حج بیت اللہ اور عمرے میں سعی کا ذکر آئے تو مسلمانوں کے ذہنوں میں فورا دو چھوٹی پہاڑیوں “صفا” اور “مروہ” کا نام آتا ہے۔ یہ مسجد حرام کی مشرقی سمت واقع ہیں اور ان کے درمیان تقریبا 395 میٹر کا فاصلہ پایا جاتا ہے۔

خانہ کعبہ سے صفا کا فصلہ 130 میٹر ہے اور صفا سے ہی حج اور عمرے میں سعی کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ سیرت کی کتابوں کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں پیغمبرِ اسلام نے قریش کو دین کی دعوت دی تھی۔ المروہ پہاڑی سفید رنگ کے پتھروں پر مشتمل ہے جن کو المرو کا نام دیا جاتا ہے۔

سیدہ ہاجر اور اسماعیل مکّہ کے ریگستان میں

مؤرخین کا اس بات پر اتّفاق ہے کہ صفا اور مروہ کی کہانی تقریبا پانچ ہزار برس پرانی ہے۔ یہ مقام اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ سیّدہ ہاجر (اسماعیل علیہ السلام کی والدہ) کی جدّوجہد کی یاد دلاتا ہے جو اُنہوں نے اپنے بیٹے کی خاطر کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے سیّدہ ہاجر اور ننھے اسماعیل کو کھانے پینے کی کچھ چیزوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کے ریگستان میں چھوڑ دیا تھا جہاں کسی قسم کی کاشت اور پانی کا وجود نہ تھا۔

کچھ وقت کے بعد ماں بیٹے کے پاس موجود اشیاء ختم ہو گئیں۔ پیاس سے بلبلاتے ننھے اسماعیل کی چیخیں سیدہ ہاجر کا کلیجہ چیر دیتی تھیں۔ اس پر وہ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئیں کہ شاید اپنے اور اپنے بیٹے کو بھوک اور پیاس سے بچانے کے لیے کچھ مل جائے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ہاجر وہاں سے اُتریں اور پھر مروہ کی پہاڑی پر چڑھ دوڑیں۔ اسی طرح سات مرتبہ ہو گیا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔

جبريل عليہ السلام اور آبِ زمزم

جب وہ تھک کر چُور ہو گئیں تو اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے زمین پر اپنا پَر مارا تو وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں کے نزدیک پانی نمودار ہو گیا۔ سیدہ ہاجر نے اللہ کی حمد و ثناء کی اور پھر شکر ادا کیا۔ انہوں نے خود بھی پانی پیا اور ننھے اساعیل کو بھی سیراب کیا۔ سیدہ ہاجر نے فرمایا “زمَّ الماء، زمَّ الماء” یعنی پانی جاری ہو گیا ، پانی جاری ہو گیا۔ یُوں اس چشمے کا نام “زمزم” پڑ گیا۔

اللہ رب العزت نے صفا اور مروہ کے درمیان سیدہ ہاجر کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے عمرے اور حج کا رکن بنا دیا۔

قریش ، اساف اور نائلہ

قریش قبیلے نے “اساف” نامی بُت کو صفا کی پہاڑی پر جب کہ “نائلہ” نامی بُت کو مروہ پر رکھا ہوا تھا۔ قریشی صفا اور مروہ کے گرد چکر لگاتے تھے اور “اساف اور نائلہ” بُتوں سے برکت حاصل کیا کرتے تھے۔ جب سن نو ہجری میں انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تشریف لائے تو انہوں نے صفا اور مروہ کا چکر لگانے کو ناپسند کیا۔ اس لیے کہ یہ اسلام سے قبل قریش کا عمل تھا۔

اس پر قرآن کریم کی سورت البقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی :

“إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما”.

قصیّ بن كلاب اور دار الندوہ

قصیّ بن کلاب اسلام سے قبل قریش کا مشہور ترین اور ایک بڑا قبیلہ تھا۔ انہوں نے اسلام سے قبل سب سے پہلے خانہ کعبہ کے گرد مکانات تعمیر کیے تھے۔ اس دوران صفا اور مروہ کے بیچ بھی گھر بنائے گئے۔ اس سلسلے میں شمالی سمت “دار الندوہ” قائم کیا گیا جو قبیلے کے شیوخ اور عمائدین کے اجلاس کی جگہ بن گیا اور یہاں بیٹھ کر وہ اپنے امور چلایا کرتے تھے۔

تاریخی ذرائع کے مطابق گزرے وقت کے دوران ضفا اور مروہ کی پہاڑیوں کو ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ تاریخی ذرائع اس کا پتہ نہیں دیتے کہ صفا اور مروہ کے درمیان سے پتھروں کو کس نے ہٹایا۔ اس لیے کہ سعی کا مقام ہموار نہیں تھا بلکہ یہ ایک پیچ دار وادی تھی۔

عبد الملک بن مروان اور شريفِ مکّہ حسين

اسلامی تاریخ کے خلفاء اور امراء نے سعی کے مقام پر خصوصی توجہ دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں سعی کے مقام کی توسیع کا آغاز ہوا۔ اموی خلیفہ عبدالملک المروان کے زمانے میں صفا اور مردہ کے درمیان قندیلوں کا اضافہ کیا گیا۔

بعض مؤرخین کے مطابق عباسی خلیفہ ابو عبداللہ محمد المہدی نے مسجد نبوی کی عظیم توسیع انجام دی اور مکہ مکرمہ میں سعی کے مقام پر پہلی مرتبہ زمین کو ہموار کیا۔

سال 1335 ہجری میں صفا اور مروہ کے درمیان راستے کو پختہ کیا گیا ، اس سے قبل یہاں صرف ریت ہوا کرتی تھی۔ شریفِ مکّہ حُسین نے سعی کے مقام پر چھت ڈالی۔

سعودی عرب کی مملکت کے قیام کے بعد سعی کے مقام کو غیر مسبوق صورت میں ترقی دی گئی۔ ملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1345 ہجری میں سعی کے مقام پر پتھر نصب کرائے اور اس کے علاوہ 350 میٹر لمبی اور 20 میٹر چوڑی چھت بھی تعمیر کی گئی۔

مملکت کے بانی کے بعد سے آج تک حرمین شریفین کی عظیم توسیع اور تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران سعی کے مقام کو بھی وہ ترقّی حاصل ہوئی جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔