بہارکے روپولی میں دس گاﺅں کے شرپسندوں کواکٹھاکرکے مسلم گھروں پر حملہ کی مکمل منصوبہ بندی ، کئی اور بستیاں نشانے پر

محمد قیصرصد یقی کی رپورٹ

Asia Times Desk

سیتامڑھی :  در گا پوجا کے موقع پر بہار میں اکثریتی فرقہ کی جانب سے شروع ہونے والاحملہ رکنے کا نام نہیں لے رہاہے ،سیتامڑھی اور دیگر اضلاع میں ہوئے بھیانک فساد کے بعد اب شیوہر کے حالات کشید ہ ہوچکے ہیں اورملت ٹائمز کو معتبر ذرائع سے یہ خبرملی ہے کہ وہاں کے روپولی گاﺅں میں کئی بسیتوں کے شدت پسند ہندﺅوں نے ملکر حملہ کی مکمل منصوبہ بندی کررکھی ہے ۔
ملت ٹائمز کے نمائندے کے مطابق شیوہر ضلع کے رپولی گاﺅں میں گذشتہ کئی دنوں سے تناﺅ کا ماحول بنا ہواہے اور اکثریتی فرقہ کی جانب سے مسلمانوں پر حملہ کی تیاری ہوچکی ہے جس میں تیلی اور ملاح برادری کے لوگ سب سے آگے ہیں جبکہ راجپوتوں کی خاموش حمایت حاصل ہے ۔26 اکتوبر سے وہاں رام نومی کا میلہ شروع کیاگیاہے جس میں علاقے کے دس گاﺅں کے انتہاءپسند نوجوانوں کو بلایاگیاہے اور وہ سبھی روزانہ مسلم محلوں اور مسجد کے پاس جاکر جے شری رام اور مسلم مخالف نعرے لگارہے ہیں ۔اس سے قبل جمعہ کو عین نماز کے وقت تقریبا دو ہزار کی بھیڑنے مسجد کے پاس جمع ہوکر تلوار اور لاٹھی چلاتے ہوئے جے شرام ،مسلمانوں جاﺅ پاکستان کا نعرہ لگایا ،مسلمانوں نے نماز کے بعد مسجد کے اندر خاموشی اختیار کرلی ،تقریبا ایک گھنٹہ تک اسی طرح تناﺅ کا ماحول رہاہے جس کے بعد داروغہ نے آکر شرپسندوں کو پیچھے ہٹایا ۔روپولی بیلسنڈ حلقے میں آتاہے،سیتامڑھی اور شیوہر ضلع کی سرحد پر یہ گاﺅ ں واقع ہے ۔ یہاں تقریبا 60 گھر مسلم آبادی ہے بقیہ ہندوآبادی ہے ،آس پاس کے گاﺅں میں بھی ہندﺅوں کی اکثریت ہے ،رپولی کے علاوہ جعفر پور ،ایکتا اور دیگر گاﺅں کے حالات بھی کشیدہ ہیں ۔
رپولی گاﺅں کے ایک اور شہری نے ملت ٹائمز سے بتایاکہ تیلی اور ملاح برادری کے لوگ سب سے آگے ہیں اور سب زیادہ ماحول خراب باہر لوگوں کو بلانے کی وجہ سے ہواہے ۔ان لوگوں کی منصوبہ بندی ہے کہ بھسان کے دن حملہ کیا جائے ،اندرون خانہ یہ بھی پلاننگ ہے کہ پہلے اس گاﺅں میں کیا جائے اس کے بعد دوسرے گاﺅں کو ٹارگٹ کیا جائے ۔مسلمانوں کی طرف سے مکمل خاموشی ہے،کسی بھی طرح کے ردعمل سے گریز کیا جارہاہے ،ماحول اتنا کشیدہ ہے کہ اگر ذرہ برابر بھی ردعمل ہواتو بھیانک فساد ہوجائےگا ۔پولیس او رانتظامیہ ہمار امکمل طو پر ساتھ نہیں دے رہی ہے ۔ مسلسل شکایت کے باوجود ماحول کو سدھارنے میں دلچسپی نہیں دکھارہی ہے ۔
سیتامڑھی کے ڈی ایس پی وکاس ورمانے ملت ٹائمز کے فون پر پہلی لاعلمی کا اظہار کیا تاہم کچھ ہی دیر بعد انہوں نے فون کرکے کہاکہ یہ معاملہ رپولی گاﺅں کا جو شیوہر ضلع میں آتاہے البتتہ بیلسنڈ بلاک میں ہے جو سیتامڑھی ضلع کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے کیلئے آپ شیوہر ایس پی اور ڈی ایس پی سے بات کریں ۔بیلسنڈ کے ڈی ایس پی نے اس معاملے کو سرے سے افواہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے یہ محض افواہے اور سوالوں کا جواب دیئے بغیر ہی اس نے فون کاٹ دیا ۔
بیلنسنڈ سے ایم ایل اے رانا رندھیر سنگھ نے ملت ٹائمز سے بتایاکہ جمعہ کو اکثریتی طبقہ کی جانب سے ماحول خراب کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس پر قابو پالیاگیا،پولس اور فوج تعینات ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائے گا ۔انہوں نے اعتماد بھرے لہجے میں کہاکہ شروع دن سے ہماری پورے معاملے پر نگاہے ،ابھی ہم ڈی ایم کے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ،سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے اور کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ پر مارلے ۔دوسری طرف آر جے ڈی کے ایم ایل اے ابودجانہ نے ملت ٹائمز سے بتایاکہ سیتامڑھی اور دیگر اضلاع میں ہونے والے تمام فساد ات حکومت کی مرضی سے ہوئے ہیں ۔2019 کا الیکشن این ڈی اے فساد کراکر لڑنا چاہتی ہے اور اسی لئے یہ سب کرایاگیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے ہنگامے سے یہ فساد مزید بھڑ ک سکتاہے اس لئے ہم لوگ عوامی سطح پر زیادہ احتجاج کرنے کے بجائے قانونی طور پر اسے ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔اسمبلی ہاﺅس میں ہم اس پر حکومت کو گھیریں گے۔
واضح رہے کہ سیتامڑھی کے ہندو اکثریتی علاقے میں اکثر وبیشتر اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ابھی سیتامڑھی شہر سے متصل چند گاﺅں میں ایک ضعیف مسلمان کو زندہ ذبح کرکے جلا دیاگیاتھا ،اس کے علاوہ پانچ کو مار دیاگیا ،دسیوں لوگ زخمی ہیں اورلاکھوں کی املاک لوٹ لی گئی تھی ۔ملزمان کے خلاف اب تک کوئی کاروئی نہی ہوسکی ہے

بہ شکریہ ملت ٹائمز ڈاٹ کام 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *