صدرجمہوریہ کا خطاب اورکاسگنج کا فساد

سید منصورآغا، نئی دہلی

Asia Times Desk

احوال عالم
صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنے روائتی خطاب میں کچھ بہت اچھی اچھی باتیں کہی ہیں۔ مثلا انہوں نے کہا: 26جنوری 1950کو ہندوستان ایک جمہوریہ بن گیا۔ یہ قومی تعمیر کے عمل کا دوسرابڑاسنگ میل تھا۔پہلا آزادی تھا جو اس سے کوئی ڈھائی سال قبل حاصل ہوگیا تھا۔ اس دن (26جنوری 1950) ’جمہوریہ ہند‘ کا جنم ہوا اوراہل وطن نے سچے معنوں میں مذہب، علاقہ اور فرقہ سے اوپراٹھ کر تمام باشندگان ملک کیلئے مساوات کے اصول کواختیارکرنا تسلیم کیا۔اس اصول نے فرد کو آزادی بخشی جس نے ملک کی آزادی کی تکمیل کردی۔ اسی کے ساتھ تیسرااصول بھائی چارہ کا ہے جو جامع ہے جمہوریہ کومضبوط کرنے میں اورملک کی مطلوبہ تعمیر میں باہمی اشتراک وتعاون کا۔
صدرمحترم نے دوسری اہم بات ، جو موجودہ ماحول پر سخت تنقید ہے، یہ کہی کہ خوش اخلاق اور متواضع ملک وقوم کی تشکیل ہرمحلہ ، ہربستی میں خوش اخلاق ہم سائیگی سے پروان چڑھتی ہے۔ جس میں ہم اپنے جشن کے دوران، اپنا تہوارمناتے ہوئے یا کسی بات پر احتجاج کرتے ہوئے، اپنے پڑوسیوں کے حقوق، ان کی نجی زندگی اورسماج میں ان کی جگہ کالحاظ رکھیں۔ جس میں ہر شخص دوسرے کے نقطہ نظر، عقائد اوراقدار سے، حتیٰ کہ تاریخ کے حوالے سے اختلاف پر اس کی عزت نفس کی تحقیر اور شخصی آزادی کو مجروح کئے بغیر شائستگی کے ساتھ اپنی رائے رکھ سکے۔
صدرجمہوریہ نے کہا کہ خودغرضیوں سے پاک ملک اورقوم کی تشکیل ایسے سماج سے ہوتی ہے جو ذاتی اغراض سے بلند ہوکربے غرضی اورخدمت خلق کو اختیارکرلے۔لا وارث اوربے گھربچوں، بڑوں اورجانداروں کی بھی فکرکرے۔جس میں ہم اجنبیوں کوخون اوراعضاکا عطیہ دیں اوربغیر کسی لالچ کے دوردراز علاقوں میں جاکربچوں کو پڑھائیں تاکہ لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئے۔
اس میں کیا شک ہے کہ ان باتوں میں اخلاق اور کردار کااعلاسبق ہے۔یہی روش ملک کو جوڑکر رکھنے اوراسکی مضبوطی وترقی میں سیمنٹ کا کام کرتی ہیں۔ہم ا ن نصیحتوں کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ خصوصا اس لئے کہ یہ باتیں ہمارے ایک ایسے صدرجمہوریہ نے کہی ہیں جس کا تعلق بھاجپا اورسنگھ سے رہا ہے۔ 72 سالہ جناب کووند 46سال کی عمر میں بھاجپا میں شامل ہوگئے تھے ۔سنگھ سے ان کی والہانہ وابستگی کا عالم یہ ہے کہ کانپورضلع میں اپنا آبائی گھربھی آرایس ایس کو گفٹ کر دیا تھا۔گزشتہ 27سال کے دوران وہ پارٹی کے ترجمان بھی رہے،دلت مورچہ کے صدررہے، 12سال راجیہ سبھا کے ممبر رہے۔بحیثیت قانون داں انہوں نے واجپئی جی کے دورمیں کئی آئینی ترمیمات کی تسوید و تیاری میں اہم رول اداکیا۔ مودی جی برسر اقتدارآئے تو وہ بہار جیسی بڑی ریاست کے گورنر بنائے گئے۔پارٹی کی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے جناب ایل کے آڈوانی اورڈاکٹرمرلی منوہرجوشی جیسے سیاسی مشاقوں اورپارلیمانی امورکا طویل تجربہ رکھنے والی محترمہ سشما سوراج اور رام نائک جیسے لیڈروں کو نظرانداز کرکے صدر جمہوریہ کے منصب کیلئے ان کو منتخب کیا گیا۔ بیشک یہ انتخاب آرایس ایس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوا۔
یوم جمہوریہ کے موقع پر جناب کووند کے اس تاریخی خطاب کا دل کی گہرائی سے خیرمقدم کرتے ہوئے، نہایت ادب سے یہ عرض کرنا ہے یہباتیں بیشک ان کے منصب کے شایان شان ہیں، لیکن یہ سنہرے الفاظ ان نظریات سے میل نہیں کھاتے جس پربھاجپا اوراس کی نظریاتی ماں اوراس کے بغل بچے عمل پیرا ہیں ۔ان کی تاریخ بالکل برعکس ہے۔اِن سے قطعی متضاد نظریات کو زینہ بناکر مسند اقتدارتک پہنچی ہے اور ملک کے دروبست پرپوری گرفت کے باوجود اس کے نظریات و خیالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ تلخی اورسختی بڑھ رہی ہے۔ چوتھائی صدی سے زیادہ عرصہ تک شری کووند جی بھی اسی پارٹی کے ہم سفررہے جو
اس امکان سے انکارنہیں کیا جاسکتاکہ جو باتیں صدرجمہوریہکی زبان سے نکلیں وہ ان کے تجربہ کا نچوڑ اوران کے ضمیر کی آواز ہوں ۔تالیف قلب کوئی اجنبی بات نہیں۔ اگرایسا ہے تونہایت خوش آئند ہے۔اسی دوران بھاجپا کے ایک اورلیڈرکلیان سنگھ نے بھی ایسی ہی باتیں کہی ہیں۔ وہ بابری مسجد انہدام کے وقت یوپی کے وزیراعلا تھے۔انہوں نے کہا ہے، ’سمائی اورتحمل جمہوریت کی روح ہیں۔‘بحیثیت گورنر راجستھان جناب کلیان سنگھ کی اور بحیثیت صدرجمہوریہجناب کووند جی کی یہ منصبی اوراخلاقی ذمہ داری ہوگی کہ ہمارا معاشرہ اورسیاسی وسول حکمرانی مذکورہ قدروں کی طرف پلٹیں جن کوبڑی بے رحمی سے کچلاگیا ہے اورجس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔کیا ہی اچھا دن ہوگا وہ جب ہم آئین میں درج ضمانتوں کے ذکرکرکے خوش نہ ہولیں گے، بلکہ ان کو عملی زندگی اور نظام حکمرانی میں ایسا اجاگرکردیں کہ پوری دنیاکو پتہ چل جائے کہ ہندوستانی معاشرہ کیسامہذب، روادار،ایک دوسرے کا مددگاراورقانون کاپابند ہے اورنظام حکمرانی کیسا انصاف پسند ہے کہ رنگ نسل، خاندان،برادری،مذہب اورخطہ کی بنیاد پر کہیں کوئی تفریق نہیں۔
اس کیلئے نفرت کی نفسیات کو بدلنا ہوگا۔اس انداز بیان اور زبان کوچھوڑناہوگا جوانتخابی ریلیوں کی ہیڈ لائن بن جاتی ہیں۔عوام کی حقیقی ضرورتوں اورمسائل کو کنارے کرکے مندر، مسجد، قبرستان، شمشان، تیج تیوہار اوررمضان کاحوالہ دینا بندکرنا ہوگا۔ مذہبی اورفرقہ ورانہ تعصبات کو ابھار کر اوران سے فائدہ اٹھانے کیلئے جھوٹ کا سہارالینا اور ایک طبقہ سے دوسرے کے دلوں میں نفرت ابھارنے کیلئے اور حزب مخالف کو نشانہ بنانے کیلئے سیاسی بیان بازی میں پڑوسی ملک کو لانا بند کرناہوگا ۔اس دور میں بڑے بڑے منصب داراپنی سیاسی خودغرضی کیلئے جیسی گھٹیا سیاست کر رہے ہیں، باہمی اشتراک وتعاون کی فضا اوردوسروں کے نظریات اور عقائد کے احترام کا تصور ان کا منھ تاکتارہ جاتا ہے ۔مخصوص طبقہ کی لڑکیوں کو جبری اٹھاکرلیجانے کی تلقین کرنے والے منصب پاجاتے ہیں۔ جو کہتاہے قبروں میں سے مردہ خواتین کو نکال کر ریپ کیا جائیگا، ہرمسجد سے بھجن کی آواز گونجائی جائیگی اس کو اعلا منصب پر بٹھادیاجاتاہے۔ایسے ماحول میں جناب کووند کی یہ باتیں، ریگستان میں سراب جیسی لگتی ہیں۔ میدان جنگ میں جیسے کوئی پریوں کی کہانی سنارہا ہو۔
یقیناًایسا سماج جس میں ہرننگے بھوکے کی فکرہو، یتیموں کی خبرگیری ہو،ایک آئیڈیل سماج ہوگا۔ہمارے سارے دھارمک گرنتھ اورراج دھرم کے اصول اسی کی تلقین کرتے ہیں۔ ہمارے آئین کی منشابھی یہی ہے۔ لیکن ہمارے محترم کووند صاحب نے جس پارٹی میں اپنا سیاسی سفرطے کیا ہے، اس میں توطوطی ان کی ہی بولتی ہے جو ان آدرشوں کی پامالی میں شیر ہیں۔جواعلان کرتے ہیں کہ کنول کیچڑ میں ہی کھلتاہے۔
عزت مآب صدرجمہوریہ کے بیان پر ان چندمعروضات کا مقصد تنقید نہیں، بلکہ صورت حال کی شدت کی ایک جھلک پیش کرنا ہے۔ نفرت، خود غرضی اورفاسد افتخار کی جوکتھا تقریباً نوے سال سے سنائی جارہی ہے، اور جو اب بہت سے ذہنوں میں اترچکی ہے اس کا اثرزائل کرنے کے لئے ایک آدھ خطاب کافی نہیں ، بلکہ اس کی مستقل یاددہانی کی ضرورت ہے۔ محترم کووند صاحب جس منصب پرفائز ہیں، اس کے مشوروں کوآسانی سے نظراندازنہیں کیا جا سکتا، بشرطیکہ ان کومیڈیا کی دست بردسے محفوظ رکھا جائے۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ اگلے سال یوم جمہوریہ پرہم جب ان کا خطاب سنیں گے توملک کی سمت سفراس طرف مڑچکی ہوگی جس کی نشاندہی اس خطاب میں کی گئی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اس سمت جو بھی قدم اٹھے گا اس میں، ساری اقلیتیں، مسلم ، سکھ ، عیسائی، پارسی ، جین اورکیوں نہیں ہمارے راجپوت بھائی بھی جن کی تعداد بمشکل ایک فیصدہے، اس قافلہ میں ذوق وشوق سے شامل ہونگے۔
کاسگنج کا فساد
صدرجمہوریہ کا یہ خطاب 25جنوری کی شام کو ہوا۔ ریڈیواورٹی وی پر لائیو بھی آیا اورپھر خبروں میں آتا رہا۔ لیکن افسوس کہ 26جنوری کی صبح ایک منصوبہ بندسازش کے تحت یوپی کے قصبہ کاسگنج میں ہندتووافرقہ پرستوں نے ایک سیاسی کھیل کھیلا اورشہر پر فساد مسلط کردیا۔ جس وقت مسلم علاقے میں واقع عبدالحمید تراہے پر محلیوالے ترنگالہرارہے تھے، اے بی وی پی، وی ایچ پی وغیرہ تنظیموں کے لوگ موٹر سائکلوں پرجلوس کی صورت میں آدھمکے۔ انہوں نے ترنگے کی جگہ جبری بھگواجھنڈا چڑھانے کی کوشش کی جس کی ویڈیو عام ہوچکی ہے۔گالیاں بکیں،توہین آمیز نعرے لگائے اوراس تقریب کو درہم برہم کردیاجومقامی مسلم باشندے یوم جمہوریہ پر منارہے تھے۔ایک مدرسہ میں پہنچ گئے جہاں اس وقت ترانہ ہندی ’سارے جہاں سے اچھا‘ گایا جا رہا تھا۔ وہاں بھی انہوں نے شر پھیلایا اوردھمکی دی کہ بھگوالہراؤ، وندے ماترم گاؤ۔ اسی دوران ایک نوجوان کی ناگہانی موت ہوگئی جو اس غیرقانونی جلوس میں موٹرسائکل پر سوار تھا۔ دودیگرلڑکے بھی اس کی بائک پر تھے اورنعرے لگارہے تھے۔ ان ہڑدنگوں کاایک اورویڈیو آیا ہے جس میں ایک شخص کے ہاتھ میں پستول جیسی چیز ہے۔ ویڈیو میں گولی چلنے کی آواز بھی قیدہے۔ اگرچہ اس کے قتل کے الزام میں پولیس نے دیگرفرقہ کے لوگوں کو ملوث کیا ہے، لیکن خبریہ ہے کہ وہ اپنے ہی فرقہ کی طرف سے چلائی گئی گولی سے مرا۔ وی ایچ پی اوراے وی بی پی کا یہ تانڈوتین دن تک چلتارہا، دوکانیں، کاریں اوربسیں جلتی رہیں اورپولیس وضلع انتظامیہ کوئی موثررول ادانہیں کر سکا۔ سارے خفیہ ذرائع سوگئے۔ سازش کا پہلے سے پتہ ہی نہیں چلا۔ بہرحال جب گورنر رام نائک نے اس واقعہ کو ریاست پر اک کلنک بتایا تویوگی جی کی آنکھ کھلی۔
یہ سارے فسادی ، جنہوں نے بھگواجھنڈالے کر غندہ گردی کی اسی تنظیم کے بغل بچے ہیں جس کی مرکز اور ریاست میں سرکاریں ہیں۔دہلی میں بیٹھے ہوئے ایک مرکزی وزیر فسادیوں کے حمایت میں بیان دے رہے ہیں۔ افسوس کہ صدرجمہوریہ جناب رام ناتھ کووندجی کی آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچی۔ کاش کے وہ سنتے اوران مشوروں کو قبول کرتے۔ سچائی یہ ہے کہ ہندتووا کے نظریہ سازوں نے فرقہ پرستی کا جو زہرذہنوں میں گھول دیاہے، اورجس طرح ایک طبقہ رواداری اوربھائی چارہ کی ہزاروں سال پرانی روایتوں کوترک کرکے خون خرابے اور غیرمہذب طریقوں پر اتر آیا ہے، اس کا اثرایک دوخطاب سے جانے والا نہیں۔
کاسگنج سے جو خبریں آئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے یہ کرتوت مٹھی بھرلوگوں کا ہے جو دیش کے سچے وفادارہونے کا ناٹک کرتے ہیں ۔ اقلیتی فرقہ نے اس کاجواب صبروتحمل سے دیا ہے حالانکہ ان کا جھنڈاسلامی کا پروگرام قانون کے دائرے میں تھا ، جب کہ ریلی ، جس کا نام مغالطہ دینے کیلئے ترنگا ریلی رکھا گیا تھا، قطعی غیرقانونی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے ہرمحاذ پر سرکارکی ناکامیوں سے مایوس ہوکر یہ لوگ پھرفتنہ وفساد کا سہارا لینا چاہتے ہیں تاکہ اگلا چناؤ ہارنے نہ پائیں۔ افسوس کہ اپوزیشن ابھی تک بیدارنہیں ہوا ہے۔
syyedagha8@gmail.com
cell: 981868677

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *