مسلمانوں کی اپنی پارٹی کی بات آتے ہی فوراً یہ سوال داغ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ مذہب کی بنیاد پر متحد ہوں گے تو ہندو بھی پولرائز ہوں گے

امام الدین علیگ

Asia Times Desk

مسلمانوں کی اپنی پارٹی کی بات آتے ہی فوراً یہ سوال داغ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ مذہب کی بنیاد پر متحد ہوں گے تو ہندو بھی پولرائز ہوں گے ، اس کا کیا کریں گے؟ سوال جائز ہے لیکن اس سوال سے نتیجے پر پہنچنا مکمل طور پر غلط ہے

پہلی بات یہ کہ آپ کے سیاسی طور پر متحد ہونے سے ہندو بھی یکجٹ ہو جائیں، ایسا ضروری نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں پہلے سے کئی بڑی اور مستحکم پارٹیاں موجود ہیں جو کسی بھی قیمت پر اپنا وجود ختم نہیں ہونے دیں گی۔ لیکن مسلمانوں کے پاس کوئی بڑی مستحکم پارٹی نہیں ہے اور آپ کے پاس اس خلا کو پُر کرنے کا موقع ہے۔
دوسری بات یہ کہ مظلومی اور محرومی کی حقیقی بنیاد پر متحد ہونا آسان ہے۔ یہ بنیاد آپ کے پاس ہے ان کے پاس نہیں۔
تیسری بات یہ کہ بڑی یونٹ کے مقابلے، چھوٹی یونٹ کا متحد ہونا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ آبادی کی بڑی یونٹ کا طویل وقت تک متحد رہ پانا ناممکن ہے۔ جب کہ چھوٹی یونٹ کے لیے یہ ممکن ہے۔
چوتھی بات یہ کہ اگر آپ کے ردعمل میں ہندو اکثریت متحد ہو بھی جائے گی تو بھی یہ مسلمانوں کے لیے گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا، کیوں کہ دونوں طرف مذہبی بنیاد پر ووٹوں کا ارتکاز ہونے کی صورت میں کم از کم آپ اپوزیشن میں تو ہوں گے ۔ جب کہ اس وقت آپ کہیں بھی نہیں ہیں۔
آخری اور اہم بات یہ ہے کہ اپنی پارٹی بنانے اور مذہبی بنیاد پر سیاست کرنے میں بہت فرق ہے۔ بہتر ہوگا کہ مسلمان، برہمن، دلت اور یادو کی طرز پر خود کو ایک کمیونٹی سمجھیں اور کمیونٹی کی بنیاد پر اپنی سیاسی قیادت قائم کریں/مضبوط کریں۔ سرگرم سیاست آپ کا آئینی حق ہے، اس حق سے دستبردار ہونا بڑی غلطی ہے۔ آپ سے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ اپنی پارٹی اور اپنی قیادت کھڑی کریں مگر مذہب پر مبنی سیاست سے دور رہیں، بلکہ انکلوزیو سیاست کریں۔ اسی مقصد کے تحت یہ نعرہ دیا گیا ہے :
*اپنی قیادت اپنے ہاتھ* 
*سب کی ترقی سب کا ساتھ*

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *