نیپال اور ہندوستان کے رشتے اتنے ہی قدیم ہیں جتنے ہمالہ اور گنگا / نریندر مودی

آج کہاں ہیں جناب اسے بھی بتادیں

admin

” نئی دہلی : نیپال اور ہندوستان کے رشتے اتنے ہی قدیم ہیں جتنے ہمالہ اور گنگا اگر نیپال میں ذرا ٹھنڈی ہوا چلے تو
سردی کا احسا س ہمیں بھی ہوتا ہے اور اگر سورج کی تمازت بڑھ جائے تو گرمی ہمیں بھی محسوس ہوتی ہے ، ہمارا کام آپ کے کاموں میں مداخلت کر نا نہیں

ہے۔ہمارا ماننا ہے کہ نئے آئین کے ذریعے آپ اپنے لیے جو راستہ طے کریں گے ہم اگر اس میں کا م آسکیں تو کام آئیں آپ کو ہدایت دینا ہمارا کام نہیں ہے۔ البتہ خیا ل رہے کہ کوئی ایسا فل اسٹاپ کام نہ رہ جائے جو آنے والے دنوں میں دشواری کا سبب بنے۔ آپکا آئین صرف نیپال ہی کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہو گا۔ کسی زمانے میں ‘رشیوں نے ویدوں کے ذریعے کیا تھا ،

اب یہ کام آپ کے ذمے آیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نیپال دنیا کو یہ بتائے گا کہ شستروں کو چھوڑ کر شاستروں کے ذریعے بھی زندگیاں تبدیل کی جا سکتی ہیں ، مجھے آپ کے آئین میں یہ طاقت نظر آرہی ہے۔

آپ کے مسقبل کو لیکر جتنی فکر آپ کو ہے اتنی ہی ہمیں بھی ہے ہم اور آپ الگ ہو نہیں سکتے۔ ہمارے لیے سرحد روکاوٹ نہیں بلکہ پل ہونا چاہیے۔ ہمیں یہاں پہونچنے میں سترہ برس لگ گئے لیکن اب یہ وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا “۔

مندرجہ بالا باتیں 3 اگست 2014 کو نیپال کی آئین ساز اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہی تھی۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہند نیپال تعلقات یکسر تبدیل ہوگئے تعلقات کی گرم جوشی کشیدگی میں تبد یل ہو چکی ہے ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ نیپال چین کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے جو ہمارے لیے دشواریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *