اقلیتوں کو دوئم درجہ کا شہری بنانے کی مہم؟

نواب اختر

Asia Times Desk

ہندوستان ایک ایسا گلدستہ ہے جہاں پر ہر قسم، رنگ کے پھول ہیں جو اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ اس گلدستے کی آبیاری ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں نے مل کر کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے نظام اورآئین کو تیار کرنے والوں نے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے تمام شہریوں کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنے کی راہ ہموارکی۔ بانیان جمہوری ہندوستان نے آئین کی ترتیب کے وقت مذہبی نظریہ کو اپنے ذہنوں سے دور رکھا تھا اور ان کا نظریہ صرف اورصرف ایک ترقی یافتہ ہندوستان تھا۔ موجودہ وقت میں ہندوستان اقوام عالم میں اپنے کثیر المذاہب جمہوری نظام کے لئے مشہور ہے۔ دنیا بھر کے انسانیت نواز ممالک ہندوستان کی جمہوریت کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ وقت میں ایک فرقہ پرست گروہ کی جانب سے ہمارے ہندوستان کی تاریخ اور روایت کو مٹاکر اپنی تاریخ گڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے وطن عزیزکی خصوصیت کوخطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ایک ایسے بنیاد پرست طبقہ نے سر اٹھایا ہے جس کا مقصد خاص ’ہندو راشٹر‘ ہے اور اسی نظریہ کے تحت اقلیتوں بالخصوص مسلمان اور دلتوں کی زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔ ملک میں نفرت کا بازار گرم ہے، مذہب کے نام پر لوگوں کو پیٹا جارہا ہے، مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے اور انکار کرنے پر بے رحمی کے ساتھ پیٹائی کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں بے قصور شہریوں کی جان چلی جارہی ہے۔ کسی شخص پرشک ہوا کہ وہ چوری کرنے کی غرض سے آیا ہے تو اس کو پکڑ کر تفتیش کی جا رہی ہے اور جب معلوم ہوا کہ ان کے ہتھے چڑھے شخص کا تعلق کسی خاص مذہب سے ہے تو واقعہ کی نوعیت ہی بدل جا رہی ہے۔

مگر ایسا کبھی ممکن نہیں ہے کیونکہ دنیا کی عظیم جمہوریت ہندوستان کے آئین اور دستور نے ہر شہری کوخواہ وہ ہندو ہو یا پھر مسلمان، دلت ہو یا قبائیلی، سکھ ہو یا پھر عیسائی سبھی کے لئے مساوات قائم کیے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ خواہ کتنی ہی کوشش کرلیں اوراقلیتوں کو زک پہنچانے والے فیصلے کریں مگر ہماری عدالتیں انصاف اور انسانیت کی سربلندی کے لئے اپنے وجود کا ثبوت دیتی رہیں گی۔ اس سلسلے میں خود ساختہ ’لوجہاد‘ میں جس طرح فرقہ پرستوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے وہ ایک سبق ہے لیکن یہ لوگ اپنی نفرت انگیزی کا سلسلہ روکنے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ کیا یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ مرکز اور بیشتر ریاستوں میں نام نہاد ’راشٹربھکتوں‘ کی حکومتیں ہیں؟ یا سنگھ پریوار نے 2024 ء تک ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا جو منصوبہ بنایا ہے، اس سمت میں پیشرفت کی جارہی ہے۔

ملک کی وزارت عظمیٰ پر فائزنریندر مودی کی پہلی میعاد میں شروع ہوا ہجومی تشدد کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جس وقت مودی حلف لے رہے تھے، اسی وقت ہجومی تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ ان سب کی موجودگی میں یہی کہا جائے گا کہ ہجومی تشدد کے واقعات ہندوتوا ایجنڈے سے مربوط ہیں۔ شریعت میں مداخلت کے ذریعہ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنا اصل سازش ہے۔

عدالت عظمیٰ نے تین طلاق کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا ہے، جس چیز کا قانونی طور پر وجود نہ ہو، اسے فوجداری جرم کے دائرہ میں شامل کرکے تین سال کی سزا مقرر کرنا کون سی عقلمندی ہے۔ شوہر کو جیل بھیج کر کیسے توقع کی جائے گی کہ وہ شخص اس خاتون کے گزارے کی رقم ادا کرے گا جس کی شکایت پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا۔ طلاق اسلام میں نا پسندیدہ عمل ہے اور اس حق کے استعمال کے لئے کئی پابندیاں ہیں۔ سماجی برائیوں کا خاتمہ صرف قوانین سے ممکن نہیں ہے۔ مسلم خواتین سے ’ہمدردی‘ سے قبل حکومت کو 30 لاکھ سے زائد ان ہندو خواتین کی فکر کرنی چاہیے جن کے شوہروں نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، انہیں طلاق بھی نہیں دی گئی جس سے وہ اپنا نیا گھر بسا سکیں۔

شریعت پر متواتر حملوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن مسلمان قوم اور اس کے رہنما بے حسی کے آخری درجہ میں ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مسلم مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو شریعت کے تحفظ میں ہرگز دلچسپی نہیں ہے انہیں صرف اپنے نام ونمود کی فکرہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ہمارے مذہبی رہنماؤں نے عجیب روش اختیارکرلی ہے جس میں بیشترعدالتی فیصلوں پر وہ تپاک سے بیان جاری کرکے اطمینان کا اظہارکر دیتے ہیں۔ کیا انہیں معلوم ہے کہ ان کا اظہار اطمینان ریکارڈ ہوتا ہے اورمتعلقہ فیصلے میں ان کے’اطمینان‘ کا اہم کردار ہوسکتا ہے۔ اگرغورکیا جائے تو معلوم ہوگا تین طلاق معاملے پر رہنماوں کے اسی’اطمینان‘ کا اہم دخل رہا ہے اورعدالت کا فیصلہ بھی اسی کے پیش نظرآیا ہے اور آنا بھی چاہیے کیونکہ جب مذہبی رہنما ’مطمئن‘ ہوں گے توعدالت کو بھی فیصلہ سنانے میں آسانی ہوگی۔ ملک کے حساس ترین معاملات میں سے ایک بابری مسجد کی شہادت پرعدالت میں سماعت کا سلسلہ جاری ہے توفریقین کواس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں اطمینان کا اظہار کرتے وقت اپنے الفاظ پر سنجیدگی سے غورکریں بصورت دیگر ایسے لوگوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *