جناب والا ذرا سنبال کے ! اہل مغرب سے مستعار  لیا گیا یہ فارمولہ آپ کو کسی نئی مصیبت میں نہ مبتلا کردے

اشرف علی بستوی 

Asia Times Desk

آج کل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے اصلاحی بیانات اور اقدامات کی وجہ سے عالمی میڈیا میں کافی مقبول ہیں ،ان کی نقل و حمل پر مغربی میڈیا کی گہری نظر ہوتی ہے ۔ خاص طور سے سعودی خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق ان کی پہل کو مغربی نمایاں مقام دیا جا رہاہے ۔ انہیں ایک ترقی پسند لیڈر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔اس کے علاوہ  ان کے سخت سیاسی بیانات بھی آجکل موضوع بحث ہیں ۔وہ سعودی عرب کےپریشان کن ماضی  سے پیچھا چھڑاتے ہوئے روشن مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔

 ان کی پوری توجہ کا مرکز ی نقطہ وزن 2030  ہے  ۔ وہ تیل پر منحصر سعودی معیشت  کو تقویت دینے کے لیے  خواتین اور نوجوانوں کو اختیار دینا چاہتے ہیں ۔  ان کے مطابق گویا سعودی عرب تبدیل ہورہا ہے۔  وہ  ویژن 2030 پر عمل درآمد کررہے ہیں ۔ اس کے ذریعے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنا رہے ہیں تاکہ وہ سعودی معیشت میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں اور مملکت کو جدید بنانے اور اقتصادی اصلاحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ دنیا کے سامنے ولی عہد محمد بن سلمان کی فکر مندی کا اظہارکچھ اس طرح کیا جا رہاہے۔

جس سے آپ کوبہت آسانی سے اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کیسا سعودی عرب دیکھنا چاہتے ہیں ، 2030 میں سعودی عرب کیسا ہوگا اس کا  اندازہ حالیہ کچھ ماہ میں سعودی سے آنے والی خبروں سے بخوبی لگیا جا سکتا ہے ، اقتصادی ترقی میں سعودی عرب کی نئی نسل کی شرکت کو یقینی بنانے کے نئے ضابطے وضع کیے جارہے ہیں، اقتصادی سرگرمیوں میں خواتین کی سرگرم شمولیت کے ایجینڈے کوبہت تیزی سے  آگے بڑھایا جارہا ہے عنقریب سعودی خواتین زندگی کے ہر موڑ پر ہر میدان میں مردوں کے شانہ ب شانہ نظر آئیں گیں ۔

اس کے لیے دارالحکومت دہلی  میں واقع سعودی سفارت خانہ گزشتہ 9 ماہ سے ہر ہفتے میڈیا کو جاری نیوز لیٹر میں ایسی  خبروں کو نمایاں جگہ دیتا ہے۔  ہر ہفتے آپ کو اس طرح کی  ایک دو خبریں ضرور مل جائیں گی جن کا راست تعلق خواتین کو بااختیار بنانے سے ہوتا ہے۔ 9 مارچ 2018  کوجاری نیوز لیٹر میں  سعودی عرب کی ترقی سے متعلق 6 خبروں میں سے 5 سعودی خواتین کو با اختیار بنانےسے متعلق تھیں

۔ پہلی خبر سعودی خواتین نے جدہ میں خواتین کا دن منایا، دوسری خبر سعودی عرب نے پہلی خاتون میراتھن کی میزبانی کی ، تیسری خبر سعودی خواتین ڈرائیونگ سیٹ میں بیٹھنے کو بے تاب  ہیں.چوتھی خبر سعودی عرب میں خواتین اصلاح ، پانچویں خبر سعودی خواتین نے ٹریفک کنٹرول کے لئے روزگار کی تربیت لی ۔

اپنی نئی اقتصادی پالیسی کو ضروری قرار دیتے ہوئے امریکہ میں تعینات سعودی سفیر  شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ” ستاسی سالہ تاریخ کے دوران ہم نے بطور قوم تبدیلی اور ترقی کا عمل جاری رکھا ہے۔ اب ویژن2030 کی بدولت یہ تبدیلی بڑی تیزی سے رونما ہورہی ہے لیکن یہ سب کچھ ہمارے مذہب اور اقدار کے مطابق ہورہا ہے۔ ہم تیل پر کم انحصار والی معیشت کو ترقی دے رہے ہیں اور ایک ذمے دار قوم کی حیثیت سے آگے بڑھ رہے ہیں جو خطے اور دنیا میں امن اور خوش حالی کے لیے ذمے دارانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے”۔ حالانکہ ساتھ ہی سعودی عرب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ  خواتین کو بااختیار بنانے کے ہمارے اس فیصلے کی کچھ حلقوں کی  تنقید ہوئی ہے۔ لیکن پھر بھی بڑے پیمانے پر اس کا خیر مقدم  ہو رہا ہے،جس سے انہیں اطمینان ہے ۔

سعودی سے آنے والی خبروں کا تجزیہ کریں تو آپ کو یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ سعودی ولی عہد کے اس اصلاحی قدم کے نتیجے میں خواتین کے جس طرح کے بیانات آئے ہیں مذہبی گروپوں کی جانب سے کی جانے تنقید کا جواب خود خواتین نے بڑے غیر مہذب انداز میں دینا شروع کر دیا ہے  ۔ اس سے ایک طرح کی فکری  تصادم کی سی کیفیت بھی پیدا ہوئی ہے ۔

اس کی مثال کچھ ایسی خبروں سے لگایا جاسکتا ہے ایک خبر یہ تھی کہ سعودی عرب میں خواتین نے ایک ایسے دینی عالم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنھوں نے تجویز کیا تھا کہ خواتین کو آرائشی عبایہ اور میک اپ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کی خبروں کو مغربی میڈیا خوب بڑھا چڑھا کر پیش کر تاہے گویا یہ تاثر دیتا ہے کہ ابھی تک سعودی خواتین کے ساتھ ظلم ہو رہا تھا  جس سے اب وہ آزاد ہونا چاہ رہی ہیں ،اور محمد بن سلمان اس تبدیلی کے سرخیل ہوں گے ۔

سعودی عرب سے مستقل بڑے پیمانے پر اس بات کی بے تحاشا تشہیر کرنا اور پوری توجہ صرف اس بات پر دینا کہ ہم اپنی خواتین کو اختیار دینے کے معاملے اہل مغرب کے  شانہ بہ شانہ چل رہے ہیں ، کم ازکم یہ سعودی عرب کے شایان شان نہیں ہے ۔ آپ اپنے یہاں خواتین کو بااختیار بنا ئیے انہیں تجارتی، تعلیمی ، تحقیقی  سرگرمیوں کا حصہ بنائیے لیکن  خیال رہے کہ اپنی ترقی کا فارمولہ آپ کو کسی اور سے نہیں خود اسلام کی تاریخ سے اخذ کیجیے

کہیں ایسا نہ ہو کہ اہل مغرب سے مستعار  لیا گیا خواتین کو با اختیار بنانے کا یہ فارمولہ آپ کو کسی نئی مصیبت میں مبتلا کردے ،سلمان صاحب! یہ آبگینے ہیں ذرا سنبھال کے ۔  اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران اپنے ساتھیوں سے فرمایا تھا ‘اے انجشہ ! دھیرے ، یہ آبگینے ہیں’ ۔ ورنہ پھر واپسی کی کوئی صورت نہ بچے گی  ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *