عالمی شہرت یافتہ غیر منقوط شاہکار تصنیف ‘داعی اسلام ‘ کے مصنف ماہنامہ نقوش حیات کے ایڈیٹر مولانا صادق بستوی کا انتقال

ان کی نماز جنازہ  آج شام 4 بجکر 15 منٹ ہر ان کے آبائی وطن دریا آباد میں ادا کی جائے گی

Asia Times Desk

سنت کبیر نگر / نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/ اشرف علی بستوی  ) عالمی شہرت یافتہ غیر منقوط شاہکار تصنیف ‘داعی اسلام ‘ کے مصنف ماہنامہ نقوش حیات کے ایڈیٹر مولانا صادق بستوی کا اب سے کچھ دیر قبل دوران علاج انتقال ہوگیا ۔  یہ اطلاع ان کے صاحبزادے احمد جمال و صحافی  پرویز اختر  نے ایشیا ٹائمز کو دی ہے ۔  نماز جنازہ  آج شام 4 بجکر 15 منٹ ان کے آبائی وطن دریا آباد میں ادا کی جائے گی ۔

مولانا کا تعارف ہندوستان کے اہم علمی، صحافتی و سماجی شخصیت کے طور پرتھا۔ مولانا کی خدمات کا دائرہ ، صحافت ، سیاست ، سماجی خدمت سمیت کئی میدانوں پر مشتمل ہے ۔  وہ انتہائی باکمال ، خلیق انسان تھے ۔ اصول پسند ی ان کی زندگی کا سرمایہ تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی بھر وسائل کے مسائل کا سامنے کرتے ہوئے ماہنامہ ‘نقوش حیات’ لہرولی بازار سے پابندی سے نکالتے رہے ۔

مولانا صادق بستوی 15اپریل 1936 کو ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپر دیش کے ضلع سنت کبیرنگر (سابق بستی) کے موضع دریاباد کے ایک غریب کنبے میں پیدا ہو ئے ۔صادق بستوی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی۔ فارسی وابتدائی عربی تعلیم مدرسہ دینیہ مونڈا ڈیہہ بیگ بستی میں حاصل کی۔ پھر متوسطات کی تعلیم کے لیے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ، یوپی کا رخ کیا اور وہاں کے ماہر اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند گئے اور وہاں سے 1955 میں فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے وہیں سے دورہ تفسیر کیا۔ دارالعلوم دیوبند  میں انھوں نے مولانا حسین احمد مدنی، علامہ ابراہیم بلیا ور اور ملا بہاری وغیرہ جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ انھوں نے پنجاب پونیورسٹی سے مولوی فاضل، پوپی بورڈ الہ آ باد سے فاضل معقولات، لکھنؤ یونیور سٹی سے فاضل تفسیر اور جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا صادق علی قاسمی بستوی نے میدان عمل میں قدم رکھا۔ شروع میں درس وتدریس کا پیشہ اختیار کیا۔1966 میں صادق بستوی نے لہر ولی بازار میں خالد کمال اشاعت گھر کی بنیاد رکھی اور تصنیف وتالیف کا کام شروع کیا۔ یہاں صادق بستوی نے اپنا مجموعہ کلام م’ نقوش زندگی‘ بچوں کی نظموں کا مجموعہ ’گلدستہ‘ ’صنف نازک کے لیے دعوت فکر ‘ ’ نماز کیاہے‘؟ ’رمضان کی باتیں ‘ دوسرا مجموعہ کلام’ تب وتاب ‘ کہانی’ مظلوم شہزادہ‘ ’قبر پر اذان ‘ عربی کتاب’مرقات‘ کی شرح ’تشریحات علیٰ المرقات‘ عربی کتاب ’تعریف الا شیاء‘ کی شرح’ تسہیل الآلہ‘ ’ ریاض الصرف ‘ ’ریاض النحو‘’ میزان منشعب ‘منظوم’ عبد اللہ بن سلام بحضور سید خیرالا نام‘ یعنی کل چودہ کتابیں لکھیں اوراپنے اشاعتی ادارے ’خالد کمال اشاعت گھر‘ سے شائع کیں۔ یہ کتابیں کافی مقبول ہوئیں اور کئی کتابوں کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ ’خیر المفہوم‘ شرح سلم العلوم ’ چار ستارے ‘ ’ چاند کی شرعی حیثیت‘ اور’ داعئی اسلام‘ غیر منقوط (نثر )آپ کی کتابیں ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ مولانا نے صحافت کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا۔ انھوں نے روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی، روزنامہ مشرقی آواز گور کھپور، روز نامہ قومی آواز، لکھنؤ کے نامہ نگار کی حیثیت سے صحافتی خدمات انجام دیں۔ گورکھپور سے روزنامہ’ راپتی‘ نکلا تو اس کے ایڈیٹر بنائے گئے۔ انھوں نے اپناایک رسالہ’ نقوش حیات‘ کے نام سے نکالا جو عوام میں کافی مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ ان کو آل انڈیا ریڈیوگورکھپور سے بھی پروگرام کیے۔ ریڈیو پران کے پروگرام مولانا آزاد اور سیکولرازم، ادب وصحافت کا رشتہ، مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب (مباحثے) کفایت شعاری کا میاب زندگی، بہادر شاہ ظفر : نغمہ خواں اجالوں کے ،جنگ آزادی میں علما کا حصہ، مجاہد آزادی مولانا رحم اللہ دریابادی، اردو رسائل کا مستقبل، فلسفۂ صدقۂ فطر، اردو مجلات اور ان کے مدیر، قرآن امن عالم کا داعی (مقالات ) اور میرا پیارچمن: خلیل آباد (فیچر) کافی مقبول ہوئے۔

مولانا سے متعلق یہ مضمون بھی پڑھیں 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *