آپ ایک اور نیند لے لیجئے -قافلہ کب کا کوچ کرگیا

نور اللہ جاوید

Asia Times Desk

دو تہائی یورپ کو فتح کرنے والا فرنچ آرمی چیف نپولین بونا پارٹ سے کسی نے پوچھا کہ”کوئی بری قوم، اچھی قوم کیسے بن سکتی ہے؟۔“اس کے جواب میں نپولین نے تین باتیں کہیں۔پہلی بات یہ کہ’صرف اچھی مائیں ہی اچھی قوم بناسکتی ہیں، اور جس قوم کی مائیں اچھی نہیں ہوتیں وہ قوم کبھی بھی اچھی نہیں بن سکتی ہے‘،دوسری بات اس نے یہ کہی کہ ایک اخبار میں ہزار تلواروں سے زیادہ طاقت ہوتی ہے چناں چہ اگر تم کسی بری قوم کو اچھا بنانا چاہتے ہو تو اس کے صحافیوں اور اخباروں کو اچھا بنادو،وہ قوم اچھی بن جائے گی،اور آخری بات جو اس نے کہی کہ”اچھے حکمراں بری قوموں کو اچھا بناتے ہیں، اگر بھیڑوں کے ریوڑ کو شیر کی قیادت مل جائے تو تو وہ ریوڑ کو کو لشکر بنادیتا ہے اور اگرشیروں کی قیادت بھیڑ کو دے دی جائے تو وہ شیروں کو گھاس کھانے پر مجبور کردیتی ہے۔اور جو قوم اپنے لیے اچھے لیڈر منتخب نہیں کرتی وہ قوم کبھی بھی اچھی نہیں بن سکتی ہے“۔ 18جون 1815 میں واٹر لو کی مقام پر شکست سے دو چار ہونے والا نپولین کی شخصیت اور اس کی سپہ گری کی صلاحیت پر کلام کئی زایوں سے کیا جاسکتا ہے، تاہم اس نے ’اچھی اور بری قوم‘کا جو فرق بیان کیا ہے۔اس آئینے میں ہمیں ہرقوم کو اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہے کہ ہم بری قوم ہیں یا پھر اچھی قوم؟ یہ سوالات آج میں اس لیے کھڑا کررہا ہوں کہ میرے سامنے ملی الامین کالج اور دیگر اقلیتی اداروں کی خستہ حالی کی خبریں مسلسل گردش کررہی ہیں مگر پورا سماج و معاشرہ اور مسلم قوم بے بسی کی تصویر بنی ہے۔آخر یہ صورت حال کیو ں پیدا ہوئی؟۔جب میں اس پر غور کررہا تھا تو نپولن کی یہ باتیں میرے ذہنوں میں گوجنے لگی کہ اور لگا کہ انہوں نے بری قوم کے جوعلامات بیان کیے ہیں وہ تمام علامتیں ہماری قوم میں پیدا ہوتی جارہی ہیں۔دراصل ’قوموں کے مزاج، قوموں کی ترجیحات،قوموں کی سوچ اور قومی رائے کا اظہار ہمیشہ چھوٹے چھوٹے واقعات سے ہوتے ہیں۔اس وقت کلکتہ شہر میں ملی الامین کالج کو لے کر جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری ترجیحات اور نظریہ اور فکر کی نمائندگی کرتی ہے کہ ہم کتنے تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہیں؟ایسے ا س وقت مغربی بنگال میں کالجوں اور جادو پوریونیورسٹی میں داخلے کو لے کر جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے تعلیمی نظام پر سیاست کے حاوی ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔تاہم ان سب میں ملی الامین کالج کا معاملہ سب سے اس لیے جداگانہ ہے کہ یہ ادارہ تعلیم کے معاملے میں دلتوں سے بچھڑ چکی مسلم طبقے کی بچیوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے قائم کیا گیا تھا۔2009میں نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن سے اقلیتی کردار کا درجہ حاصل کرنے والاگزشتہ 9سالوں سے اپنے حق کی لڑائی لڑرہا ہے۔حکومت کی فائلوں، نوکرشاہوں کی عدم دلچسپی اور سیاسی بے رخی کی وجہ سے انصاف کی منتظر ہے۔یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے تاہم حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمانان کلکتہ کے ذریعہ قائم ہونے والا یہ واحد تعلیمی ادارہ ہے۔مگر اس کالج کے قیام کو دو دہائی مکمل ہونے کو ہے مگراس وقت سے اب تک کالج سیاست کے ہاتھوں کھلواڑ بناہوا ہے؟ اب جب کہ سپریم کورٹ نے بھی اس ادارے کو اقلیتی ادارہ قرار دیا ہے تو بھی حکومت اس فیصلے کو برضائے رغبت تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آرہی ہے۔ ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔گزشتہ دو سالوں سے کالج میں نیا داخلہ نہیں ہورہا ہے۔اس سال شروع بھی ہوا تو اس پر بھی سیاست کا بازار گرم ہے۔ایک فریق داخلے کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ دو درجن طالبات نے بھی داخلے کیلئے فارم نہیں بھرا ہے،ظاہر ہے کہ کوئی بھی والدین اپنے بچیوں کا مستقبل کیوں تاریک کرے۔سوال یہ ہے کہ جس ریاست میں کنیا شری جیسی اسکیم کے ذریعہ لڑکیوں میں تعلیم کو فروغ دیا جارہا ہو، جس اسکیم کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو آخر اس طرح کی اسکیم شروع کرنے والی حکومت مسلم لڑکیوں میں تعلیم کے فروغ میں پہلو تہی کیوں کررہی ہے؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جو حکومت اردو کے سمینار، مشاعرے، قوالی اور غزل جیسے فروعی پروگراموں کیلئے 17کروڑے دے سکتی ہے آخر وہی حکومت اردو کے اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں کو فنڈ دینے میں اپنے ہاتھ تنک کیوں کرلیتی ہے؟۔
ایسا نہیں ہے کہ حکومت کا سوتیلا سلوک صرف ملی الامین کے ساتھ ہے، بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اوبی سی کوٹے کے تحت مسلمانوں کو 10فیصد ریزرویشن کے نام پر بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔دراصل 2013میں ممتابنرجی کی قیادت والی حکومت نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اوبی سی کوٹے کے تحت بنگال کی 80فیصد مسلم آبادی کوملازمت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریزوریشن دینے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے تحت اوبی سی کو دو حصوں اے اور بی گٹیگری بنایا گیا۔اوبی سی اے میں 80فیصد مسلم برادری کو شامل کیا گیا جب کہ ’اوبی سی بی‘ میں زیر زیادہ تر غیر مسلم برادریوں کو شامل کیا گیا۔حکومت کے نوٹی فیکشن کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 22فیصد ایس سی اور 6فیصد ریزر ویشن ایس ٹی کے علاوہ 17فیصدریزرویشن اوبی سی کوٹے کیلئے مختص کیا گیا تھا۔تاہم حکومت کے نوٹی فیکشن میں واضح کیا تھاکہ اوبی سی کوٹے اس کیلئے سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔اس کیلئے حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کو اس کیلئے نوٹی فیکشن جاری کیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس نوٹی فکیشن کا عملی اثر ہوا؟۔کیا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اوبی سی کوٹے کے تحت مسلمانوں کو ریزرویشن کی وجہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مسلم طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے؟۔اگر ان سوالوں کا جواب تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔
مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل ہر سا ل ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ شایع کرتی ہے۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ مغربی بنگال کے تعلیمی اداروں میں مسلم اقلیت طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلم طلباء کی تعداد 2فیصد سے بھی کم ہے۔بالخصوص ریاست کے مشہور و معیاری تعلیمی اداروں جادو پور یونیورسٹی اور 200سالہ قدیم پریڈنسی یونیوسٹی میں مسلم طلباء کی تعداد محض درجنوں میں ہیں؟سابق وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ نے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ملازمت میں اوبی سی کوٹے کے تحت مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا بعد میں ممتا بنرجی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو اوبی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن دینے کا فیصلہ کرکے مسلمانوں کی ترقی کی راہ کھولدی۔مگر یہ سب اعلانات تک محدود تک ہوچکے ہیں؟جہاں تک تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو اوبی سی اے کے تحت ریزرویشن کی بات ہے تو گزشتہ تین سالوں میں اس سلسلے میں کوئی پہل نہیں ہوئی ہے۔کیوں کہ حکومت نے اپنے نوٹی فیکیشن میں کہا تھا کہ ریزرویشن کی سابقہ پالیسی، اصول اور قوانین کو برقرار رکھتے ہوئے اوبی سی کوٹے کے تحت ریزویشن پالیسی کو نافذ کرنے کیلئے سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔مگر ایک بھی یونیورسٹی یا پھر تعلیمی اداروں میں سیٹوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا؟۔
2016کے اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلم اکثریتی علاقوں میں کالج، اسکول اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔مشہور اقلیتی تعلیمی ادارہ عالیہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج اور اس کے برانچ ریاست کے مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔مگردو سا ل گزرچکے ہیں مگر اب تک اس پرکوئی عملی اقدام نہیں ہوا ہے۔مرشدآباد میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح63.2فیصد ہے۔یہاں کے مسلمان معاشی اعتبار سے سب سے زیادہ پسماندگی کے شکار ہیں، بنگلہ دیش کے سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے کئی اور طرح کے مسائل کے شکار ہیں۔ایک طویل عرصے سے مسلم تنظیمیں اس ضلع میں ایک یونیورسٹی کے قیام کیلئے تحریک چلارہی تھی۔اس سال اس تحریک میں شدت بھی آگئی تھی۔چوں کہ مئی میں پنچایت انتخابات ہونے والے تھے چناں چہ وزیر تعلیم نے مارچ میں مرشدآباد میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کردیا۔مگر سوال یہ ہے کہ صرف اعلان کرنے سے کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہیں ہوجاتا ہے۔اس کیلئے پہلے قانونی کارروائی کی جاتی ہے اور اس کے بعد انفراسٹکچر تیار کیا جاتا ہے۔مگر اب تک اسمبلی میں اس کیلئے کوئی بل پیش نہیں کیا گیا اور اگر وزارت تعلیم کی بات مانیں تو اگلے مانسون سیشن میں ا س سلسلے میں کوئی بل پیش کرنے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
یہ حالات بتاتے ہیں کہ حکومت کے ایجنڈے میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہے؟ چناں چہ حکومت اقلیتوں کوغیر ضروری پروگراموں کیلئے کروڑوں روپے دینے کو تیار ہے مگر تعلیم کے نام پر ان کے ہاتھ تنگ ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر ہم تعلیم یافتہ ہوجائیں گے تو ان کا علم بردار کون ہوگا؟ کون ان کے لئے گولیاں کھائے گا اور کون ووٹ بینک بنے گا۔اس لیے ہمیں اجتماعی جہالت میں مبتلا کرنے کی کوشش ہمیشہ سے رہی ہے اور اب بھی یہ جاری ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر حکومت ہمارے مسائل کے تئیں اتنی لاپرواہ کیوں ہے۔در اصل ”اچھی اور بری قوم“ سے متعلق نپولنک
 کی بات کو جو ذکر کیا تھا آپ اس کے آخری دو باتوں پر غور کریں تو وہ صد فیصد ہمارے سماج پر صحیح ثابت ہوتی ہے۔نپولن کے مطابق اچھی قوم بننے کیلئے ضروری ہے کہ اس قوم کے پاس اچھے صحافی اور اچھا اخبار ہو؟ سوال یہ کہ کیا اچھے اخبار ہمارے پاس ہیں؟ آپ نظر دورائیے کیا ملت کی ترجمانی کرنے والے اردو اخبارت واقعی ترجمان ہیں یا پھرترجمانی کے نام دلالی کررہے ہیں؟ملت کی ترجمانی کے زعم میں مبتلا اخبارات کے صفحات سے ہمارے بنیادی مسائل غائب ہیں، مدح سرائی اور چاپلوسی کی خبروں بھری پڑی ہوئی ہیں۔آخری بات جونپولن نے کہی تھی اچھی اور بری قوم بنانے میں لیڈر کا بڑا رو ل ہوتا ہے۔در اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ گرچہ ہم بہادر ہیں مگر ہماری قیادت بھیر کے ہاتھوں جو ہمیں گھاس کھانے پر مجبور کردیا ہے چناں چہ ہمیں تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے؟ حکومت ہمارا حق دینے کو تیار نہیں ہے مگر ایک ہم ہیں اسے خاموشی سے برداشت کیے ہوئے ہیں۔کیوں کہ ہماری قیادت نے ہمیں گھاس کھانے پر مجبور کردیا ہے۔ملی الامین کالج کا معاملہ ہی دیکھ لیجئے کہ حکمراں جماعت میں کئی سینئر مسلم لیڈر ن ہیں مگر کوئی بھی اس معاملے میں وزیر تعلیم اور وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں، بلکہ یہ مسلم لیڈران مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ ملی الامین کا معاملہ سڑکوں پر نہ جائے اس کیلئے ان کی پوری کوشش ہے کہ اس معاملے کوکسی طرح دبادیا جائے۔مسلم لیڈروں کی خوشامدانہ اور مجرمانہ عمل کی وجہ سے آج یہ ادارہ نہ صرف بند ہونے کے قریب ہے بلکہ اس کا نقصان غریب و پسماندگی کے شکار مسلم بچیوں کو ہورہا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ انہیں لیڈر کس نے بنایا اور یہ کن کے ووٹ سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔در اصل معاملہ وہی ہے جو نپولن نے کہا تھا کہ ”جو قوم اپنے لیے اچھے لیڈر منتخب نہیں کرتی وہ قوم کبھی بھی اچھی نہیں بن سکتی ہے“۔ایسا نہیں ہے کہ اس کا ہمیں احساس نہیں ہوگا اور ہماری آنکھیں نہیں کھولیں گی۔پہلے بھی 34سال بعد آنکھ کھولی تھی اور اب بھی کئی دہائی بعد کھلے گی مگر اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوگی۔بقول منیر نیازی ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں، ہرکام کرنے میں“۔اردو کے مشہور باغی شاعر جون ایلیا کا یہ طنز شعر شاید ہمارے لیے کہا گیا تھا کہ”آپ ایک اور نیند لے لیجئے۔۔قافلہ کب کا کوچ کرگیاکب کا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *