پروگریسیو یوتھ اویر نیس مشن ‘ ” پیام ” کی جانب سے ‘اقلیتوں میں تعلیمی پسماندگی اور اقلیتی تعلیمی ادارے ‘ کے موضوع پر مذاکرہ

پروگرام کی صدارت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سبودھ نارائن مالاکار نے کی

Ashraf Ali Bastavi

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز)یوم جمہوریہ کے موقع پر پرعزم ، حوصلہ مند ، متحرک اور بااختیار نوجوانوں کی تنظیم ‘ پروگریسیو یوتھ اویر نیس مشن ‘ ” پیام “ کی جانب سے ‘اقلیتوں میں تعلیمی پسماندگی اور اقلیتی تعلیمی ادارے ‘ کے موضوع پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا ۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صر دفتر میں منعقد پروگرام کی صدارت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سبودھ نارائن مالاکار نے کی ۔

اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں سے خطاب کے دوران کہا کہ  ملک کی موجودہ حکومت اقلیتوں کو باہم لڑانے کی کوشش کر رہی ہے، ملک میں ہونے والے واقعات اس کے گواہ ہیں ۔ دلتوں کو آگے لاکر سیاست کی جارہی ہے ، ضرورت اس بات کی ہے ایسے وقت میں سبھی اقلیتیں اپنے حقوق کی لڑائی مل کر لڑیں ۔

اس موقع پر’ پیام ‘ کے جنرل سیکریٹری  شاہنواز بھارتیہ نے اقلیتوں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی ، انہوں سمجھاتے ہوئے کہا کہ آزادی کے ستر برس بعد بھی سبھی سرکاریں مسلمانوں کو سبزی میں گرم مسالے کی طرح استعمال کیا ہے ، گرم مسالے کی ضرورت صرف کھانہ تیار کرتے  وقت تک ہی باقی رہتی ہے اور نوالہ لینے سے قبل اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے ۔

ملک میں بنیادی تعلیم کی صورت حال بے حد خراب ہے اور اقلیتوں کی صورت حال مزید بدتر ہے ۔اب تک کی سبھی حکومتوں نے اپنی ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کی ہے ، تعلیم بنیادی حق ہونے کے باوجود بھی  لوگوں کو میسر نہیں ہے ۔

اگر واقعی حکومتیں ملک کی ہمہ جہت ترقی چاہتی ہیں تو تعلیم کی طرف خاص توجہ دیں تعلیم کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب ادھورا ہے ۔ ہمیں بھی سرکار کی اچھی پالیسیوں کے نفاذ میں اہم کردار نبھانا چاہیے۔

پیام کے قومی صدر نجیب چودھری نے کہا کہ ہمارے سامنے بہت سے مسائل ہیں لیکن ہمیں تعلیم کو ترجیحی بنیاد پر توجہ دینا ہوگا ۔ ہم اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کریں ۔

  پیام کے نائب  صدر نوراللہ خان نے کہا کہ یوم جمہوریہ ہمارے لیے یوم احتساب بھی ہے آج ہی کے دن ہمارا آئین ہمیں ملا جو ہم ہندوستانیوں کے حقوق کا پٹارہ ہے ۔ ہمیں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ احتساب بھی کرنا ہوگا ، کیا کبھی ہم نے سنجیدگی سے غور کیا کہ ہم پچھڑتے کیوں جا رہے ہیں ۔ ہمیں پیام کے بینر سے قوم کو نئی سمت دینے کی کوشش کرنی ہوگی ۔

 پیام ” کے سیکریٹری  نیاز احمد نے ایک ریسرچ پیش کیا، ماجد خان نے کہا کہ ہمیں اپنے دیہی خطوں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ، دیہاتوں میں معیاری اسکول قائم کیے جائیں ، خالد سہیل نے کہا ہماری تنزلی کا باعث ہماری حکومتیں رہی ہیں ، سرکاروں  نے ایسے حالات بنا ڈالے ،

ہمیں ہندو مسلم ایکتا کے لیے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے  کہا کہ پیام ٹیم کے دیگر ساتھی جاوید اشرف ، شفیق رحمٰن، زاہد احسان ، سراج طالب ، سمیع خان ، عبیداللہ سنابلی ، سعید الرحمٰن و عبیداللہ انجینئر نے بھی اپنے خیالات پیش کیے ۔ پروگرام کی نظامت ابرار ندوی نے کی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *