دانشوران ملت کا مضحکہ خیز تضاد

محمد غزالی خان لندن

Asia Times Desk

سوشل میڈیا پر اردو میں لکھنے والوں کی جانب سے ترکی میں انتخابات پر دوطرح کے رد عمل سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف وہ احباب ہیں جنہوں نے طیب اردغان کی کامیابی کیلئے دعائیں مانگی تھیں اور اب ان کی جیت پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جس کسی میں تھوڑی سی بھی دینی حمیت ہے اور جو ترکی کی تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہے اور جس نے فلسطین اور میانمار میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کی پھانسیوں پر اردوغان کی بے باکی اور جرت مندی یاد ہے اس کا کا طیب اردوغان سے ہمدردی رکھنا فطری بات ہے۔کوئی جان بوجھ کر اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لے تو اس کا کوئی علاج نہیں ورنہ کون نہیں جانتا کہ کمالسٹس کے بر سر اقتدار آجانے کے بعد مذہبی آزادی کے تعلق سے جو کچھ اردوغان دور حکومت میں ترکی میں کیا گیا ہے وہ سب خاک میں ملا دیا جاتا۔ بہر حال اردوغان کو فرشتہ صفت اور نا قابل تنقید سمجھنا اور ان کی بہت سی کمیوں اور کمزوریوں کو ذہن میں نہ رکھنا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
 
جو احباب اردوغان کو صلاح الدین ثانی یا خلافت کے حقدار اور امید وار کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ بھی بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ ترکی میں سیکولرزم کے نام پر جو کچھ ترکی مسلمانوں کو جھیلنا پڑا ہے اوراس لعنت سے انہیں آزاد کرانے اور ان میں دینی احساس بیدارکرنے میں جو کردار اردغان نے ادا کیا ہے اس سے کوئی احمق ہی انکار کرے گا ۔ بہر حال کچھ لوگوں کے نزدیک اردوغان کا یہی سب سے سنگین جرم ہے ۔ ایسے بے غیرت ہمارا موضوع نہیں ہیں۔
 
البتہ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اردوغان سے ہمدردی رکھنے والوں نے جن جن القابات سے اردوغان کو نوازا ہے یا نواز رہیں ہیں اور جیسی جیسی توقعات ان سے باندھی جا رہی ہیں( اللہ کرے کوئی کوئی معجزہ ہو جائے اور یہ تمام توقعات پوری ہو جائیں)، وہ غیر حقیقت پسند ی اور سادہ لوحی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔میں اردوغان کی فتح پر خوش ہونے کی مخالفت نہیں کر رہا ہوں۔ اگر ہم کسی مسلم ملک میں ہونے والی تباہی اوردنیا بھر میں کہیں بھی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر افسوس کر سکتے ہیں تو کہیں سے کوئی اچھی خبر آنے پر کچھ خوشی کا اظہار کرنے میں ایسی کون سی قابل اعترض بات ہے؟
 
مگر اردوغان کی فتح پر خوشی منانے والوں کے برعکس اردو میں لکھنے والے دانشوروں (جاوید حبیب مرحوم ایسے لوگوں کیلئے دانے شور یا انٹلکچول کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے) کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو مولویوں پر لعن طعن کرنے کا چھوٹے سے چھوٹا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ لہٰذا ترکی کے انتخابات کے نتائج پر کچھ نوجوان عالموں کی دعاؤں اور خوشی کے اظہار کو بہانہ بنا کر نہایت گھٹیا زبان میں ان کی مذمت کی گئی ہے اور ان کا تمسخر اڑایا گیا ہے۔
 
ایسے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے تمام تر مسائل کے ذمہ دار سوشل میڈیا پر ایکٹو یہ چند علما ء اور اردوغان سے ان کی ہمدردی ہے ۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کی سیاست میں دلچسپی نہیں لیتے۔جبکہ یہ تمام لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل میں نہ یہ کہ دوسرے لوگوں سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی لیتے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے اپنی اہلیت کے مطابق کچھ نہ کچھ کر بھی رہے ہیں۔
 
فیس بک پر یا اخبارات میں ان کی تحار اور عملی میدان میں ان کی کاوشیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ صرف لکھنے پر ہی اکتفا نہیں کر رہے ہیں عملی طور پر جو کچھ ان کے بس میں ہے تدبیریں بھی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود جس طرح ان کا تمسخر اڑایا گیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان پر انتہا پسندی کا الزام لگانے والے خودان سے کہیں زیادہ انتہا پسند اور شدت پسند ہیں۔ ان پر انتہا پسندی اور شدت پسندی کا الزام لگانے والے اپنی زبان اور اپنے انداز تحریر سے کہیں تو ثابت کرتے کہ جن لوگوں کو وہ ہدف تنقید بنا رہے ہیں یہ خود ان سے کسی طرح بہتر ہیں۔ واضح رہے کہ میں کسی بھی مولوی کا مقلد یا عقیدتمند نہیں ہوں۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے ان پر تنقید کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتا۔ مگر مولوی یا غیر مولوی کسی کو بلاوجہ ہدف تنقید بنائے جانے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
 
 
 
 
 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *