’’آخر وہ فاتح کیوں تھا؟ اور اسے یہ کامیابی کیوں کر ملی؟ اس کی کامیابی کا راز کیا تھا؟

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

Asia Times Desk

مسلمانوں کی ناکامی، خصوصا ہندوستان کے تناظر میں اگر میں بات کروں، تو اس کی ایک وجہ قیادت میں نوجوانوں کا بحران بھی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے نوجوانوں کو اس کے لیے تیار کرتے ہیں، بلکہ باصلاحیت نوجوانوں کی ہمت افزائی اور ان کی قابلیت کی قدر کرتے ہوئے انھیں مناسب جگہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ جس کی واضح مثال کینیڈا کے 43 سالہ جسٹن تروڈ، اسٹونیا کے اڑتیس سالہ جوری ریٹس، یونان کے 40 سالہ الیکسس تسپارس، تیونس کے چالیس سالہ یوسف چاہد یا اسی طرح نارتھ کوریا کے تیس سالہ کم جان یون وغیرہ ہیں۔

ان ممالک کے وزرائے اعظم اور دیگر اہم انتظامی امور کو بہ طرز احسن چلانے والی یہ مثالیں ہمارے سامنے موجود ہے جو نوجوانوں کے ذمہ ہے۔

میں نے یہاں پر بس یونھی سامنے کی چند مثالیں دی ہیں، ورنہ دیگر بہت سے رفاہی و سماجی کام انجام دینے والوں کی لاکھوں نظیریں موجود ہیں۔ ان کے یہاں باضابطہ طور پر لیڈر شپ بلڈنگ کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں؛ انھیں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ خود کو قیادت کا اہل کیسے بنائیں، جو اپنی قوم اور کمیونٹی کی ترجمانی احسن انداز میں انجام دیں اور جب وہ اس کے لیے تیار ہو کر میدان عمل میں آتے ہیں، تو نہ صرف قوم ان کی بات کو مانتی ہے، بلکہ ان کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں کنہیا کمار، ہاردک پٹیل، راہول گاندھی، اکھیلیش یادو جیسے کئی نام ہیں، جن کے پیچھے ایک جم غفیر ہے۔ ان کی مانتی، سنتی اور ان کے لیے جیتی ہے۔

ماضی میں بھی ہمیں ایسی بہت ساری مثالیں محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان، صلاح الدین ایوبی وغیرہ کی شکل میں دیکھنے کو ملتی ہیں، جنھوں نے دنیا پر نہ صرف راج کیا، بلکہ اپنی فتح مندی اور کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ یہ لوگ اتنے کامیاب رہے۔ اس سلسلے میں نپولین کی مثال دینا چاہوں گا، جس کے بارے میں معروف قلم کار ایملی لڈوگ نے ایک سوانحی کتاب لکھی ہے۔ اتفاق سے گزشتہ دنوں ان کی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا، تو اس پر کچھ لکھنے کا خیال آیا۔ یہ تحریر اس کا پیش خیمہ ہے۔ ایملی کی تحریر کا اردو ترجمہ ملاحظہ ہو:

’’آخر وہ فاتح کیوں تھا؟ اور اسے یہ کامیابی کیوں کر ملی؟ اس کی کامیابی کا راز کیا تھا؟

پہلی بات تو یہ کہ نوجوانی کا بھر پور جذبہ! اس عمر میں معدہ ہر قسم کی خوراک ہضم کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ بے فکری سے سونا اور فرض کے لیے جاگنا مصمم ارادہ۔ آنکھوں کی روشنی جو کہ اس عمر میں تیز ہوتی ہے۔

یہ عمر انسان میں غیر معمولی تبدیلیاں لانے کی ذمہ دار ہے، لیکن جو کوئی اس سے فائدہ اٹھانا چاہے۔ اس وقت کے نپولین کے مد مقابل جرنیلوں کو دیکھا جائے تو فرق معلوم ہوجائے گا۔ آسٹریا کے محاذ کا کمانڈر’بیلولیو‘ بہتر سال کا ہے۔ فرانسیسی محاذ کا جنرل ستتر سالہ ’کولی‘ ایک خفیہ بیماری میں بھی مبتلا تھا اور جنرل الویزی ساٹھ سال کا تھا اور ساڈینا کا بادشاہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔ جنرل ’وریزر‘ کانوں سے بہرہ تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نپولین پہ جوانی کا وقت مہربان تھا۔ نپولین کا جن جرنیلوں سے معرکا ہوا ان میں سب سے کم عمر بیالیس سالہ برتھر تھا، لیکن وہ اپنے تمام حواس کے ساتھ اچھا عالم بھی تھا اور اپنے کام میں کلی مہارت رکھتا تھا؛ بوربین کے دور میں ایک عرصے تک سارجنٹ کے عہدے پر بھی فائز رہا تھا۔ اس لیے وہ صرف چند ہفتوں میں ہی جنرل کے عہدے پر پہنچ گیا تھا۔
کم عمر لوگ جلد اپنا مقام بنا کر ہیرو بن جاتے ہیں۔

نپولین نے ہمیشہ ان افراد کی ترقی کے لیے سفارشات کیں جو کہ نوجوانی کی عمر میں کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ کم عمر کر نل اس کی فوج میں عام تھے۔ وہ اپنے محاذ کے سپاہیوں کو کبھی دفتری کام پہ نہ لگاتا‘‘۔

اس سلسلے میں عموماً اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمانوں کا جائزہ لیجیے اور ان کی ناکامی کے اسباب پر بھی غور کیجیے تو پتا چلے گا کہ آزادی کے بعد سے انھیں کوئی ڈھنگ کا لیڈر ہی نہیں ملا، اور بوڑھی قیادت نے جو رویہ اختیار کیا، اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ حالیہ دنوں میں مسلم پرسنل لا، بابری مسجد، طلاق بل جیسے مسائل پر جو لے دے ہوئی ہے اور ان تمام مسائل کو حل کرنے میں ہمارے قائدین جس قدر ناکام رہے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *