پھول والوں کی سیرسماجی ہم آہنگی کا ایک بے مثا ل تہوار

Asia Times Desk

  نئی دہلی : تیرھویں صدی کے مشہور صوفی قطب الدین بختیار کاکی? کے دہلی کے مہرولی علاقہ میں واقع مزار کے خادم سید فرید الدین قطبی جب درگاہ سے کچھ ہی دوری پرواقع یوگ مایا مندرسے پھول چڑھاکر باہر نکلے تو انہوں نے صرف اتنا کہامندر کا چھوٹا سا کمرہ جس طرح جاسمین کی خوشبو سے معطر ہے وہی سکون اور عظیم غیر مرئی طاقت کا احساس انہیں درگاہ میں بھی ہوتا ہے۔

یہاں اٹھارہویں صدی سے پھول والوں کی سیر نام کا تہوار منایاجاتاہے جس کا آغاز اٹھارہویں صدی کے شروع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تہذیبوں کی مثبت اقدار کے تبادلے سے شروع ہوا تھا اور اس میں قطبی جیسے لوگ اپنی مذہبی شناخت سے اوپر اٹھ کر دوسرے مذاہب کے عبادت گاہوں میں پھول اور پنکھا چڑھاتے ہیں۔

اس کا آغاز ہندوستان میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے والد اکبر شاہ دوم سے شروع ہوتا ہے جو کہ درگاہ کے پاس ہی مدفون ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب اکبر شاہ دوم کے بٹیش مرزاجہانگرا کو انگریزوں نے قدف کردیا تو ان کی اہلہے نے منت مانگی کی ان کی رہائی پر وہ درگاہ مں چادر چڑھائںو گی۔ شاہی فرمان کے مطابق یوگ مایا مندر مںب بھی پھول چڑھائیگئے۔ اس پروگرام میں عوام نے پورے جوش وخروش کے ساتھ حصہ لاو۔ اس کے بعد سے ہی اسے ہر سال منایا جانے لگا۔

اس کے منتظم اور انجمن سری گل فروشاں کے سکریٹری مرزا محترم بخت کے مطابق برطانوی حکومت کی پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیے کی وجہ سے ملک کے دو بڑے مذاہب کے ماننے والوں مںر اختلافات کی وجہ سے 1940 مںو یہ تہوار بند ہوگاا۔ لکنج ملک کے سب سے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 1961-62مںذ اسے دوبارہ شروع کروایا۔ تب سے اس کا انعقاد لگاتار ہوتا ہے اور اس مںگ دہلی کے لوگ ایک بڑی تعداد مںی شریک ہوتے ہںے۔

آج جب کہ معاشرے مںا پولرائزںیشن کا ماحول بن رہاہیاور ایک دوسرے کے تئںی نفرت کے بجو بوئے جارہے ہںا اور سوشل مڈنیا پر زہر پھلاایا جارہاہے تب آپسی محبت اور بھائی چارہ کا پغا م دینے والے اس تہوار کی اہمتی کافی بڑھ جاتی ہے۔ یہ تہوار ہفتہ بھر چلتا ہے۔

قطبی نے بتایا” جب ہمارے ہندو بھائی درگاہ پر پھولوں کی چادر چڑھانے آتے ہںے تو مسلمان پچھے۔ ہوکر ان کو آگے آنے کے لیا کہتے ہںی۔ اسی طرح دیوی یوگ مایا مندر مںق پھولوں کی چھتری چڑھاتے وقت مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا جاتاہے۔ یہ دلوں کا ملن ہیاور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب لوگوں کے دلوں مںو پاکز گی ہو”۔

قطبی نے یہ بھی کہا کہ ان کی سارے مذاہب کے شد ت پسند لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ کم سے کم ایک بار دوسری تہذیبوں کا تجربہ ضرور کریں۔

مہرولی کے رہنے والے رجنشم جندل 15سال سے اس تہوار مںم حصہ لتیو ہںی۔ ان کے مطابق یہ سارے مذاہب اور ہر طرح کی سوچ رکھنے والے لوگوں سے ایک طرح کا اچھا تعلق استوار کاایک اہم طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ گردوارہ جاتیہںب اور وہاں آپ کو خوشی اور سکون ملتا ہے تو یہ آپ کا مذہب ہے۔ مندر ، مسجد یا چرچ کے ساتھ بھی ییی بات ہے۔ یہ ذاتی عقدیہ کا معاملہ ہے۔
اس مں کوئی حر انی کی بات نہں ہے کہ ‘پھول والوں کی سر ” نامی تہوار کے انعقا د مںو کئی بار رکاوٹوں اور دھمکوقں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بخت کہتے ہی کہ ” لوگ کہتے ہںں کہ تم کرکے تو دکھاؤ، ہم دیکھتے ہں کہ تم کسین کرتے ہو۔’ یہاں ہر کسی کو ایک سکوالر ملک پسند نہںد ہے جہاں سارے مذاہب کا احترام کان جاتاہو۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ راست طور پر کوئی اس کی مخالفت نہںؤ کرتا ہے لکنو بالکل آخر مںن اجازت ملنا اور مختلف حلوطں بہانوں سے مسائل کھڑ نا عام بات ہے۔ “۔

بخت جوکہ پہلے ماہر ارضاوت کے طور پر کام کرتے تھے اور اپنیدہلی کا ہونے پر فخر جتاتے ہںل کا کہنا ہے کہ”ہم اپنے جوش و جذبے سے اس کمی کو پورا کرتے ہںت اور سچ کی ہمشہب جتہ ہوتی ہے۔ وہ ہمارے کارواں کو روک نہں سکتے”۔

پتنگ بازی کے مقابلے، جلوس، کشتی، کبڈی، اور شہنائی کے پروگرام چار دن تک چلتے ہںں۔ پانچویں اور چھٹے دن درگاہ اور مندر مںخ پھول اور چادرچڑھائے جاتے ہںی۔ دلی کے لفٹنٹ گورنر انل بجاول نے جمعرات کو درگاہ مںے پھولوں کی چادر چڑھائی۔ دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ کلا ش گہلوت نے جمعہ کو پھولوں کی چھتری چڑھائی۔ ان لوگوں کے ساتھ دونوں فرقہ کے لوگ شامل تھے۔

پھول والوں کی سرس نامی اس تہوار کا اختتام سنچرں کو 11 ریاستوں کی جھانکیاں نکال کر ہوا اور رات پھر قوالی کا پروگرام چلتا رہا۔
(یہ مضمون آئی اے این ایس اور فرینک اسلام فاؤنڈیشن کے اشتراک سے چلائے گیو ایک خصوصی سلسلہ کا حصہ ہے۔)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *