بھائیو بہنوں ! 2019 تک دیش کو  پرنجوائے ،رویش ،ونود،پرسون،ابھیسار، کھناڈٰیکراور وشودیپ جیسوں سے پاک کر نا ہے   

جو لوگ یو پی ا ے  حکومت میں  رابرٹ ؤاڈرا اور حکومت کے مابین قربت کو ہدف تنقید بناتے تھے اب مکیش امبانی کی جیو یونیورسٹی اور پے ٹی ایم کے برانڈ ایمبیسڈر کے کردار میں نظر آتے ہیں

Asia Times Desk

اشرف علی بستوی

دو اگست کی شام خبر آئی کہ اے بی پی نیوز نے اپنے تین قابل صحافیوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے ابھیسار شرما کو جبرا تعطیل پر بھیج دیا گیا ہے، پنیہ پرسون باجپائی سے استعفیٰ طلب کر لیا گیا اور ادارتی شعبے کے ذمہ دار ملند کھانڈیکر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا ۔ یقینا یہ خبر ان تمام لوگوں کے لیے افسوس ناک تھی جو ہندوستان کو دنیا کے نقشے پر ایک جمہوری قدروں والا دیکھنا چاہتے ہیں،جو اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ یہاں آئین کی حکمرانی قائم و دائم رہے جو اختلاف کو مخالفت سے تعبیر نہیں کرتے بلکہ اختلاف رائے کا مکمل احترام کرتے ہیں ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی  ترقی سبھی ہندوستانیوں کو ساتھ لیکر چلنے میں ہے ۔ لیکن ہمارے درمیان ایک ایسا طبقہ وجود میں آچکا ہے جو ملک کو ایک  خاص رنگ میں رنگ دینے  میں یقین رکھتا ہے یہ لوگ اس فیصلے سے کافی خوش ہونگے ۔ یہ وہ لوگ ہیں  جن کے نزدیک مودی حکومت سے سوال  و جواب کرنا ملک کی توہین کرنا ہے۔

یاد کیجے یہی لوگ یو پی اے کے آخری ایک سال میں سوال سے آگے پروپیگنڈہ کی حد تک یو پی اے  حکومت کو گھیرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے ۔ پے درپے گھپلوں کے انکشافات ہورہے تھے اور منموہن سنگھ حکومت مشکل میں پھنستی جارہی تھی ۔ بی جے پی اور نریندر مودی ملک بھر میں ریلیوں کے ذریعے ملک کو یہ باور کرارہے تھے کہ بھائیو بہنو ! آپ کو اس بدعنوان حکومت سے نجات ہم دلائیں گے آپ کے اچھے دن ہم لائیں گے ۔ لیکن ساڑھے چار سال گذرجانے کے بعد بھی جب ہندوستانیوں کےاچھے دن نہیں آئے تو سوال اٹھنا فطری تھا ، چنانچہ یہی ہوا انتظار کی گھڑی ختم ہوئی میڈیا اور سوشل میڈیا کے کچھ حلقوں کی جانب سے سوالات پوچھنے کا جو سلسلہ رویش کمار اور ونود دوا ،

پرنجوائے گوہا ٹھاکرات نے شروع کیا تھا اس قافلے میں وقت کے ساتھ کچھ اور اہم نام منسلک ہوتے گئے  بہت جلداس فہرست میں  اے بی پی  نیوز کے ابھیشار شرما ، پنیہ پرسون باجپائی کا نام بھی شامل ہو گیا ،پرسون نے اے بی پی نیوز میں ‘ماسٹر اسٹروک’ شروع کیا اور حکومت کی ابتک کی کارکردگی انتخابی وعدوں اوردعووں پراہم سوالات پوچھنے شروع کیے ۔ ابھیشار شرما نے اپنے پروگراموں میں ملک میں دن بدن پھیلتی بدامنی پر سوالات اٹھانا شروع کیا ، لیکن بہت جلد ابھیسار کولگا کہ انہیں یہاں سوال کرنے کی مکمل آزادی نہیں مل سکتی تو انہوں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا اور یہاں سے اہل قتدار تک پہونچنے کی کوشش کرتے رہے ۔

حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ یو پی ا ے  حکومت میں  رابرٹ ؤاڈرا اور حکومت کے مابین قربت کو ہدف تنقید بناتے تھے اب مکیش امبانی کی جیو یونیورسٹی اور پے ٹی ایم کے برانڈ ایمبیسڈر کے کردار میں نظر آتے ہیں ۔ اور اگر کوئی اس تعلق کی نوعیت جاننا چاہے تو معتوب قرار دے دیا جاتا ہے  آخر یہ لوگ اپنی ناکامیوں کے انکشاف سے اس قدر برہم  کیوں ہیں ؟ کسی بھی جمہوریت میں عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لیے ہوتی ہے ، یہاں یہی ہوگا کہ آئندہ اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن اظہار برہمی یہ بتاتی ہے کہ کسی خفیہ منصوبے کی ناکامی کا ڈر ستا رہا ہے ۔ اسی لیے میڈیا پر سخت پہرہ لگانے کی پوری تیاری ہے ۔

اس کا شکار سب سے پہلے ‘اکومنک اینڈ پولیٹیکل ویکلی’ کے ایڈیٹر پرنجوائے ٹھاکرات بنائے گئے ۔ پرنجوائے کا قصور بس اتنا تھا کہ انہوں نے  ادانی  گروپ کے  خلاف اسٹوری  پبلش  کر دی تھی  جس پر  گروپ نے  نوٹس بھیج دیا تھا .  بورڈ نے پہلے تو ان پر دباو ڈالا کہ وہ اسے اپنے پورٹل سے ہٹا دیں لیکن جب پرنجوائے نے ایسا کرنے سے منع کر دیا تو انہیں مستعفی ہونے کے لیے مجبور کیا گیا۔

اسی طرح کے دباو کا شکار زی  نیٹ ورک کے نوجوان صحافی وشو دیپک بھی ہوئے انہوں نے فروری 2016 میں استعفیٰ دے دیا اور لکھا کہ انہیں جے این یو تنازعے کی ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کرنے کو مجبور کیا جاتا تھا جسے میرے ضمیر نے تسلیم نہیں کیا ۔ انڈیا ٹی وی کے ایک سینئر ایڈیٹر نے ایسے ہی دباو میں استعفیٰ دے دیا تھا ۔ این ڈی ٹی وی پر دباو بنانے کی  مستقل کوشش جاری ہے ۔

  رویش کماراپنی بے باک صحافت کی وجہ سے سوشل میڈیا پرمستقل نشانے پر ہیں ، فاشزم کے نظریے میں یقین رکھنے والوں کا گروپ ایسی آوازوں کو ہمیشہ کے لیے دبا دینا چاہتا ہے ۔ اس ہفتے تین اور صحافیوں کو حکومت سے سوال پوچھنے کی قیمت چکانی پڑی ۔ ایسی صورت حال تو اس وقت بھی نہیں ہوئی تھی جب بابری مسجد کو شہید کیے جانے کی مہم چلائی جا رہی تھی ۔ افسوس ناک ہے کہ ایسے بڑے واقعے کے بعد میڈیا اداروں میں مجرمانہ خاموشی دیکھی گئی ۔

مذہب کی تبدیلی ، لو جہاد ، گھر واپسی ، گائے کا تحفظ جیسی بے مقصد ایشوز پر مستقل مباحثے نشر کرنے والا میڈیا خاموش کیوں ہے؟ کیا یہ ایشو ایسا نہیں تھا جس پر بحث کی جا ئے ۔ یہ لوگ تب بھی چپ رہے جب پرنجوائے ٹھاکرات کو نکالا گیا ، یہ لوگ اس وقت بھی چپ تھے  جب کوبراپوسٹ  کا اسٹنگ سامنے آیا تھا ، میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس وقت بھی خاموش رہا جب رعنا ایوب کی کتاب ‘گجرات فائلس ‘ کا دہلی میں افتتاح ہوا اجرا کی خبر تک دینے کی ہمت نہ کر سکے ۔

صحافیوں کو بے دخل کیے جانے کے  تازہ واقعے پر ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا اور براڈ کاسٹ ایڈیٹرس ایسو  سی ایشن بھی ابھی تک چپ ہے۔ اور سب سے اہم یہ ہے کہ ملک خاموش ہے ۔ کیا یہ خاموشی سمندری طوفان سے قبل کی خاموشی ہے۔ آج یہ جو کچھ ہو رہا ہے اور عوام خاموش رہتے ہیں تو یہ جان لیں کہ مستقبل میں آنے والی حکومتوں کو عوام کے ستھ زیادتی کرنے کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں ۔  ہم طے کریں مستقبل میں کس طرح کی جمہوریت چاہتے ہیں ؟

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *