ایک دیس ایک چناؤ کی منطق

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

admin

یہ سال الیکشن کا اور لوک سبھا کے سیمی فائنل کا سال مانا جارہا ہے۔ اس میں آٹھ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ویسے لگ بھگ ہر سال ملک میں انتخابات ہوتے ہیں۔ الیکشن سے سرکاری کام کاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کو دس ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ مہاراشٹر، ہریانہ اور جھارکھنڈ میں اسمبلی الیکشن کرائے گئے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد جموں و کشمیر اور دہلی میں الیکشن کے ڈنکے بجائے گئے۔ ان چناؤوں کی تھکان دور بھی نہ ہوئی تھی کہ بہار اسمبلی کے الیکشن کی تیاریاں شروع ہوگئیں، جس کے چار ماہ بعد آسام، تمل ناڈو، مغربی بنگال، کیرل اور پڈوچیری میں الیکشن کا بگل بج گیا۔ پھریوپی، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور جیسی ریاستوں کو الیکشن کی ہنگامہ خیزی سے دوچار ہونا پڑا۔ ابھی گجرات اور ہماچل پردیش کے نتائج پر بات ہورہی تھی کہ نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے میگھالیہ، ناگالینڈ، تریپورہ، کرناٹک، میزورم، راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں انتخابی تیاریاں شروع کردی ہے۔
جمہوریت میں الیکشن اپنے نمائندے کو چننے کا عوامی تہوار ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں الیکشن کمیشن، انتظامیہ، سرکاری عملے کا وقت اور کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ انتخابات کا ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ سرکاری گھاٹا بڑھ جاتا ہے۔ ہر ریاست کو بلدیاتی اداروں،پنچایت، اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات سے پانچ سال کے دوران گزرنا پڑے تو عوام کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ بلاشبہ جمہوریت کی اپنی قیمت ہوتی ہے، لیکن سوال ہے کہ کتنی قیمت ہو؟ سرکاری، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے ذریعہ بڑی رقم خرچ کرنے کے علاوہ بڑی تعداد میں افرادی قوت لگتی ہے۔ اتنا ہی نہیں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ اور آواز کی کثافت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انتہا تب ہوتی ہے جب برسراقتدار پارٹی کہیں نہ کہیں ہونے والے الیکشن کو دیکھتے ہوئے ان ریاستوں میں بھی سخت فیصلے یا ضروری سدھار کے کام نہیں کرتی جہاں انتخاب نہیں ہورہے ہوتے۔ اگر مرکز میں کسی پارٹی کی مضبوط سرکار ہوتی ہے تو اس کا پورا زور الیکشن جیتنے پر ہوتا ہے۔ اس کیلئے وہ سرکاری مشنری کا بھی بھرپور استعمال کرتی ہے۔ ساتھ ہی اپنی مخالف سیاسی جماعت کو کسی طرح آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتی ہے۔

اس صورتحال پر فکر ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے 1983 میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی سفارش کی تھی۔ 1999 میں وزارت قانون نے اپنی 170 ویں رپورٹ میں اسی طرح کی تجویز پر زور دیا تھا۔
آئین بنانے والوں نے لوک سبھا اور ودھان سبھاؤں کے الیکشن ساتھ ساتھ کرانے کا انتظام کیا تھا۔ 1967 تک یہ ایک ساتھ ہوتے تھے۔ اس کا مقصد تھاکہ تین مہینے چناؤ ہوں اور پورے پانچ سال کام۔ لیکن1967 آزاد بھارت کی تاریخ میں ایک اہم پڑاؤ ثابت ہوا جب ملک کی سیاست نے کروٹ لی۔ رام منوہر لوہیا نے غیر کانگریس واد کا نعرہ دیا اور آٹھ ریاستوں میں غیر کانگریسی سرکاریں بن گئیں، جو مختلف سیاسی جماعتوں کی ملی جلی سرکاریں تھیں۔

کئی ٹانگوں پر کھڑی کئی ریاستی سرکاریں وقت سے پہلے گر گئیں۔ ان کے انتخابات 1968 1969-میں کرائے گئے۔ دوسری طرف مسز اندرا گاندھی نے چوتھی لوک سبھا کا الیکشن 1972 کے بجائے 1971 میں کرادیا۔ وقت سے پہلے انتخاب ہونے سے یہ نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس سے جو خلل واقع ہوا وہ لوگوں اور سرکاری مشنری کے وقت وطاقت پر بہت بھاری پڑ رہا ہے۔ اب تک سات بار لوک سبھا کے انتخاب وقت سے پہلے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تین عام الیکشن 1996 سے 1999 کے بیچ ہوئے۔
کانگریس کا 1969 میں بٹوارا ہوا، اندرا گاندھی نے کانگریس دگجوں اور پارٹی پر اپنی بالادستی ثابت کرنے کیلئے 1971 میں لوک سبھا تحلیل کر وسط مدتی الیکشن کرائے،اندرا گاندھی کا جنتا پارٹی کو انہیں کی زبان میں 1980-81 میں جواب دینے کے ساتھ انتخابات کے امکانات کو ختم کردیا۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ 1978 میں جنتا پارٹی کی سرکار کے ذریعہ کانگریس کی ریاستی سرکاروں کو برخاست کرنے اور 1980-81 میں اندرا گاندھی کے ذریعہ جنتا پارٹی کی صوبائی سرکاروں کے ساتھ ویسے ہی عمل سے دونوں انتخابات میں ہم آہنگی لائی جاسکتی تھی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ البتہ اس سیاسی اتھل پتھل سے صوبائی پارٹیاں وجود میں آئیں۔ کئی ریاستوں میں یہ اتنی مضبوط ہوگئیں کہ انہوں نے کسی بھی قومی پارٹی کو وہاں جمنے نہیں دیا۔ ریاستی پارٹیاں چوں کہ قومی پارٹیوں کے رد عمل میں سامنے آئی تھیں اس لئے صوبائی عوام نے ان میں یقین ظاہر کیا۔ ان پارٹیوں نے بھی مقامی مسائل پر خصوصی توجہ دی۔ جس صوبائی پارٹی نے قومی پارٹی بننے یا اس کی راہ پر چلنے کی کوشش کی عوام نے اسے ریاست سے باہر کردیا۔

بی جے پی کی موجودہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے بیک وقت الیکشن کرانے کیلئے کوشاں ہے۔ اس نے 2014 کے اپنے انتخابی منشور میں اس وعدے کو شامل کیا تھا۔ بھاجپا کے اقتدار میںآنے کے بعد اس موضوع پر بحث تیز ہوئی ہے۔ 2015میں پارلیمنٹ کی ایک مستقل کمیٹی نے بھی اس کے حق میں اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خرچ اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔ فروری2016 میں وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس خیال کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی سال ستمبر میں حکومت نے لوگوں سے ان کی رائے مانگی تھی۔ نیتی آیوگ نے مختلف سماجی اداروں، شخصیتوں اور سیاستی جماعتوں کی صلاح کیلئے ایک تفصیلی دستاویز، ’’ایک دیش ایک چناؤ‘‘ کے عنوان سے جاری کیا ہے۔یہ دستاویز بہت سارے اعدادوشمار کے ساتھ بیک وقت الیکشن کے منطق کو مختلف نظریوں سے پیش کرتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی نظام میں مجلس قانون کی کوئی مقرر مدت نہیں ہے، دونوں سطح کے الیکشن کو دو مرحلوں میں منعقد کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلہ 2019 میں سترہویں عام الیکشن کے ساتھ اور دوسرا 2021میں سترہویں لوک سبھا کے وسط میں کچھ اسمبلیوں کی میقات کو گھٹاکر کچھ کی بڑھاکر کیا جاسکتا ہے وغیرہ ۔ اگر حکومت ایک ساتھ الیکشن کرانا چاہتی ہے، تو اس کیلئے آئین کی دفعہ172,85,83اور174 میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ دفعہ83 لوک سبھا اور دفعہ 172 اسمبلی کی میقات پانچ سال مقرر کرتی ہے۔ یعنی اس میں وقت کی زیادہ سے زیادہ مدت تو طے ہے، لیکن میقات کی کم سے کم مدت نہیں ہے۔ اس میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔

سیاسی جماعتوں کی رضامندی کے بغیر آئین میں ترمیم ممکن نہیں۔ موجودہ مرکزی حکومت کا حزب اختلاف کے تئیں رویہ بھی ایسا نہیں ہے کہ اس پر اتفاق رائے بن جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک کچھ اصلاحات آئین میں ترمیم کے بغیر بھی کی جاسکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو حق حاصل ہے کہ مختلف اسمبلیوں کے چھ ماہ میں ہونے والے انتخابات کو آگے پیچھے کرکے ایک ساتھ کردے۔ اس مدت کو بڑھاکر ایک سال کیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخاب ایک ساتھ کرانے کیلئے 24لاکھ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی ضرورت بتائی ہے۔ ابھی امیدواروں کے خرچ کی حد تو مقرر ہے، لیکن سیاسی پارٹیوں کی نہیں۔ ان کی لِمٹ بھی طے ہونی چاہئے۔

بیک وقت الیکشن کے فائدے پر خوب بات ہوئی ہے کہ کام کرنے کیلئے پورا وقت ملے گا، منتخب ہونے وا لے نمائندوں کی ذمہ داری پر جوابدہی ہوسکے گی۔ دل بدل کی لعنت سے قومی سیاست کو چھٹکارا ملے گا، الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی وجہ سے مرکزی حکومت کے کام متاثر نہیں ہوں گے۔ اس کیلئے مختلف ملکوں کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں، لیکن اس کی کمیوں پر بات نہیں ہوپاتی ہے۔ ہمارا ملک ایسا ہے جہاں کسی خاص وقت میں کسی خاص پارٹی کی ہوا ہوئی ہے۔ بیک وقت الیکشن ہونے سے ایک پارٹی کی پورے ملک پر بالادستی قائم ہوجائے گی۔ جو جمہوریت کے حق میں نہیں۔ایک پارٹی کی بالادستی سے جمہوریت کے خاتمہ کی راہ آسان ہوگی۔ اس کا سیدھا اثرصوبائی پارٹیوں پر پڑے گا۔ ملک دویا تین پارٹی کے نظام کی طرف چلاجائے گا۔ ہر پارٹی اپنے حق میں ماحول بننے کیلئے کسی بھی حد سے گزرنے کی کوشش کرے گی۔

اس کا کچھ اندازہ موجودہ ماحول کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے،جہاں ایک طرف اگر بیف ے نام پر لوگوں کاخون بہایاجارہا ہے تودوسری طرف وہی پارٹی ووٹروں کو لبھانے کیلئے بیف پارٹی کر رہی ہے۔ جنوب جوہمیشہ امن پسند رہا ہے، اس پر بھی ایک رنگ چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ابھی بار بار انتخاب ہونے سے مرکزی حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ہوتا ہے اور وہ عوام کیلئے جوابدہ ہوتے ہیں۔ اس کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بار بار الیکشن ہونے سے سرکار ایسے سخت فیصلے نہیں پاتی جس کے دور رس مفید نتائج برآمد ہوں۔ بیک وقت الیکشن ہویا الگ الگ، وہ فیصلہ لیا جائے جو ملک کے مفاد میں ہو۔ جس سے جمہوریت کو طاقت اور عوام کو فائدہ ملے۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *