پوروانچل میں موسلا دھار بارش، کسانوں کے چہروں پر رونق

Asia Times Desk

لکھنؤ: مشرقی اتر پردیش میں ہفتہ کے روز مانسون نے دستک دے دی ہے، جہاں متعدد علاقوں میں موسلا دھاربارش ہونے سے لوگوں کو شدید گرمی سے راحت ملی، وہیں کسانوں نے دھان کی فصل کے لئے تیاری شروع کر دی۔

گورکھپور، بلیا،  بستی ، سنت کبیر نگر چندولی اور دیوریا سمیت مشرقی اتر پردیش کے متعدد علاقوں میں دیر رات سے جاری بارش کا سلسلہ دوپہر بعد تک جاری رہا۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں دس ڈگری سلسیس تک کی گراوٹ درج کی گئی اور موسم سہانا ہو گیا۔ تاہم، پہلی بارش میں ہی میونسپلٹی اور کارپوریشنوں کی پول کھل گئی جب گٹر ابلنے سے گندا پانی گھروں میں داخل ہو گیا اور بہت سے علاقے ٹاپو کی شکل میں تبدیل ہو گئے۔

لکھنؤ میں واقع موسمیات مرکز کے ڈائریکٹر جے پی گپتا نے کہا کہ مانسون نے مشرقی اتر پردیش میں دستک دے دی ہے۔ اگر سلسلہ کمزور نہیں پڑتا ہے تو اگلے 48 گھنٹوں میں پورے اتر پردیش کےاس کی گرفت میں آنے کے آثار ہیں جس سے مغربی علاقوں میں بھی تیز آندھی اور گرج کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں بلیا میں 2.97ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ غازی پور میں 54 ملی میٹر، گورکھپور میں 17 ملی میٹر اور چورک میں 11.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ بنارس، الہ آباد، بستی، بریلی اور ہمیر پور سمیت کئی دیگر علاقوں میں برسات نے امس میں اضافہ کیا۔ اس عرصے میں گورکھپور کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی درج کی گئی، جہاں دن کا درجہ حرارت 25 ڈگری کے قریب آ گیا جو معمول سے 10 ڈگری کم تھا۔

دیوریا سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دیر رات سے مسلسل 16 گھنٹے کی بارش نے میونسپل کونسل کے دعووں کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔ شہر میں جہاں کئی مقامات پر پانی کا جماؤ دیکھنے کو ملا وہیں کوتوالی احاطے، رام ناتھ دیوریا، دیوریا خاص، لکڑی دیوریا جیسے پرانے محلوں میں پانی جمع ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *