امت مسلمہ کی اطلاعاتی حسرت اور ابلاغی غربت ؛ اصل مسئلہ وسائل کی قلت کا نہیں ترجیحات کے درست تعین کا ہے !

تحریر اشرف علی بستوی کی ہے

Asia Times Desk

گزشتہ دنوں ’’عالمی میڈیا پر کنٹرول کس کا؟‘‘ کے عنوان پر ایک سروے پر نظر پڑی ۔ جس میں دنیا بھر میں میڈیا پر براہ راست کنٹرول کرنے والی کمپنیوں اور ان کے مالکان کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں پیش کیے گئے اعدادو شمار چونکانے والےاور سبق آموز ہیں ۔

رپورٹ میں کہاگیاہے کہ عالمی میڈیا کے 90 فیصد حصے پر اس وقت  6 یہودی کمپنیاں قابض ہیں جس میں خبررساں ادارے، اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، بین الاقوامی سطح کے جرائد کی ملکیت یہودیوں کے پاس ہے اور یہ ادارے دنیا بھر کو مواد فراہم کراتے ہیں۔

اس  سروے  سے بہت پہلےآج سے کوئی  چار سال قبل  روس کے سابق صدر میخا ئیل گورباچوف نے امریکہ افغانستان  جنگ کے دوران کہا تھا کہ  افغانستان پر امریکہ کی فتح ناممکن ہے  انہوں نے یہ  بات  اپنے ایک طویل مضمون میں درج کیا تھا  اور یہ انہوں نے  یوں ہی نہیں کہا تھا بلکہ   افغانستان جنگ   میں ان کی شکشت   خوردگی کے تجربات تھے  ۔

دراصل  امت مسلمہ کے پاس  جو اطلاع  تھی اگر وہ امریکہ کے پاس ہوتی تو اس سے ابتک پانچ سو گھنٹے کی ٹیلی نیوزبرآمد ہوتیں اس کے حوالے سے دوہزار چھوٹے بڑے مذاکرے نشر ہو چکے ہوتے ممتازشخصیات کے ایک ہزار انٹر ویو نشر ہوکر ناظرین کے حافظے کا حصہ بن چکے ہوتے ،چھوٹی بری دو سو دستاویزی فلمیں تخلیق ہوچکی ہوتیں ،ہالی وڈ میں پانچ چھ بڑی بجٹ کی فلموں پر کام جاری ہوتا ۔

لیکن امت مسلمہ کے پاس اطلاع کیا ہے ؟وہ  اطلاع یہ   ہے  کہ افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی  اور فلسطین میں  حماس  کے ہاتھوں  اسرائیل  کی شکست  فاش  ایک تاریخ ساز اطلاع تھی۔

یاد کیجیے کبھی امریکہ کے پاس ایسی ہی تاریخ ساز اطلاع تھی ،امریکہ کو معلوم ہوگیا تھا کہ افغان مجاہدین نے سویت یو نین کو شکشت دے دی ہے  صرف اس ایک  اطلاع پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے خبروں ،تبصروں ،تجزیوں، انٹرویوز ،دستا ویزی اور فیچر فلموں کے کارخانے نہیں  بلکہ ملیں لگا لی تھیں ابلاغ اسی  عمل کا نام ہے ۔

امت مسلمہ کے کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کے پاس تاریخ ساز اطلاعات ہیں لیکن اس سے کچھ اور کیا ایک اخبار کی شہ سرخی بھی نہیں بن پا رہی ہے ۔یہ ہماری اطلاعاتی حسرت اور ابلاغی غربت کی انتہا ہے اس دائرے میں پوری امت مسلمہ بلاشبہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں تو ٹھیک طرح سے اپنی خوشی منانی بھی نہیں آتی ۔

آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟  بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ وسائل کی قلت ہے لیکن اصل مسئلہ وسائل کی قلت کا نہیں ترجیحات کے درست تعین  کا ہے مسلم معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو مساجد اور مدارس کی تعمیر کے لیے آپکو کروڑوں روپئے دے سکتے ہیں لیکن اگر آپ ان سے یہ کہیں کہ ایک ٹیلی ویزن چینل شروع کرنا ہے تو وہ اس منصوبے کے لیے آپ کو  دس رپئے بھی نہیں دینے والے  کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ  یہ  کوئی دینی کام نہیں ہے ان کا ایسا سمجھنے کی ایک وجہ ٹیلی وزن کا ایک عام تصور ہے ٹیلی وزن کو عام طور پر فسخ و فجور کا آلہ سمجھا جاتا ہے ۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رائے سازی کی جنگ میں ٹیلی وزن سب سے بڑے ذریعے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ،جس کا انکار  ممکن نہیں ہے کروڑوں لوگوں کے لیے جو کچھ ٹیلی وزن اسکرین پر ہے وہی حقیقت ہے اور جو کچھ ٹیلی ویزن پر نہیں ہے اس کا یا تو وجود نہیں ہے یا تو اس کی اہمت نہیں ہے ٹیلی ویزن کی یہ اہمیت افسوس ناک لیکن امر واقعہ یہی ہے ۔

الجزیرہ ٹیلی ویزن کو ہی لے لیں  کہ مشرق وسطیٰ بادشاہوں اور آمروں کی سرزمین ہے وہاں سیاسی رائے تخلیق کرنا اور عرب عوام کو بیدار اور متحرک کرنا آسان نہیں تھا ، لیکن الجزیرہ نے یہ کام کر دکھایا  ۔جس کے  مناظر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں ، کیا آپ کو اندازہ ہے کہ الجزیرہ نے یہ کام کس طرح انجام دیا ؟  

فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی تفصیلات دکھا کر اس نے صرف اسرائیل کہ بم باری اور حملے ہی رپورٹ نہیں کیے بلکہ اس نے ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی صورت حال  کی دشواریوں کو بھی رپورٹ کی اور یہ بتایا کہ  جس گھرانے کے لوگ شہید ہوئے اس گھرانے پر کیا گزری ،وہاں کس طرح گریہ وزاری کی گئی اس گھر کی معاش کا کیا ہو ا بچوں کی تعلیم کا کیا ہوا ۔

یہ تفصیلات ہمیشہ سے موجود تھیں لیکن کبھی رپورٹ نہیں ہوئیں تھیں الجزیرہ نے انہیں رپورٹ کرکے اسرائیل ہی نہیں امریکہ کے خلاف بھی عرب دنیا میں زبردست ردعمل پیدا  کر دیا ۔

دراصل اگر ہم اطلاعاتی حسرت اور ابلاغی غربت کے مارے ہوئے نہ ہوتے تو امریکہ کی شکشت کا کامل ابلاغ امت مسلمہ کی نفسیات کو کچھ سے کچھ بنا سکتا تھا ۔امت مسلمہ مغرب کے حوالے سے احساس کمتری میں مبتلا ہے اس کو  لگتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے جو کچھ ہے مغرب کے پاس ہے لیکن جو امت بیس برس میں دو سپر پاور کو شکشت سے دو چار کر دے وہ معمولی امت تو نہیں ہو سکتی لیکن یہ اطلاع امت مسلمہ تک کیسے پہونچے جبکہ  مسلم دنیا کے  دولت مند حکمرانوں  کے پاس یہودیوں سے دس گنا زیادہ دولت ہے.

 لیکن  ویزن سے محروم  یہ دولت مند حکمراں اپنا سارا سرمایہ فضولیات پر صرف کرنے ،ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں زورآزمائی کررہےہیں۔ سب سے اونچا کلاک ٹاور، مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ہوٹل سعودی عرب میں ہے، سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ دوبئی میں ہے اور یہیں پر سب سے بڑا سات کلومیٹر لمبا شاپنگ مال بھی تعمیر ہورہا ہے۔ گویا غیرضروری چیزوں پر دولت کی بربادی ہورہی ہے۔  

 اگر کسی ملک کےترقی  یافتہ ہونے کی  سند  سب سے  اونچی عمارت  بنانا  ہی  ہوتی تو  آج امریکہ اور اسرائیل کے پاس   برج خلیفہ   جیسی  دسیوں  عالی شان عمارتیں  موجود ہوتیں ۔  انہیں اس طرح  کے منصوبوں میں  کوئی دلچسپی کیوں نہیں ہے  ۔ یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے  ۔  ہندوستانی میڈیا کا طرزعمل بھی ہمارے سامنے ہے۔  اقلیتوں  دلتوں اور کمزور طبقات   کے مسائل  سے صرف نظر  کرنا یہاں   کی میڈیا  کا معمول  بن گیا ہے ۔

 دنیا بھر میں  خبروں کے مواد کی فراہمی کا واحد ذریعہ یہودی ادارے ہیں اور ہم اُن سے یہ امید لگاتے ہیں کہ حقائق پر مبنی خبریں اور تجزیے ہم تک پہنچائیں، ایسا سوچنا کارعبث کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو لوگ رات دن یہودی سازش کی رٹ لگاتے ہیں،  آخر انھیں ہوش کب آئے گا۔ مخالفین تو عملی اقدامات کرنے میں اپنی توانائی لگارہے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے والے محض یہودی سازش کے الفاظ دہرائے جارہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *