اسٹاپ فنڈنگ ہیٹ کی رپورٹ کو نظر انداز کرنا بڑی غلطی

اشرف علی بستوی   

Asia Times Desk

گزشتہ ایک ہفتے سے ہندوستان کے سنجیدہ سماجی ،سیاسی ، مذہبی اور علمی حلقوں کے درمیان میں امریکہ کی خفیہ ایجینسی سی آئی اے کی ایک رپورٹ موضوع بحث ہے ، رپورٹ میں آر ایس ایس کی ذیلی ہندوتوا وادی تنظیم وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو شدت پسند تنظیم بتایا گیا ہے ۔ لیکن ہندوستانی میڈیا کو اس خبرمیں بجث کا کوئی خاص پہلو نہیں نظر نہیں آیا ۔ ہندوستان پر آئی آیس آئی ایس کی فرضی دھمکیوں کی بے بنیاد غیر مصدقہ خبروں پر گھنٹوں تبصرہ کرنے والے چینلوں کے اینکر خاموش ہیں ، حتیٰ کہ خود کو سیکولر قرار دینے والے لیڈر بھی نپے تلے الفاظ میں تبصرہ کرتے دیکھے گئے ۔

سی آئی اے کی رپورٹ

ٹرمپ کی تصویر کو مٹھائی کھلانے والے اب سی آئی اے پرہوئے  برہم

کل تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کی خوشی میں پوجا کرنے والے اور ان کے یوم پیدائش پر ان کی تصویر کو مٹھائی کھلانے والے گروپ ٹرمپ پر برہم ہیں ۔ آر ایس ایس  کے ترجمان  پروفیسر راکیش سنہاآپے سے باہر نظر آئے انہوں نے بڑے ہی سخت لہجے میں کہا کہ ” کیا ہم ہندوستانی افراد سی آئی اے جیسی، تباہ کن اور سازشی تنظیم سے سرٹیفکیٹ لینے جا رہے ہیں؟ کیا ہم سب نے نہیں دیکھا کہ امریکہ اپنے قیام سے ہی ویتنام اور دنیا کے دیگر حصوں میں کیا کر رہا ہے ؟

راکیش سنہا کا ٹویٹ

امریکہ اپنے یہاں سے باہر کے قوم پرستوں سے نفرت کرتا ہے” ۔  مسٹر سنہا کی اظہار برہمی فطری ہے اور بڑی حد تک جائز بھی کیونکہ اس رپورٹ سے ان کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے جو انہوں نے ٹرمپ سے باندھ لی تھیں ۔ ٹرمپ کی الیکشنی مہم کے دوران انہیں ٹرمپ کا اسلام اور مسلم مخالف چہرہ کافی پسند آرہا تھا اسی لیے دوران الیکشن امریکہ میں مقیم ہندوتوا کے حامی گروپوں نے ٹرمپ کی تشہیر میں دامے درمے قدمے سخنے  بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔

یہ ایک طویل بحث ہے

سی آئی اے کی اس رپورٹ میں آر ایس ایس کو قوم پرست  تنظیم کہا گیا ہے ، قوم پرست اور حب الوطن یہ دو الگ اسطلاح ہیں جو اس وقت  باہم دست و گریباں ہیں ، آزادی کے بعد سے 90 کی دہائی تک لفظ حب الوطنی کا غلبہ رہا لیکن بابری مسجد گرانے کی تحریک کی کوکھ سے اندھی قوم پرستی نے جنم لیا اور اب شدت سے اس بات کو پیش کیا جانے لگا ہے کہ حب الوطنی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ قوم پرستی کے چادر نہ اوڑھے۔ یہ ایک طویل بحث ہے ۔

فرنٹ لائن  کی چشم کشا رپورٹ

فرنٹ لائن کی رپورٹ

بات تین الگ الگ رپورٹوں کی ، سی آئی اے،این آئی اے اورایس ایف ایچ کی ۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سی آئی اے کا یہ اعلان ہمارے علم میں کوئی اضافہ تو نہیں کرتا البتہ اس اطلاع کی تصدیق کرتا ہے جو اس اعلان سے بہت پہلے لگ بھگ دو دہائی قبل انگریزی جریدہ  فرنٹ لائن نے اپنے  شمارے 7 تا 20 دسمبر 2002 میں ہی دے دی تھی ۔ فرنٹ لائن کی رپورٹ میں بہت تفصیل سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کس طرح امریکہ میں سرگرم ادارہ انڈیا ڈیولپمینٹ اینڈ ریلیف فنڈ IDRF نے گجرات میں آئے 2001 کے زلزلے کے متاثرین کی بازآباد کاری کے نام پرکروڑوں کی رقم جمع کی اور اسے ہندوستان میں ہندوتوادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہندوتو وادی تنظیموں کو پہونچایا تھا،  جس میں آر ایس ایس اور اس کی ذ یلی سبھی تنظیمیں شامل ہیں لگ بھگ 4 ملین ڈالر کی خطیررقم یہاں بھیجی گئی تھی ۔ رپورٹ میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ امریکہ واقع تنظیم IDRF  امریکہ کی کارپوریٹ دنیا سے رقم وصول کرتی ہے اور اسے ہندوستان کی ہندو قدامت پسند تنظیموں کو فراہم کراتی ہے ۔

اسٹاپ فندنگ ہیٹ کی رپورٹ کو نظر انداز کردیا گیا

2002 میں امریکہ میں مقیم ہندوتووادیوں کی اس سازش کو بے نقاب کرنے کا کام سی آئی اے یا اور کسی خفیہ ایجینسی نے نہیں کیا تھا بلکہ طلبا ، صاف ذہن نوکری پیشہ افراد ، دانشوران اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کے گروپ اسٹاپ فندنگ ہیٹ SFH نے کیا تھا ۔  رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ IDRF کی کل رقم کا  83 فیصد آر ایس ایس ، وشو ہندو پریشد کو جاتی ہے اور 8 فیصد دیگر ہندو مذہبی تنظیموں کو صرف 2 فیصد رقم سیکولر تنظیموں کو دی جاتی ہے ۔

 فرنٹ لائن کی یہ رپورٹ 2002 میں آئی تھی تب ملک میں بی جے پی حکومت تھی ، لیکن حیرت کی بات ہے کہ بعد میں برس اقتدار آنے والی یوپی اے کی سیکولر حکومت جو دس برس تک رہی اس نے بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ بلکہ یوپی اے اپنے آخری دورمیں ہندو تووادیوں پر کا روائی کرنے کے معاملے میں حد درجہ کنفیوزن کا شکار رہی مالے گاوں، سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ ، موڈاسا ، گوا دھماکہ ، مکہ مسجد بلاسٹ اور تاج ہوٹل سانحہ سب 2006 تا 2011 انجام دیا گیا اور ابتدائی تفتیش میں ہندو شدت پسند انہی گروپوں کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی تھی ، خود وزیر داخلہ نے بھگوا دہشت گردی کا نام لیکر مخاطب کیا تھا ۔

ہندو این جی اوز کو نگرانی سے الگ رکھا گیا

ہندو این جی اورز کو الگ رکھا گیا

 ہیمنت کر کرے کی تفتیش نے  سب کچھ سامنے لاکر رکھ دیا تھا لیکن پھر بھی کانگریس نے کچھ  نہیں کیا ۔ بلکہ اسی دور میں  2012 میں این آئی اے  نے ایک ایف آئی آر درج کرایا کہ ملک میں سرگرم اقلیتی طبقے کی این جی اوز غیر ملکی چندہ حاصل کرتی ہیں انہیں وہ رفاہی کاموں میں خرچ کرنے کی بجائے  یہ رقم ملک میں دہشت گردی کے فروغ میں خرچ کرتی ہیں ۔ اس کے تحت مسلم ،سکھ ، عیسائی ، بودھ کے اعداد وشمار نکالے گئے کہ کس گروپ کو کتنا غیر ملکی چندہ ملتا ہے ، لیکن ہندو این جی اوز کو اس نگرانی سے الگ رکھا گیا ، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قابل ترین سیکوریٹی ایجینسیوں کے پاس ہندو این جی اوز کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی رپورٹ  نہیں تھیں آئی ڈی آر ایف کے بارے  میں متذکرہ بالا رپورٹ تو 2002 میں ہی منظر عام پر آچکی تھی اور 2008 میں ہیمنت کر کرے کی تفتیش سے ملک میں دہشت گردانہ سر گرمیوں کا رخ بھی ظاہر ہو گیا تھا تو پھر کیا وجہ رہی کہ ہندو این جی اوز کو نگرانی کے دائرے میں نہیں لایا گیا اسے یو پی اے کی تجاہل عارفانہ پر مبنی کمزور پالیسی کا نتیجہ کہا جائے یا اور کوئی نام دیا جائے ۔

ماسٹر مائنڈ رمیش شاہ کی گرفتاری سی آئی اے کی رپورٹ کی تصدیق کرتی ہے

ٹیر ر ماستر رمیش شاہ

وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنما وں کی اظہار برہمی اور کٹھ ہجتی سے پردہ اٹھانے والی  اور سی آئی اے کی رپورٹ کی تصدیق کرنے والی اسی ہفتے ایک اور رپورٹ سامنے آئی ہے   19 جون کو خبر آئی کہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے میں رقم فراہمی کا ماسٹر مائنڈ رمیش شاہ گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ شخص گورکھپور ٹیرر فنڈنگ معاملے میں مطلوب تھا ،اس سلسلے میں 24 مارچ کو یو پی اے ٹی ایس نے 6 لوگوں کو گرفتار کیا تھا ، شاہ کی گرفتاری کی کارروائی یوپی اور مہاراشٹر اے ٹی ایس کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

اگر یہی کوئی ‘کریم شاہ’ ہوتا توکیا میڈیا خاموش رہتا ؟

 شاہ کے سیاہ کارناموں کی جو تفصیلات آئی ہیں وہ تشویش ناک ہیں لیکن گرفتاری کی پہلی خبر دینے کے بعد سے ملک کا دیش بھکت میڈیا ٹولہ پوری طرح خاموش ہے ، اس بارے میں مزید تفصیلی رپورٹ میں کسی نے کوئی دل چسپی نہیں لی۔ جبکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ملک کی داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ  ہے ۔ سکیوریٹی ایجنسیوں کی ناقص اطلاعات کی بنیاد پر ملزم کو مجرم کہہ کر پکارنے والے چینل اس اطلاع پر خاموش ہیں یہ خبر بھی تو انہی ایجینسیوں کی کامیابی کی ایک داستان بیان کرنے والی ہے میڈیا کو رمیش شاہ کی گرفتاری میں دلچسپی کیوں نہیں اگر یہی کوئی ‘کریم شاہ’ ہوتا توکیا میڈیا خاموش رہتا ؟

یہ پہلا معاملہ نہیں ہے؛ مدھیہ پردیش بی جے پی آئی ٹی سیل کے کنوینردھرو سکسینہ

دھررو سکسینا کی گرفتاری

یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں  بھوپال۔ مدھیہ پردیش بی جے پی کی آئی ٹی سیل کے کنوینردھرو سکسینہ سمیت گیارہ ہندو ایجنٹوں کی گرفتاری پر بی جے پی اور میڈیا کی خاموشی حیرت زدہ کرنے والی رہی . پکڑے گئے تمام گیارہ ہندو آئی ایس آئی ایجنٹ مدھیہ پردیش کے رہنے والے تھے جہاں گذشتہ تقریبا بارہ سال سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت ہے۔  اس کے باوجود ریاست کے ہندو نوجوان آئی ایس آئی کے لئے کام کرتے رہے لیکن مدھیہ پردیش حکومت کو اس کی کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔ یہ حرکت کچھ فرقہ پرست طاقتیں پولیس کی ملی بھگت سے دہلی اور گجرات سمیت ملک کے کئی حصوں میں کرتی آئی ہیں۔ ماضی میں وقفے وقفے سے کئی ایسے  واقعات سامنے آئے ہیں ایسی سرکاری رپورٹیں  بھی عام کی گئیں تھیں جن میں زعفرانی دہشت گردی کی نشان دہی کی گئی تھی ، لیکن ایک سیاسی طبقہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ قوم پرست کہہ کر ان کے سیاہ کارناموں کا دفاع کرتا رہا ہے ۔

سابق داخلہ سیکریٹری آر کے سنگھ (جو اب بی جے پی کے رکن پارلیامینٹ ہیں ) نے عام کی تھی دس  بھگوا دہشت گردوں کی فہرست

آر کے سنگھ سابق داخلہ سیکریٹری

بھگوا دہشت گردی ‘ کے مسئلے پر مضبوط ثبوت  پیش کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے  2013 میں بھگوا دہشت گردوں کی 23 جنوری  کو ایک فہرست جاری کی تھی ۔ دہشت گردی کے معاملات کی چھان بین کرنے والی  قومی جانچ ایجینسی این آئی اے  کی طرف سے جاری کی گئی ایک فہرست میں ایسے 10 لوگوں کے نام شامل تھے جو ہندو نظریاتی تنظیموں سے منسلک  بتائے گئے تھے ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان سابق مرکزی داخلہ سیکریٹری آر کےسنگھ  جو اب بی جے پی کے رکن پارلیامینٹ ہیں نے  23 جنوری  کو2013کیا تھا اوربڑی  ذمہ داری سے کہا تھا کہ یہ فہرست پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ فہرست ملاحظہ فرمائیں  ، سنیل جوشی ۔آر ایس ایس کا سرگرم کارکن . 90 کی دہائی سے لے کر 2003 تک مدھیہ پردیش کے مهو اور دیواس میں سرگرم تھا . سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ اور اجمیر شریف کی درگاہ پر ہوئے دھماکوں کے ملزمان کی فہرست میں شامل۔  سندیپ ڈانگے ، یہ شخص ہندو نظریاتی تنظم آر ایس ایس کا پرچارک ہے  اور 90 کی دہائی سے 2006 تک مہو ، اندور، اترکاشی اور ساجھاپر میں سرگرم تھا، اس پر  سمجھوتہ ایکسپریس ، مکہ مسجد اور اجمیر بم دھماکوں کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے. لوکیش شرما ، آر ایس ایس کی سٹی یونٹ کا قائم مقام پرچارک ہے  دیوگڑھ کا رہنے والا ہے  سمجھوتہ ایکسپریس سا نحہ اور مکہ مسجد بلاسٹ معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا. سوامی اسیمانند 90 کی دہائی سے 2007 تک گجرات کے ڈانگ واقع آر ایس ایس کی برانچ ونواسی بہبود کونسل سے وابستہ رہا  سمجھوتہ ایكسپریس ، مکہ مسجد اور اجمیر بم دھماکوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اب بری کر دیا گیا . راجندر ، آر ایس ایس کا پرچارک. سمجھوتہ ایکسپریس اور مکہ مسجد دھماکے کے سلسلے میں گرفتار ہے. مکیش واساني ، گجرات ریاست کے گودھرا میں آر ایس ایس کا کارکن رہا. اجمیر دھماکے میں شامل ہونے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے. دیوندر گپتا ، مهو اور اندور میں آر ایس ایس کا پرچارک ر ہا اجمیر دھماکے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے. چندرشیکھر لیوے،  2007 میں شاہ جہاں پور میں آر ایس ایس کے پرچارک رہا. مکہ مسجد بلاسٹ میں شامل ہونے کے لئے گرفتار کیا جا چکا ہے. کمل چوہان ، آر ایس ایس کا پرچارک . سمجھوتہ ایکسپریس ، مکہ مسجد اور اجمیر بم دھماکوں کی سازش میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے. رام جی كالسگر، ا آر ایس ایس کا رکن . سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ اور مکہ مسجد بلاسٹ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ فی الحال فرار ۔ جولوگ سی آئی اے کی رپورٹ کو فرضی بتاکر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں انہیں یہ بات سمجھنا چاہئے کہ متذکرہ بالا سبھی دس ناموں کی فہرست خود ار کے سنگھ  نے داخلہ سیکریٹری کے عہدے پررہتے ہوئے جاری کی تھی ۔ اور اب وہ خود ان کے ساتھ ہیں ۔ کیا اتنے ثبوٹ کسی گروپ کی سرگرمیوں کو جانچنے کے لیے ناکافی ہیں ؟ امریکہ سے آنے والی یہ رپورٹ دیر سے آنے والی ایک درست رپورٹ کہی جا سکتی ہے جسے ایس ایف ایچ نے سی آئی اے سے لگ بھگ دو دہائی قبل ہی سامنے لا دیا تھا لیکن دنیا کی آنکھ  نہیں کھلی اب بھی وقت ہے کہ ایسے شدت پسندوں پر لگام دی جائے ، لیکن یہ کام کون کرے گا ؟

منصفی کی توقع کس سے کی جائے؟

سوال یہ ہے کہ 2002 میں ایس ایف ایچ کی رپورٹ کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا ۔ منصفی کی توقع کس سے کی جائے؟ کیا اس سے جس نے ابھی اسی ہفتے اسرائیل کی دہشت گردی کی حمایت میں خود کو سکیوریٹی کونسل سے الگ کر لیا ۔ یا ان سے جو شدت پسندی پر مبنی اپنے ہر جارحانہ عمل کو قومی مفاد بتاتے ہیں ۔ دونوں کا رویہ ایک جیسا ہی ہے ۔ اس کا حل عام ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں ہے جس کا موقع 2019 کا عام انتخاب فراہم کرائے گا ایک بار پھر گیند عوام کے ہاتھ میں ہوگی ۔ عوام کو طے کرنا ہے کہ وہ ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں یا آئین مخالف سرگرمیاں انجام دینے والوں کے ہاتھوں کو مظبوط کریں گے ۔

ashrafbastavi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *