عوامی خیرخواہی کے جذبے سے معمور حیدرآباد کا مثالی بیت المال

Asia Times Desk

کسی بھی معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جو ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان کے ذریعہ کی گئی مدد ضرورت مند تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر اس کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ صدقات و عطیات کو جن مقاصد کے لیے دیا جاتا ہے ان کے حصول کے لیے اور دینے والے اور لینے والے دونوں کے اطمئنان کے لیے حیدرآباد کے صفا بیت المال نے ایک منفردطریقہ ڈونڈھاہے۔ جس میں دینے والے اور ضرورت مندحضرات کی تفصیل جمع کرکے ان کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تعلیم اور سماجی فلاح و بہبود کے شعبہ میں کام کرنے والایہ ادارہ ہر ماہ مختلف ریاستوں میں 70-80 لاکھ کی رقم خرچ کرتا ہے۔ اس کا قیام سال 2006 میں مولانا غیاث احمد رشادی کے ذریعہ عمل میں آیاتھا اور اس وقت اس کی تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، آسام، جھارکھنڈ، اترپردیش، اوڈیشا اور مدھیہ پردیش میں 70 شاخیں قائم ہوچکی ہیں۔
صفا بیت المال کی قیادت پانچ علمائے کرام کرتے ہیں اور اس میں کل 450 افراد پر مشتمل تنخواہ دار عملہ کام کرتا ہے۔

مولانا غیاث رشادی نے بتایا کہ ” ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صاحب ثروت افراد کے ذریعہ دئے گئے عطیات ضرورت مندوں تک پہنچ جائے۔”
ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے اس کام میں علمائ￿ کو لایا جائیاور یہ تنظیم ائمہ مساجد کو اس کارخیر سے جوڑنے میں مصروف ہے۔
مولانا کے مطابق” امام صرف اس مسجد کا سربراہ نہیں ہوتا بلکہ و ہ بلالحاظ مذہب و ملت اس پورے علاقے کا سربراہ ہوتاہے۔”

حیدرآباد میں واقع اس تنظیم کے کال سینٹر کو یومیہ 400سے 500 فون آتے ہیں۔ یہ فون ضرورت مندوں کے بھی ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے جو اپنے عطیا ت دینا چاہتے ہیں۔ تنظیم شفافیت کا اہتمام کرتی ہے اور اس کے ذریعہ عطیہ دہندہ یہ جان سکتا ہے کہ اس کی رقم کہاں خرچ ہوئی اور وہ ان لوگوں کے نام ،پتہ اور ان کا رابطہ نمبر بھی لے سکتا ہے جن کو وہ رقم دی گئی۔

بیت المال کی شاخو ں کے ذمہ دار ایم اے مقتدرعمران کے مطابق” جو بھی ضرورت مند مدد کے لیے بیت المال سے رابطہ قائم کرتا ہیپہلے اسے اپنی ساری تفصیل بتانی ہوتی ہے پھر بیت المال کا عملہ وہاں جاکر اس کے ذریعہ دی گئی تفصیلات کی توثیق کرتاہے۔

اس سروے کی تفصیلات کے مطابق مذکورہ شخص کو اس کی مختلف ضرورتوں کے پیش نظر سفید، پیلا یا گلابی کارڈ دیا جاتا ہے۔

یہ بیت المال لوگوں سے زکو?، صدقہ ، فطرہ اور دوسرے عطیا ت قبول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی سب سے زیادہ آمدنی گھر وں کے کباڑاور ردی کو اکٹھا کرکے ہوتی ہے۔ یومیہ حیدرآباد سے گھر کے سامان لینے کے لیے بیت المال کو اوسطا 100 فون آتے ہیں۔

بیت المال کے پاس ایسی 12 گاڑیاں ہیں جو کباڑ کو اکٹھا کرکے ورکشاپ تک پہنچاتی ہیں۔ کچھ سامان اچھی حالت میں ہوتے ہیں تو ان کی مرمت کے بندلاگوڈا میں واقع بیت المال کی یونٹ کے ذریعہ اس کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ اس طرح بیت المال کو کباڑ سے تقریبا 18-19 لاکھ کی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے جسے فلاحی کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے۔
صرف حیدرآباد میں بیت المال 150 یتیم بچوں کی تعلیی فیس اور خوراک پر ماہانہ فی کس 2000 روپیہ خرچ کرتاہے۔ ایک ترجمان نے بچوں کی تعلیم حالت جاننے کے لیے اسکول کا دورہ کیا تو وہاں پایا کہ بچوں کو کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہرماہ ہر طالب علم کی طرف سے مشترکہ فنڈ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک ہزار روپئے جمع کیے جاتے ہیں۔ اور اس کی نصف آمدنی ایک دوسری تنظیم صالحہ رشید ٹرسٹ کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے۔

اسی طرح بیواؤں کو ماہانہ ایک ہزارکا وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اگر بیوہ دماغی یا جسمانی طور پر معذور ہے تو اس کو ایک ہزار سے دو ہزار تک کا وظیفہ ملتاہے۔
کشن باغ اور بابانگر جیسے غریب علاقوں میں بیت المال کے ذریعہ سروے کرکے یتیم، غریب ،بیوہ، اور ایسیمعذاور افراد کی شناخت کی جاتی ہے جو واقعی ضرورت مند ہوں۔
روزآنہ بیت المال کے ذریعہ حیدرآباد کی 26طے شدہ جھونپڑپٹیوں میں طبی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس طرح روزآنہ ایک کیمپ کا انعقادہوتاہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم لوگوں کا معائنہ کرتی ہے اور ان کو مفت دوائیں بھی دیتی ہے۔ سفید کارڈ والے افراد بیت المال کے ذریعہ چلائی جارہی پیتھالوجی پر مفت ٹیسٹ بھی کراسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تین طبی مراکز بھی چلائے جاتے ہیں۔ ٹرسٹ کی طرف سے ہرماہ طب سے متعلق سرگرمیوں پر 8لاکھ خرچ کیا جاتا ہے۔

بیت المال کے ذریعہ شادیوں میں منفرد انداز میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ بیت المال اس شرط پر مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے کہ شادی کی تقریب اس کے مطابق طے کردہ تاریخ اور مقام پر ہوگی۔

عمران نے بتایا ” ہم ایک شادی پر 50 سے 60ہزار کی رقم خرچ کرتے ہیں جس میں ہم زوجین کو فرنیچر اور دیگر گھریلو سامان مہیا کراتے ہیں۔”
بیت المال کے ذریعہ 10 سلائی کے مراکز چلائے جاتے ہیں جس میں ایک ہزار عورتوں کو سلائی کڑھائی سکھائی جاتی ہے۔ حکومت کے اقلیتی شعبہ کی جانب سے بیت المال کی نگرانی میں ایک کارخانہ بھی قائم ہے جہاں 40 مشینوں کا نظم ہے اور درجنوں عورتیں اس سے وابستہ ہیں۔

چھوٹے کاروباریوں کو بیت المال کے ذریعہ غیرسودی قرض بھی فراہم کیا جاتاہے۔پھیری والوں کو 3ہزار روپیہ فی ہفتہ کے حساب سے قرض دیاجاتاہے جسے وہ 6ہفتوں کے اندر واپس کرسکتیہیں۔ جو لوگ رقم کی واپسی میں جلدی کرتے ہیں ان کی اور مدد کی جاتی ہے۔

رمضان المبار ک کے مہینہ میں بیت المال کے ذریعہ 50 لاکھ روپیہ کی لاگت پر مشتمل 25ہزار راشن پیکٹ تیار کیے جاتے ہیں اور اس کو ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ عید کے موقع پر بھی اسی طرح پیکٹ کی تقسیم ہوتی ہے۔

عید الاضحی ٰکے موقع پر بیت المال کے ذریعہ کئی ریاستوں کے 600 گاوؤں میں جانوروں کی قربانی کا نظم کیا جاتا ہے تاکہ غریب اور ضرورت مند افراد تک گوشت پہنچ جائے۔
روزآنہ بہت سارا کھانا آئی ٹی کمپنیوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔ کچھ دنوں قبل بیت المال نے کچھ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے زائد از ضرورت کھانے کو لینے اور اس کو پیک کرکے ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا معاہد ہ کیا ہے۔

بیت المال کی سرگرمیوں میں کنوؤں کی کھدائی، عورتوں میں سلائی مشین اورغریب طلبہ میں تعلیمی کٹس کی تقسیم، گرمی کے دنوں میں سرکاری اسپتالوں میں پینے کے پانی کی فراہمی ، مدارس کے طلبہ اور فٹ پاتھ پر گذر بسر کرنے والوں میں کمبلوں کی تقسیم ، گاوؤں میں مساجد کی تعمیراور طلبہ میں سمر کیمپ کا انعقادشامل ہیں۔
حیدرآباد زکو? اینڈ چیریٹبل ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈ جیسی تنظیمیں بھی صفا بیت المال کے ساتھ مل کر ضرورت مندوں کی مددکے لیے کوشاں ہیں۔

اترپردیش کے نامور عالم دین مولانا سجاد نعمانی کے ذریعہ چلائے جارہے رحمان فاؤنڈیشن نے اپنے اسٹاف کو تربیت کے لیے صفا بیت المال بھیجا۔ آسام سے ممبر پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل بھی اپنے اسٹاف کو لے کر حیدرآباد آئے تھے تاکہ وہ بیت المال کے منفرد طرز اور کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔

(یہ مضمون آئی اے این ایس اور فرینک اسلام فاؤنڈیش کے اشتراک سے چلائے گئے ایک خصوصی سلسلہ کا حصہ ہے۔ )

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *