الحاج نواب محمد کاظم علی خاں کی سیاسی و سماجی خدمات

Asia Times Desk

 الحاج نواب محمد کاظم علی خاںکی سیاسی و سماجی خدمات وہ سیاست داں جس کیلئے سیاست انسانیت کی خدمت ہے اور عوام کے دکھ درد کا مداواقطب شا ہی سلطنت کے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ نے آج سے تقریبا ساڑھے چار سو سال پہلے محبت کے جذبے کو لافانی بنانے کے لئے ایک تاریخی نشانی چار مینار کے ساتھ ایک خوبصورت شہر حیدرآباد کو آباد کیا تو اسے پوری طرح یقین نہیں ہوگا کہ اس کی دعا کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل ہوگا اور یہ شہر ایک انسانی سرور کا سمندر بن جائے گا۔ قطب شاہی خاندان  کے بعد آصف جاہی بادشاہوں نے حکومت کی اور پھر آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ ویسے انگریزوں کی غلامی کے دور سے اسے کبھی گزرنا نہیں پڑا کیوں کہ برطانوی تسلط کے زمانے میں بھی یہاں کے بادشاہ بڑی حد تک خود مختار تھے۔

 

حیدرآباد کی شہرت ماضی میں بھی دنیا کے دوسرے ممالک میں پہنچ چکی تھی اورآج تو کئی ملکوں میں اپنی پہچان بناچکا ہے۔ یہاں کے علماء ، شعراء ، ا دباء ، انجینئروں، ڈاکٹروں اور دوسرے علوم و فنون کے ماہرین نے ہر دور میں اپنی صلاحیتوں کو لوہا منوایا ہے او ر شہرت کی بلندیوں کو فتح کیا ہے۔ اسی شہر میں آزادی کے سورج کی پہلی کرن سے پہلے ایک نیک اور شریف گھرانے میں نواب محمد کاظم علی خاں نے جنم لیا اورپھرخداوند تعالی کی مہربانی اور نبی آخر الزماں محمد مصطفی کے صدقے اور ان کی زندگی ماضی کے اعلی اوصاف حال کی عملی جد وجہد اور مستقبل کی روشن امید کی کھلی کتاب بن گئی۔ ان کے والد محمد جعفر علی خان تھے۔ دادا الحاج محمد فاروق علی خاں حیدرآباد کے اعزازی مجسٹریٹ تھے۔ ننیہال سے ان کا سلسلہ نواب داراب جنگ بہادر و نواب انتظام جنگ جو حیدرآباد دکن کے امیر امرائوں میں سے تھے اور حضرت جعفر تیار سے ملتا ہے۔ آپ ان کے آل و اولاد میں پیدا ہوئے۔ اس طرح وہ نجیب الطرفین ہیں۔

سیاست میں آج ایسے لوگ کم ہی ملیں گے جو روشن خاندانی اور تہذیبی روایات کے باوصف اس دشت کی سیاحی میں نکل پڑے ہیں۔ سیاسی میدان میں جو کل تک خلوص، محبت، رواداری، دوستی اور انسانیت سے عبارت تھا لیکن ا ٓج خود غرضی، نفرت، فرقہ پرستی، او اقتدار کی ہوس کا دہکتا الائو بن گیا ہے لیکن آپ نواب محمد کاظم علی خاں سے ملاقات کریں گے تو آپ کو سیاست کی حدت اور گرمی نہیں ملے گی بلکہ خلوص کی خوشبو محبت کی محویت اوردوستی کے درد کااحساس ہوگا جودوست کو گلے لگانے کے علاوہ اجنبی کو بھی اپنا لیتا ہے۔

آپ نے 2006 سے 2017 تک 12حج کئے اور 2006 اور 2014 میں حج اکبر کی سعادت حاصل کی۔عوام کاازدہام: ان سے ملنے کے لئیلوگوں کا اڑدہام رہتا ہے.

آپ ہر  ایک سے ملتے ہیں، خندہ پیشانی اور مسکراہٹ کے ساتھ پارٹی کے عہدیداروں اور عام ارکان کو نصیحت کرتے اور ہدایت دیتے ہیں۔ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے نمائندے انٹرویو لیتے ہیں، مختلف ٹرسٹوں کے تحت کام کرنے والے اداروں کے کارکن جیسے ٹیلرنگ مراکز کی خواتین، خانگی اور زمینوں کے تنازعات میں قانونی مشورے حاصل کرنے والے یہ لوگ مشورے کا معاوضہ نہیں دیتے بلکہ بعض وقت وکیل کی فیس بھی انہیں یہاں سے مل جاتی ہے۔دینی و مذہبی وابستگی: بزرگان دین کے آستانوں پر حاضری دینے میں انہیں جتنی روحانی مسرت ہوتی ہے اس کا اندازہ صرف وہ کرسکتے ہیں۔وہ حضرت عبدالقدیر حسرت قبلہ کے مرید ہیں او ر ہر درگاہ سے عقیدت رکھتے ہیں۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرتے ہوئے یہ یقین کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی نجات کے راستے کو کشادہ کررہا ہے۔ اللہ نے دیا ہے تو وہ دوسروں کی حاجات کو پورا کرکے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ دوسروں کے درد کواپنا درد سمجھ کر اس وقت تک چین نہیں لیتیجب تک کہ اس درد کی دوا نہیں ڈھونڈ لیتے۔

امیر مینائی نے کہاتھا

 خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر          سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

الحاج نواب محمدکاظم علی خاں اس کی زندہ مثال ہیں۔نئی نسل کا ماڈل لیڈر: آج کے دور میںجب سیاسی لیڈرس خود غرضی، بے ایمانی، جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کی تصویر بنے ہوئے ہیں نواب محمد کاظم علی خاں جنگ آزادی کے قائدین کا عکس ہیں جن کے سامنے ایک ہی مقصد تھا کہ ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرایا جائے اوران کے لئے انہوں نے اپنی ہر عزیز ترین چیز کی قربانی دی۔ان کی فہرست بہت طویل ہے ، مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، راجندرپرساد، بھگت سنگھ،  اشفاق اللہ خاں سے لے کر حسرت موہانی اورلال بہادرشاشتری تک۔ ان عظیم قائدین کے کسی نہ کسی وصف کی جھلک آپ نواب محمد کاظم علی خان میں پائیں گے۔اس کی وجہ ان کی خاندانی شرافت، انسانیت کاجذبہ، اسلامی اور دینی تعلیم ہے جوان کے کردار کی اساس ہیں۔وہ آج کے نئی نسل کے لئے ایک ماڈل لیڈر ہیں، امبیڈکرنیشنل کانگریس کا قیام بھی اسی مقصد سے کیاگیا ہے کہ سیاست کو تمام برائیوں سے ا ٓزاد کیا جاسکے اور قوم کی خدمت کے جذبے کو بیدار کیا جائے۔ اس سیاسی جماعت میں جو شخص بھی یا دوسری جماعت کا جو قائد بھی شریک ہوتا ہے اس کے سماجی مرتبہ کو بعد میں دیکھا جاتا ہے بلکہ اس کے کردار اور جذبہ خدمت کو اپہلے رکھا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے کہاتھا۔ یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںآپ کی زندگی اقبال کے اس شعر کی ترجمانی ہے۔ ہم یہاں مختصر اً ان کے سیاسی اور سماجی کارنامے بیان کرتے ہیں۔ جمہوریت میں عام آدمی ہی بادشاہ ہوتا ہے لیکن حکومت بنتی ہے سیاسی جماعتوں کے ذریعہ،

آپ نے ایک عام کارکن کی حیثیت سے 1969میںکانگریس کیلئے کام کرنا شروع کیا۔ کام کرنے کی لگن، جد وجہد اور خلوص کودیکھ کر آپ کو پارٹی کی اہم ذمہ داریاں دی گئیں اورآپ نے ان ذمہ داریوں کو ایسی تہذیبی اور سیاسی انہماک سے نبھایا کہ جلد ہی نہ صرف ریاستی قائدین بلکہ مرکز کے بہت سے اعلی قائدین بھی آپ کے نام اور کام سے واقف ہوگئے۔آپ کو جو بھی ذمہ داری دی جاتی تھی وہ بحسن و خوبی انجام دیتے تھے اس لئے نہ صرف  اعلی قائدین بلکہ وزراء  اور چیف منسٹرس کے لئے آپ کی شخصیت ایک با اعتماد نوجوان ابھرتے قائد کی حیثیت سے جانی پہچانی جانے لگی۔

انہوں نے ایسے سیاسی اور سماجی سدھار کے کام ا نجام دیئے کہ اعلی کمان کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ آپ کو جن قائدین کی سرپرستی ملی اورجن کے تحت کام کرنے کا موقع ملا ان میں سے چند ہیںشریمتی اندراگاندھی، راجیو گاندھی، بابوجگ جیون رام، ایچ ایل بھگت، بہوگنا، دیوراج ارس، جناردھن ریڈی، وجے بھاسکرریڈی اورپی وی نرسمہارائو، جے وینگل رائو کے دور میں وہ ان قائدین میں ایک تھے جن پر چیف منسٹر پورا پورا بھروسہ کرتے تھے۔ وینگل رائو پارٹی کے اکثر معاملوں میں ان سے مشاورت کرتیتھے اوران کی رائے کواہمیت دیا کرتے تھے۔چیف منسٹر ان کی معاملہ فہمی پارٹی کے لئے ان کے ایثار و قربانی اور سیاسی سوجھ بوجھ کے قائل تھے۔ سینئر قائدین بھی چیف منسٹر سے ان کی قربت کی وجہ سے ان کالحاظ کرتیتھے۔ 1980 میں اندرااسٹیچوکمیٹی اور 1985میںراجیوگاندھی کی Birthdayتقاریب میں ان کی سرگرمیوں کو ہر کسی نے سراہا۔ سینئر اور اعلی قائدین ان کے کام کو جتنی قدر کی نظر سے دیکھتے تھے وہیں ان کے ساتھ اورجونیئر بھی ان کے برتائو اور میل ملاپ کے قائل تھے۔ٹریڈ یونین سرگرمی: 1976 میں فلم آرٹسٹس یونین کی صدارت کی اور فلم اور آرٹسٹوں کے حقوق کے لئے جد وجہد کی۔ 1980میںآپ نے اے پی فلم آرٹسٹس فیڈریشن اور سنے جونیئر آرٹسٹس یونین کی ذمہ داریوں کو ا ن آرگنائزیشن کے صدر کی حیثیت سے بحسن خوبی انجام دیا۔

انہوں نے جونیئرآرٹسٹوں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا بلکہ پروڈیوسروں کو مجبور کیا کہ ان کا پورا پورا معاوضہ وقت پرادا کریں۔ ناانصافی کیخلاف اٹھانا جناب محمد کاظم علی خان کی فطرث ثانیہ ہے۔ وہ اس بات کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرتے کہ کوئی غاصب کسی بے بس یا مجبور کے حقوق چھین لے یا اس کی مجبوری کااستحصال کرے۔ کئی جونیئر آرٹسٹ جو بعد میں فلموں کے ہیرو بنے آج تک ان کو اپنا محسن مانتے ہیں۔ 1984میںاے پی مائنارٹیز فرنٹ قائم کیا جس کے ذریعہ اقلیتوں کے مسائل کی پرزور نمائندگی کی جاتی رہی۔ کانگریس سے علیحدگی:کسی جماعت کو زندگی کا حصہ سمجھ کر کام کرنا اور خون پسینہ دے کر دن رات کام کرنے کے بعدایک اٹوٹ وابستگی پیدا ہوجاتی ہے لیکن بعض وقت حالات اس موڑ پر آجاتے ہیں کہ سینہ پر پتھر رکھ کر اس وابستگی کو خدا حافظ کرنا پڑتا ہے۔ 6?دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے حادثے نے مسلمانوں پر قیامت ڈھادی۔ کانگریس کے وزیراعظم پی وی نرسمہارائو کی تغافل شعاری نے جس کی وجہ سے تاریخی مسجد شہید ہوئی مسلمانوں کا دل توڑ دیا۔

جناب محمد کاظم علی خاں صاحب نے جن مسلمانوں کو کانگریس کے قریب لایا تھا انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ کانگریس کو چھوڑدیں۔کانگریس اپنی غلطی پرنادم ہوگئی تھی لیکن مسلمانوں نے اس معافی کو رد کردیا۔ جناب محمد کاظم علی خاں کانگریس کو چھوڑنا چاہ رہے تھے لیکن ان کے سامنے کوئی واضح نشان راہ نہیں تھا۔ کوئی ایسی سیاسی پارٹی نہیں تھی جو عوام کی سچی ہمدرد ہو۔اقلیتوں، دلتوں، پچھڑے ہوئے لوگوں اور غریبوں کا مداوانہ تلگودیشم کے پاس تھا اور نہ ہی بائیں بازو کی جماعتوں کے پاس،اس مخمصے میں پانچ سال گزر گئے، پھرجناب محمد کاظم علی خاں نے ایک بڑافیصلہ لیا۔امبیڈکرنیشنل کانگریس کاقیام: یہ فیصلہ بہت بڑا تھا لیکن جناب محمد کاظم علی خان کہتے ہیں کہ انہیں اللہ اوراس کے رسول پر بھروسہ تھا کہ انہیں غیبی مدد ملے گی کیوں کہ اس فیصلے میں ان کا ذاتی مفاد نہیں تھا، عزت ، شہرت اور دولت کو دخل حاصل نہیں تھا۔ وہ ا للہ کی ان نعمتوں سے پہلے ہی سرفراز تھے۔ وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے تھے، بلاتخصیص مذہب اوربلاتفریق ذات پات، ا قلیتوں، دلتوں، پچھڑے ہوئے طبقات کو جمہوری طاقت عطا کرنا چاہتے تھے، ان کی تعلیمی و معاشی پستی دور کرنا چاہتے تھے۔ غریبوں اورامیروں کے درمیان جو معاشی خلیج ہے اسے پاٹنا چاہتے تھے۔

اس نصب العین کو سامنے رکھ کر انہوں نے دستور کی تدوین میں کلیدی رول اداکرنے وا لے قائد اور دلتوں کے مسیحا بابا صاحب ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کے نام پر ’’امبیڈکرنیشنل کانگریس‘‘ بنائی اوراسے کل ہند پیمانے پر الیکشن کمیشن میںرجسٹرڈ کروایا۔رجسٹریشن کے لئے 1998 میں درخواست دی گئی۔ الیکشن کمیشن نے اسے علاقائی جماعت کی حیثیت سیتسلیم کرنا چاہتا تھا لیکن جناب محمد کاظم علی خان خود کو ریاست کی حد تک محدود کرنا نہیں چاہتے تھے۔ان کے ذہن میں وہ ہندوستان تھا جو سارے جہاں سے اچھا ہے لیکن غربت کے پنجے میں پھنسا ہوا ہے جہاں بے روزگاری کا چکر ہے اور بدعنوانی اور رشوت کا جال ہے جہاں مزدور اور کسان بدحال و پریشان ہیں اور صنعت کاروں کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔اور اب ارب پتیو ں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔وہ اس سیاسی نظام کو بدلنا چاہتے تھے جو معاشی حالت میں برابری کاذمہ دار ہے۔

ا ن کی پارٹی مہاتما گاندھی، جگ جیون رام، ابوالکلام آزاد اوربی آر امبیڈکر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرناچاہتی تھی۔ تب الحاج نواب محمد کاظم علی خاں نے ایک درخواست ہائی کورٹ آندھراپردیش کی معزز عدالت العالیہ میں پارٹی کے رجسٹریشن کیلئے ا لیکشن کمیشن کے خلاف دائر کردی۔معزز عدالت عالیہ نے بموجب مقدمہ نمبر 25938/2001مورخہ 29جنوری 2002 کو فیصلہ صادر کیا۔ یہ تاریخی فیصلہ آندھرا لاٹائمس(ALT)اورآندھرا قانونی فیصلے (ALD)کے 2002 کے شمارے میں شامل کیا گیا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک خط کے ذریعہ مطلع کیا کہ امبیڈکرنیشنل کانگریس کے رجسٹریشن کے سلسلے میں سماعت، الیکشن کمیشن کے آفس نئی دہلی میں مورخہ 4اپریل 2002 کو مقرر ہے اورکہا کہ تمام دستاویزات کے ساتھ حاضر رہیں۔الحاج نواب محمد کاظم علی خاں کے استدلال کو سننے کے بعد اسی تاریخ 4اپریل 2002 کو ہماری پارٹی امبیڈکرنیشنل کانگریس کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے رجسٹریشن کیا گیا اورالیکشن کمیشن آف انڈیا نے تمام  اسٹیٹ الیکشن آفیسرس کو اس کی اطلاع بہم پہنچائی اور تمام ریاستی الیکشن کمیشن نے خط کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ امبیڈکرنیشنل کانگریس کے امیدوار آئندہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔اس طرح انہیں کل ہند اساس پر ’’امبیڈکرنیشنل کانگریس‘‘ بنانے کی اجازت ملی۔

پارٹی ایسی معاشی پالیسی کے حق میں ہے جو ملک کی صنعتی ترقی کی ضامن ہو، امیری غریبی کے تفاوت کو دور کرے، کسانوں کو ان کی پیداوار کا پورا پورا معاوضہ ملے، ان کے کھیتوں کو وافر پانی ملے اور بینک قرض آسان شرح سود پر حاصل ہو۔ ہربچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو اورتعلیم کے نام پر تجارت نہ ہو۔ عوام کی صحت کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہو۔ الیکشن اصلاحات ا یسی ہوں کہ پیسہ اور طاقت سے عوام کی رائے کو متاثر نہ کیا جائے، مجرموں کے لئے اسمبلی و پارلیمنٹ کے دروازے مکمل طور پر بند ہوں۔ انصاف کے لئے لوگوں کو برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ سیاسی و انتظامیہ کی بد عنوانی پر پوری طرح روک لگے، دہشت گردی اور فرقہ پرستی کو آہنی پنجہ سے کچل دیا جائے۔میڈیا آزاد ہولیکن آزاد ی کاغیر دستوری فائدہ نہ اٹھائے۔

ا یک طاقتور اور ترقی یافتہ ملک اورایک خوش حال معاشرے کی تشکیل اس پارٹی کا عین مقصد ہے۔12ریاستوں میں کام کررہی ہے: یہ پارٹی اس وقت 12 ریاستوں میں کام کررہی ہے اورکشمیر سے کنیا کماری تک پھیلی ہوئی ہے۔ اتنے کم عرصے میں لوگ جوق درجوق اس پارٹی میں شریک ہورہے ہیں اوراس پارٹی کی حیثیت کیڈر بیسڈ پارٹی کی ہوگئی ہے جوانتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے، لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے رفتار میں تیزی نہیں آئی ہے۔

سماجی بھلائی کے لئے ٹرسٹوں کا قیام:  جناب محمد کاظم علی خاں نے سماجی بھلائی کے لئے پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف ٹرسٹیں قائم کئے ہیں۔(۱)لارڈ گوتم بدھاجی اینڈ لارڈ بی آر امبیڈکر جی ٹرسٹ 2007 ا?ندھراپردیش میں قیام،(۲)شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر ٹرسٹ 2011 آندھرا پردیش میں قیام، (۳)حضرت شہید ٹیپو سلطان ٹرسٹ، 2011 آندھراپردیش میں قیام،(۴) آل انڈیا وقف پروٹیکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی (۵) وائس آف ا مبیڈکر تیلگو روزنامہ (تیلگو و ہندی) (۶) بی آر امبیڈکر اینڈ نواب محمد کاظم علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ (کرناٹک) (۷) یونائٹیڈجرنلسٹس ٹرسٹ: 2011 ا?ندھرا پردیش میں قیام (۸)امبیڈکرنیشنل کانگریس میڈیا سینٹر 2017 ،للتا پارک لکشمی نگر، دہلی میں قیام (۹)سائوتھ انڈیا اسمال اینڈ میڈیم نیوز پیپرس ایسوسی ایشن: 1985 آندھرا پردیش میں قیام ہے(۰۱) محمد کاظم علی خان اقلیتی ایجوکیشن ٹرسٹ (۱۱) نواب جعفر علی خان ٹرسٹ۔

ان کے علاوہ بھی جناب محمد کاظم علی خان کئی علمی ،ادبی اور مذہبی اداروں کا تعاون کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اقلیتوں اور دلتوں کا اتحاد سب سے بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے اوردہلی کے ایوان اقتدار کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ مہاتما گاندھی کاخواب پورا ہوسکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی آرزوبرآسکتی ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر کی منزل مل سکتی ہے۔ ملک کے شاندار خوش حال مستقبل کے لئے امبیڈکر نیشنل کانگریس سے جڑجائیے، ہمارے ساتھ آپ کا دست تعاون ملک کے لئے دست مسیحا ثابت ہوگا۔ پارٹی جماعت سے وابستہ ہونے والوں کا استقبال کرتی ہے۔

Advertorial

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *