یو پی ایس سی امتحان میں شریک ہونے کے خواہش مند طلبا  کے لئے تشویش ناک خبر؛ اس سال سیٹوں میں کی گئی ریکارڈ کمی

اس سال سیٹوں میں کی گئی ریکارڈ کمی ، طالب علم تیاری سے فرصت پا کر ہندو مسلم کھیل کے لئے ہونگے  دستیاب

Asia Times Desk

رويش کمار

نئی دہلی : 2018  میں یو پی ایس سی کے امتحان کے لئے سیٹوں کی تعداد چھ سال میں سب سے کم ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں طالب علم تیاری سے فرصت پا کر ہندو مسلم کے لئے دستیاب ہوں گے. اس معنی میں سیٹوں کی تعداد میں یہ تاریخی کمی خوش خبری ہے.

2018 کی یو پی ایس سی امتحان کے لئے نوٹیفکیشن آ گیا ہے. 782 سیٹوں کے لئے امتحان ہو رہا ہے. 2017 کے مقابلے میں 198 سیٹیں کم ہیں. یہ گزشتہ چھ سال میں سب سے کم ہے. آئی اے ایس آئی پی ایس کی تعداد کم ہو رہی ہے تو سوچئے باقی افسران کی تعداد میں کس سطح اور رفتار سے کٹوتی ہو رہی ہو گی.

2017 کی یو پی ایس سی کے امتحان کے لئے 980 سیٹیں تھیں. 2016 کے مقابلے میں 99 سیٹیں کم تھیں. تب کہا گیا تھا کہ پانچ سال میں سب سے کم نشستیں نکلی ہیں.

2016 کی يوپی ایس سی کے امتحان کے لئے 1079 سیٹیں رکھی گئیں تھیں.

2015 میں یو پی ایس سی کے امتحان کے لئے 1129 سیٹیں تھیں.

2014 میں یو پی ایس سی کے امتحان 1299 سیٹیں تھیں.

اس دوران نئی ریاستیں وجود میں آ ئیں  ، نئے نئے شعبے بنے، نئی اسکیمیں آئیں اس کے بعد بھی افسران کی سیٹوں میں کمی ہو رہی ہے. پھر کیوں آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران کی تعداد کم ہو رہی ہے؟ سوچئے، باقی سطح کے افسران کی تعداد میں کس رفتار میں کمی ہو رہی کریں گے.

کون خوش خبری کہنا چاہے گا مگر کیا کیا جا سکتا ہے. یہ افسوسناک ہے. سیٹوں کی مسلسل گھٹتی تعداد پر طنز کیا ہے. پورا ملک ہندو مسلم موضوع  پر بحث کرنے میں مصروف ہے. نشے کی طرح لوگوں کو مزہ آرہا ہے. ان سب کا فائدہ اٹھا کر روزگار کم کیا جا رہاہے. نوکریوں میں عدم تحفظ کا اضافہ ہو رہا ہے. گھٹتی نوکریوں کے درمیان چینلز پر ہندو مسلم ٹاپک کی بھر مار بتاتی ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے ہی جیسے کہہ دیا ہو کہ ہمیں صرف ہندو مسلم موضوع چاہئے. نہ کام چاہئے نہ سیلری چاہئے.

نوجوانوں، آپ کے لئے دکھ ہو رہا ہے. پر کیا کر سکتا ہوں. ریلوے کے طالب علموں کے لئے عمر کی حد 30 سے کم کرکے 28 کر دی گئی. آپ اپنے آپ امتحانوں کے خیمے میں بٹے رہو. تمام امتحانات میں نوجوان اپنے اپنے خیمے میں بٹے ہوئے ہیں. کوئی کسی کے لئے نہیں بول رہا ہے. ریلوے والے صرف اپنے لئے بول رہے ہیں، کمپیوٹر آپریٹر والے ریلوے کے لئے نہیں بول رہے ہیں، دونوں مل کر تعلیم دوستوں کے لئے نہیں بول رہے ہیں، ان میں سے کسی کے لئے یو پی ایس سی والے نہیں بول رہے ہیں. لیکن ہندو مسلم ٹاپک دے دو، سب مل کر بولیں گے. اچھا ہے کہ کچھ طالب علموں کو بات سمجھ آ رہی ہے کہ اس کے بہانے پردے کے پیچھے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے مگر اب بھی یہ نشہ اترا نہیں ہے.

جب نوجوان مذہب کے افیون میں ڈوبا ہو تو تب وہ وقت لیڈر بننے کا سنہری دور ہوتا ہے. فرضی بات ہی کہنی ہوتی ہے، لوگ لپک کر گٹكنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں. اب یہ فراڈ لیڈر آپ کو لیکچر بھی دیں گے کہ روزگار دینے والے بنیں. مانگنے والے نہیں. تو پھر خود منتری و  سنتري بننے کے لئے کیوں مارا ماری کر رہے ہیں، کیوں وزیر بن رہے ہیں، کیوں رہنما بن رہے ہیں، کیوں ممبر اسمبلی بن رہے ہیں؟ خود حکومت میں رہنے کے لئے تین سو جھوٹ بولیں گے اور آپ کو اخلاقی تعلیم دیں گے کہ سرکاری نوکری کیوں مانگ رہے ہو. اس لیے کہا کہ خوش رہو کہ نوکریاں کم ہو رہی ہیں. حکومت کو نوکری دینے والا  بننے کا موقع دے رہی ہے اور میڈیا آپ کو ہندو مسلم ٹاہک دینا چاہتا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *