کوئی مرض لا علاج نہیں

زبـــــــــــیر سعیدی العمری

Asia Times Desk

اس لنک کے ساتھ تین اسکرین شاٹ بھی ہیں، ان کو دیکھیں نہ دیکھیں، کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، لیکن

آج جب ایک معروف صحافی نے میرے میسنجر پر اس لنک کو ارسال کیا تو جواباً میں نے صرف ‘ہاہاہاہاہا’ لکھ کر بات ختم کرنی چاہی، پھر ان کا جواب آیا کہ کیا ان کا علاج ممکن ہے؟ میں نے بھی کہہ دیا ‘کوئی مرض لا علاج نہیں’
تو پھر انہوں نے کہہ دیا: ‘تو کریں علاج’

ویسے آج سوچ رہا تھا کہ جمعہ اور شبِ قدر کی فضیلت پر کچھ لکھوں، لیکن ایک چیلنج کی شکل میں یہ موضوع مل گیا، چونکہ جوش میں کہہ دیا تھا کہ لاعلاج کچھ نہیں تو ذمہ داری تو نبھانی ہی پڑے گی

سچ تو یہ ہے کہ اس مرض کا علاج، کوئی علاج نہیں یا یکسر نظر اندازی ہے، میں بھی خاموشی اختیار کرنا چاہ رہا تھا… مگر اچانک ایک واقعہ یاد آگیا جو کبھی بخاری میں پڑھا تھا، حدیث کا متن یوں ہے، سن لیں

قال أبو سعيد فلم يزل الناس على ذلك حتى خرجت مع مروان وهو أمير المدينة في أضحى أو فطر،‏‏‏‏ فلما أتينا المصلى إذا منبر بناه كثير بن الصلت،‏‏‏‏ فإذا مروان يريد أن يرتقيه قبل أن يصلي،‏‏‏‏ فجبذت بثوبه فجبذني فارتفع،‏‏‏‏ فخطب قبل الصلاة،‏‏‏‏ فقلت له غيرتم والله‏.‏ فقال أبا سعيد،‏‏‏‏ قد ذهب ما تعلم‏.‏ فقلت ما أعلم والله خير مما لا أعلم‏.‏ فقال إن الناس لم يكونوا يجلسون لنا بعد الصلاة فجعلتها قبل الصلاة‏ (صحیح البخاری)
مفہوم یہ ہے:
حضرت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے۔ سب سے پہلے نماز پڑھتے، پھر خطبے کے لئے منبر پر تشریف لے جاتے۔ لوگ اسی طریقے پر قائم رہے، یہاں تک کہ میں مدینہ کے حاکم مروان کے ساتھ نماز عید الفطر کی ادائیگی کے لئے عیدگاہ پہنچا۔ وہاں دیکھا کہ ایک منبر ہے، جسے کثیر بن صلت نے بنایا ہے اور مروان نے چاہا کہ وہ منبر پر چڑھے تو میں نے اس کا کپڑا پکڑ کر اسے کھینچ لیا اور کہا ’’یہ سنت کے خلاف ہے‘‘ (بخاری شریف)
یعنی جب مروان نے نماز عید الفطر سے پہلے خطبہ دینے کی بدعت ایجاد کرنی چاہی تو حضرت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے حاکم وقت کی اس خلاف سنت حرکت پر سخت گرفت فرمائی اور اس کا کپڑا پکڑ کر منبر سے اترنے کو کہا۔

http://www.darulifta-deoband.com/home/qa_ur/Deviant-Sects/4

قارئین! اہل صولت و سطوت کے رتبے اور اثر و رسوخ سے خائف ہوئے بغیر احقاقِ حق و ابطالِ باطل کے لئے بے باکی، جرأت مندی اور حق گوئی سے کام لینا مؤمن کا طرۂ امتیاز ہے

جب ہمارے اسلاف بلاخوف و خطر اس اصول پر سختی سے عمل پیرا رہے، حکومتوں کا جبر و استبداد، بادشاہوں کا جاہ و جلال، توپوں کی گھن گرج، جیل کی آہنی سلاخیں، قید و بند کی صعوبتیں، مخالفین کی غصب و پابندیاں، معاندین کی عیاریاں، بدطینت لوگوں کی مکاریاں، جلاد کی تیغ زیاں اور تختۂ دار کی ہولناکیاں بھی انھیں کلمۂ حق ادا کرنے سے باز نہ رکھ سکیں تو ہم کیوں اتنا ڈرتے ہیں

یہ باتیں ضمنی تھیں
اصل موضوع فتاوی کی فیکٹری کا وہ پروڈکشن ہے جو خالص نفرت کی فضا برپا کرنے کے لئے ہے
مجھے نہیں پتہ کہ آخر اتنے منظم انداز میں یہ اس قسم کی نفرت کو کیسے فروغ دے پاتے ہیں
خوف خدا سے عاری ہیں یا وہاں بھی ان کا کوئی ایجنٹ بیٹھا ہے جو رسی دراز کردیتا ہے

 ایک بات جو کافی اہم لگی، ویب سائٹ نہایت خوبصورتی سے بنائی گئی ہے، ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں اور عین ممکن ہے کہ بڑی خطیر رقم بھی بطور معاوضہ ادا کی گئی ہو
مجھے اس قسم کے افراد بہت اچھے لگتے ہیں جو اتنا منظم کام کرتے ہیں، ورنہ ہماری جماعتیں تو غیر منظم لوگوں کا مجموعہ ہیں، دراصل یہی لوگ امت کا اصل سرمایہ ہیں، بشرطیکہ ان کو صحیح راستے پر چلنے پر راضی کرلیا جائے، پھر ان کے پوٹینشیل کا دنیا فائدہ اٹھا سکتی ہے، مجھے قوی امید ہے کہ ایک دنیا ایسا ہوگا اور سب ملک صرف محبت پھیلانے کے اصل مشن پر لگ جائیں گے

واضح رہے کہ اس قسم کے نفرت والے فتوے ایک معاشرتی برائی کی طرح ہوتے ہیں اور معاشرتی برائیوں کی روک تھام کے لئے صرف زبانی دعوے یا ان خرابیوں پر افسوس کا اظہار کافی نہیں ہوتا، بلکہ ہمیں شرعی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عملی اقدامات کرنا چاہئے اور ایسے پُرعزم کام وہی شخص انجام دے سکتا ہے، جو حساس ہو۔
مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لئے آج کے اس پر فتن دور میں امت مسلمہ بالخصوص نوجوانان ملت کا حساس ہونا بے حد ضروری ہے
میں نے اپنے حصے کا دیا جلا دیا ہے اور
آج بقیہ رات کے حصے میں رب سے یہ دعا بھی کروں گا کہ الہ العالمین ہمارے نوجوانوں کو حساس بنا اور نفرت پھیلانے والے افراد کو صراط مستقیم دکھا، ان کے ہنر کو امت کے لئے کارآمد بنا
آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *