اُن کو اپنی تنخواہ دیتا ہے، تمہیں اعتراض ہے تو گھر چھوڑ دو، جو گھر کے سب لوگ کھاتے ہیں تمہیں وہی ملے گا، تم کہیں کی رانی نہیں ہو، اپنی اوقات میں رہو۔
 
گھر میں وہی تیز مرچوں کا، بھرپور تیل والا کھانا بنتا، جسے دیکھ کر ہی اسماء کو الٹی ہونے لگتی۔ رفتہ رفتہ اس کی خوراک کم ہونے لگی۔ ایک بار دودھ پینے کی کوشش کی تو ساس نے یاد دلایا کہ تمہارے میکے میں تمہیں کیا نصیب تھا جو یہاں نخرے دکھا رہی ہو! بہرحال آفس میں باس کی ڈانٹ کھاتے، گھر میں ساس اور میاں کے طعنے سنتے، مختصر ترین غذا کے ساتھ اسماء نے 3 پائونڈ کے ایک بچے کو جنم دے دیا، جس کا نام بھی ساس نے رکھا۔ عبدالمعید شروع سے ہی انتہائی ناتواں تھا۔
 
میڈی ڈیوڈ ایک اسرائیلی گھرانے کی بہو تھی، اُس کے گھر خوشی آنے والی تھی۔ میڈی کو روز صبح ایک ادارے میں جانا پڑتا جہاں اسے 3 گھنٹے تک ریاضی کی مشقیں حل کرائی جاتیں تاکہ بچہ ذہین پیدا ہو، اس کے بعد وہ گھر آکر مچھلی سے بنا اپنا دوپہر کا کھانا کھاتی۔ شام میں بادام، دودھ، کھجور اور دیگر پھل وغیرہ کھاتی، رات میں بیف، دالیں وغیرہ۔ دن میں کم از کم دو گھنٹے سکون حاصل کرنے کے لیے موسیقی سنتی۔ سرکاری طور پر اس کو وظیفہ دیا جارہا تھا تاکہ وہ ایک صحت مند یہودی کو پیدا کرسکے۔ اس کی ساس اور شوہر کا رویہ بھی
نہایت مثبت تھا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا بچہ پیدا ہو جو نوبیل پرائز حاصل کرے۔ 80 فیصد یہودی ہی ہمیشہ سے نوبیل پرائز حاصل کرتے آئے ہیں۔
 
17 جنوری 1990ء کو آخرکار میڈی کے ہاں 8 پائونڈ کا سولیھن جوزف پیدا ہوا۔ اس کی ماں بھی بہت صحت مند تھی اور بچے کو بہترین ابتدائی غذائیں دے رہی تھی۔ تین سال کی عمر میں اسے نشانہ بازی، تیراندازی اور دوڑ کی مشقیں شروع کرا دی گئی تاکہ یکسوئی اور فیصلہ سازی کا عنصر پیدا ہو۔ سولیھن کو بہت اخلاق و تہذیب بھی سکھایا جاتا، اس کے سامنے کوئی اونچی آواز میں آپس میں بھی بات نہ کرتا۔ ایک دن سولیھن بہت حیران ہوا، اس کے ماں باپ ہر مہمان کی بہت تواضع کرتے تھے، مگر ایک بھارتی مہمان جب سگریٹ پینے لگا تو سولیھن کے والد نے اُس سے کہا کہ آپ گھر سے باہر جا کر سگریٹ پئیں۔ مہمان نے کہا کہ سگریٹ کی 80 فیصد فیکٹریاں یہودیوں کی ہی ہیں۔
 
تو سولیھن کے والد نے جواب دیا کہ ہاں وہ ہمارا بزنس ہے مگر یہودی اسموکنگ نہیں کرتے، جیسے کہ ہم تمام دنیا کے بچوں کو کارٹون نیٹ ورک اور ڈزنی ورلڈ دکھاتے ہیں مگر اپنے بچوں کو ہم تیراندازی، گھڑ سواری، تیراکی اور ریاضی سکھاتے ہیں، ہمارے اسرائیلی بچے کیلی فورنیا کے بچوں سے ذہنی استعداد میں 6 سال آگے ہیں، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو کس بچے کو ڈاکٹر یا سائنٹسٹ بنانا ہے، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں مستقبل میں اپنے کتنے بچوں کو بزنس مین یا انجینئر یا سیاست دان بنانا ہے، ہر ایک کی اسی حساب سے ساری زندگی ٹریننگ ہوتی ہے۔
 
سولیھن جوزف جب چھٹی جماعت میں گیا تو اسے پراجیکٹ دیا گیا کہ 3 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری سے 10 ہزار ڈالر کما کر دکھائے۔ اسے تیسری جماعت سے کاروباری حساب کتاب پڑھایا جارہا تھا، مگر وہ صرف7 ہزار ڈالر ہی کما سکا۔ اس ناکامی پر اسے کاروباری ریاضی کی ایکسٹرا کلاسیں لینا پڑیں، اور ساتویں جماعت میں وہ اسکول کے فراہم کردہ 5 ہزار ڈالر سے 16 ہزار ڈالر کمانے میں کامیاب ہوگیا۔ اب وہ ایک پکا یہودی بن چکا تھا، اب وہ جو چاہے مضمون اپنے ہائی اسکول کے لیے منتخب کرتا، مگر صرف سائنسی مضامین کی اجازت تھی اور سولیھن نے نیوکلیئر فزکس کا انتخاب کیا۔
 
یہ وہ سال تھا جب سولیھن نے زندگی میں پہلی بار چپس، پیپسی اور چاکلیٹ چکھے، کیونکہ ساری کچرا خوراک یہودی بچوں کو منع ہوتی ہے۔ سولیھن کا بھی یہ پہلا تجربہ آخری تجربہ رہا اور اس کو ماں باپ سے بہت ڈانٹ پڑی۔ اب وہ پھر سے جیب میں کھجور اور بادام رکھتا ہے، جو ٹافیوں اور الم غلم سے بدرجہا بہتر ہیں۔
 
جب سولیھن تعلیم سے فارغ ہوا تو اس کے والد نے اسے نیویارک کے ایک ادارے میں بھیجا۔ صدیوں کے سودخور یہودی اس ادارے میں یہودی بچوں کو بلا سود قرضے فراہم کرتے تھے تاکہ یہودی بچے اپنے ہنر و تعلیم کے مطابق کاروبار کا آغاز کریں، نہ کہ نوکریاں ڈھونڈتے پھریں۔ پڑھائی تک یہ سوچ کر نہ کریں کہ نوکری مل جائے، بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے کوئی نیا کاروبار کریں۔
 
سولیھن کو اپنی طلب کے مطابق قرضہ مل گیا، اس نے اسرائیل میں ایک لیبارٹری کھولی جہاں اس کے سب سائنس دان دوست بھی اس کے ساتھ مل گئے۔ اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی سے ان لوگوں نے وہ، وہ ہتھیار بنائے کہ دنیا کا ہر ملک اسرائیل سے ڈرنے لگا۔
 
اسماء کے نوکری پر جانے کے بعد دادی کے لیے عبدالمعید کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ بس چپس، ٹافیاں اور دیگر الم غلم دے کر اس کو بہلا پھسلا کر رکھتیں۔ انہی چیزوں سے اس کا پیٹ اتنا بھر جاتا کہ وہ کھانا کھا ہی نہ پاتا، کھاتا بھی تو مرچوں اور تیل کی بھاری مقدار اس کا پیٹ آئے روز گڑبڑ کردیتی اور وہ کبھی صحت پکڑ ہی نہ پایا۔ اسماء آتے ہی واشنگ مشین لگاتی اور کپڑے دھونے میں جت جاتی۔ رات کو فارغ ہوتی تو کھانا کھاتے ہی سو جاتی۔ عبدالمعید کو ماں کا پیار اور تربیت مل ہی نہ پائی، تربیت بس یہ ملی کہ دادا دادی کو مارتے، تایا تائی کو مارتے، اور ابو امی کو مارتے۔
 
پانچ سال کا ہوا تو ایک قریبی اسکول میں داخل کرا دیا گیا کہ محلے کے بچوں کے ساتھ ہی جائے گا اور آئے گا۔ ماں باپ کی عدم توجہی کی بنا پر عبدالمعید کی کارکردگی انتہائی خراب تھی، روز ابو دھنک کر رکھ دیتے کہ پڑھتا کیوں نہیں! لیکن کبھی اس کو لے کر نہیں بیٹھے کہ آئو آج تمہیں میں پڑھاتا ہوں۔ بڑی مشکل سے میٹرک پاس کیا۔ اپنی ماں سے جب اپنی مشکل کہنا چاہتا، اُن کو کوئی نہ کوئی کام یاد آجاتا۔ پھوپھیوں نے تو بے دام غلام سمجھ لیا تھا۔ اسماء کی غیر موجودگی میں سارے کام عبدالمعید سے ہی لیتیں۔ اب اس کے پاس پڑھائی کا کیا وقت رہ جاتا! انٹر میں آرٹس لیا، پھر بی اے کیا۔ اب ساری دنیا میں نوکری کے لیے جوتیاں چٹخاتا پھرتا ہے۔ اسماء بوڑھی اور بیمار ہوگئی ہے مگر اس کا شوہر اس کا علاج کروانے کے بجائے دوسری شادی کرچکا ہے۔
قارئین! ہم نے ایک مسلم خاندان اور ایک اسرائیلی خاندان کا تقابلی جائزہ پیش کیا، تاکہ سمجھ سکیں کہ اسرائیلی دنیا پر کیوں حکومت کررہے ہیں، اور مسلمان کیوں زوال کا شکار ہیں۔ ایک اسرائیلی بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی تربیت پانا شروع کردیتا ہے، جب کہ ایک مسلمان بچہ ہونے سے پہلے ہی تنائو کی کیفیات سے آشنا ہوجاتا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کامیاب کون ہوگا… یہودی یا مسلمان؟
 
آپ غور کریں کہ یہودی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ چل رہے ہیں اور وہ اپنی نسلوں کی ایسی ٹھوس تربیت کرتے ہیں کہ ہر آنے والی نسل پچھلی نسل کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھتی ہے، کسی نسل پر بھی ان کی حکمت عملی میں خلا نہیں پیدا ہونے پاتا۔ کوئی بچہ اپنے آبا و اجداد کی حکمت عملی سے اختلاف نہیں کرتا، اور یہودیوں کے منصوبے صدیوں تک بغیر کسی مشکل کے جاری رہتے ہیں۔ جب کہ ہم اوّل تو ایسی قیادت سے محروم ہیں جو منصوبے بنائے اور اپنی نسلوں کی اس کے مطابق تربیت کرے، دوسرے ہم ذاتی سطح پر بھی صرف یہ سوچ کر اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہیں کہ بس زیادہ سے زیادہ پیسے کما لے۔ ہم کبھی قومی اور امت کے نقطہ نظر سے اپنے بچوں کو تیار نہیں کرتے، جس کا خمیازہ ہمارا ملک بھی بھگت رہا ہے اور امتِ مسلمہ بھی۔
 
یہودیوں کی ایک اور خوبی جو اُن کی ترقی کی ضمانت ہے، یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کا راستہ نہیں کاٹتے، بلکہ ایک یہودی دوسرے یہودی کی مدد کرتا ہے۔ ساری دنیا کو انہوں نے سود در سود کے چکر میں پھنسایا ہوا ہے، مگر ایک یہودی جب دوسرے یہودی کو قرض دیتا ہے تو ایک پیسے کا بھی سود نہیں لیتا، چاہے کتنے عرصے میں رقم کی واپسی ہو۔ یہودی خاندان جو اسرائیل میں بستے ہیں، ان میں طلاق کی شرح صرف 3 فیصد ہے، وہ بھی صرف شوبز وغیرہ سے وابستہ لوگوں میں… عام یہودی خاندانوں میں طلاق ممکن ہی نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک مضبوط قوم کے لیے سب سے پہلے مضبوط خاندان ضروری ہے تاکہ بچوں کی تربیت عمدہ انداز میں ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا بھر کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے طلاق کی تربیت دے رہے ہیں، مَردوں کی تفریح کے اتنے ذرائع پیدا کردیے گئے ہیں کہ ان کو گھروں میں دلچسپی محسوس ہی نہیں ہوتی، بلکہ وہ خاندان کو ایک اَن چاہا بوجھ سمجھنے لگتے ہیں جو ان کی آزادی اور تفریح کی راہ میں رکاوٹ ہے، اور پھر آخرکار بچوں کی جنت اجڑ جاتی ہے، یہ بچے کسی ماموں یا خالہ کے گھر ساری زندگی یہ سنتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ ’’نکلو ہمارے گھر سے‘‘، یا ’’برے باپ کی بری اولاد‘‘۔
 
یہودی اپنے بچوں کو اپنی تمام مذہبی کتب اور مذہبی رسومات ازبر کرا دیتے ہیں۔ اگر ان کا عقیدہ حضرت عیسیٰؑ کے دور میں تھا کہ وہ آئیں گے تو دنیا میں یہودیوں کی حکومت قائم ہوگی، تو آج بھی وہ نہ صرف ایک مسیح کا انتظار کررہے ہیں بلکہ ان کا بچہ بچہ دجال مسیح کی آمد کا میدان تیار کررہا ہے۔ شام کی تباہی بھی دجال کی آمد کی نشانی ہے جسے وہ دل لگا کر پورا کررہے ہیں۔
 
وہ سمجھتے ہیں کہ ترکی، مصر، مدینہ، عراق اور تمام عرب ممالک گریٹر اسرائیل کا وہ نقشہ ہیں جن کی فتح کے بعد ہی دجال آسکے گا اور تمام دنیا کو یہودیوں کی جاگیر بنادے گا۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ یہودی اتنے متحد اور ذہین ہیں کہ اب بھی تمام دنیا پر بلاواسطہ انہی کا قبضہ ہے، وہ جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے، اور عرب حکمران خدا کو خوش کرنے سے زیادہ یہودیوں کو خوش کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔
 
قارئین! میری یہودیوں سے کوئی ذاتی دشمنی تو ہے نہیں، مگر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو وہ جس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں وہ میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر عمل کریں تو ان کی سازشیں کچھ نہیں کرسکتیں۔ اب یہودی بھی ہے تو وہ اُس وقت تک ہمارے ملک کو یا اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک ہم میں سے کوئی اس کا رازدار ساتھی نہ بنے، اس کے ایجنڈے کو مسلمانوں میں ترویج نہ دے… تو پھر غلطی کس کی ہے؟
 
براہِ مہربانی اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کی فوجوں میں شامل ہونا ہے، ان کو ایمان کی لَو دیں۔ اس سوچ کے ساتھ ان کی تربیت نہ کریں کہ یہ بس کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کسی یہودی کے ملازم بن جائیں۔ یاد رکھیں کہ مرضی تو پھر ساری دنیا میں باس کی ہی چلتی ہے، ملازم کی نہیں۔
 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *